جموں//نئی بستی میںتاجروں نے حکام کی طرف سے انہیں موصول ہونے والے نوٹسز کے خلاف احتجاج کیا۔ جیسے ہی ایک دکاندار کو اپنی دکان کے لیے موصول ہونے والے نوٹس کا علم ہوا تو اس نے بے دخلی کے نوٹس کے خلاف نئی بستی میں احتجاج کیا۔احتجاج کرنے والے دکاندار نے اپنی قمیض پھاڑ دی اور بے دخلی کے خلاف نصف برہنہ ہو کر احتجاج کیا۔دیگر دکانداروں کو بھی نوٹس موصول ہوئے ہیں جنہوں نے کہا کہ حکام نے یقین دہانی کرائی تھی کہ چھوٹے دکانداروں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا لیکن انہیں نوٹس بھیجے گئے۔دکانداروں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا “حکومت کو مداخلت کرنی چاہیے اور غریب دکانداروں کو ہراساں نہیں ہونے کو یقینی بنانا چاہیے، لیکن حکام اس کے برعکس کر رہے ہیں”۔اس دوران بی جے پی صدر رویندر رینا دیگر بی جے پی لیڈروں کے ساتھ موقع پر پہنچے اور انہوں نے نئی بستی میں دکانداروں سے ملاقات کی۔انہوں نے کہا کہ میں نے متعلقہ سرکاری عہدیداروں کے ساتھ ساتھ لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے بھی بات کی جنہوں نے یقین دلایا ہے کہ طویل عرصے سے 5 مرلہ، 10 مرلہ سے 15 مرلہ اراضی پر قابض لوگوں کو ہراساں نہیں کیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ “کسی بھی معصوم یا غریب کو ہراساں نہیں کیا جائے گا تاہم متعلقہ حکام کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس عوام کو ہراساں کرنے کی کوشش ہے۔ میں ذاتی طور پر یہ نوٹس ایل جی صاحب تک پہنچاؤں گا اور اس کے مطابق متعلقہ حکام سے کارروائی کی جائے گی‘‘۔انہوں نے مزید یقین دلایا کہ عام لوگوں کو تنگ نہیں کیا جائے گا بلکہ زمینوں پر قبضہ کرنے والوں کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔
رام بن میں 800 کنال سرکاری اراضی بازیاب
رام بن//ضلع میں شروع کی گئی انسداد تجاوزات مہم کے تسلسل میں ضلع انتظامیہ رام بن نے ضلع کی مختلف تحصیلوں میں 800 کنال سے زیادہ سرکاری اراضی واگزار کرائی۔تجاوزات کے خلاف مشترکہ مہم میں محکمہ ریونیو اور پولیس کی ٹیموں نے تحصیل بانہال میں 378 کنال سرکاری اراضی،تحصیل رام بن میں 230 کنال، پوگل پرستان (اکھرال) میں 104 کنال، گول میں 66 کنال، کھڑی میں 16 کنال اور رامسو میں 4 کنال سرکاری اراضی بازیاب کرائی۔
نئی بستی کے دکانداروں کابے دخلی نوٹسز کیخلاف احتجاج