جموں//ملک میں اعلیٰ تعلیم میں تبدیلی لانے میں نئی تعلیمی پالیسی کو موثر طور لاگو کرنے سے متعلق لفٹینٹ گورنر منوج سنہا نے کئی اہم تجاویز پیش کیں ۔ لفٹینٹ گورنر اعلیٰ تعلیمی شعبے میں تبدیلی لانے میں نئی تعلیمی پالیسی 2020 کے کردار پر گورنرز کانفرنس سے خطاب کر رہے تھے ۔ کانفرنس میں صدر ہند شری رام ناتھ کوند اور وزیر اعظم نریندر مودی بھی موجود تھے ۔ اس کے علاوہ مرکزی وزیر برائے تعلیم شری رومیش پوکھڑیال ، مختلف ریاستوں اور یو ٹیز کے گورنر اور لفٹینٹ گورنر ، مختلف ریاستوں کے وزرائے تعلیم ،نئی تعلیمی پالیسی کی ڈرافٹنگ کمیٹی کے چئیر مین ، مختلف یونیورسٹیوں کے وائس چانسلر اور ریاستوں کے متعلقہ افسران کانفرنس میں موجود تھے ۔ بچوں کی مربوط ترقی کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے لفٹینٹ گورنر نے غیر نصابی سرگرمیوں جیسے این ایس ایس ، این سی سی ، کھیل کود ، موسیقی وغیرہ کو نصاب کا حصہ بنانے پر زور دیا ۔ لفٹینٹ گورنر نے مزید کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی 2020 کو تبھی موثر طور لاگو کیا جا سکتا ہے جب تعلیمی اداروں کو اُن کی ضرورت کے مطابق اساتذہ کی آسامیوں کی تنظیمِ نو کی اجازت دی جائے گی ۔ لفٹینٹ گورنر نے درس و تدریس کے عمل سے متعلق طلاب کی آراء طلب کرنے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت پر زور دیا ۔اپنے خطبے کے دوران لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ ہماری ترجیحات پالیسی سازی میں رہنمائی کرتی ہیں اور ہماری پالیسی سازی ہماری قسمت کا فیصلہ کرتی ہیں ۔ انہوں نے وزیر اعظم ہند اور حکومت ہند کو نئی تعلیمی پالیسی منظور کرنے کیلئے مبارکباد پیش کی جس نے 34سالہ پرانی تعلیمی پالیسی کو تبدیل کیا ۔ انہوں نے وزارت برائے ترقی انسانی وسائل کا نام تبدیل کر کے اسے وزارت تعلیم رکھنے پر بھی مبارکباد پیش کی ۔ انہوں نے کہا کہ ’’ میری ذاتی رائے ہے کہ تعلیم تبدیلی کا ایک طاقتور ہتھیار ہے اور جب تعلیم انسانی ترقی کی رہنمائی کرے تو انسان وسائل نہیں بلکہ سماج کیلئے اثاثہ بن جاتے ہیں ‘‘۔ لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ تعلیم کلہم طور انسانی ضمیر کی ترقی پر توجہ مرکوز کرتی ہے جبکہ ترقی انسانی وسائل کے ضمن میں تعلیم کا مطلب صرف روز گار کا حصول ہی دکھتا ہے ۔لفٹینٹ گورنر نے کہا کہ عمومی رائے یہ ہے کہ پیشہ وارانہ تعلیم بنیادی تعلیم سے کمتر ہے ۔ نئی تعلیمی پالیسی کا مقصد اس تصور کو تبدیل کرنا ہے اور اس کے تحت چھٹی جماعت سے ہی پیشہ وارانہ مضامین میں تعلیم فراہم کی جائے گی ۔ انہوں نے کہا کہ نئی تعلیمی پالیسی ہمارے نوجوانوں کو بااختیار بنا کر انہیں قوم کے معمار بنائے گی ۔