اننت ناگ//گورنمنٹ میڈیکل کالج اننت ناگ نے یہاں کووِڈآئسولیشن وارڈوں میں بستروں کی گنجائش میں اضافہ کیا ہے لیکن یہاں مریضوں کا آکسیجن کی معقول سپلائی نہ ہونے کی وجہ سے دم گُھٹ رہا ہے۔ اسپتال میں دوہزار لیٹر فی منٹ کا آکسیجن پلانٹ ہے جس سے دس سے زیادہ مریضوں کو45سے60لیٹرتیزبہاووالا آکسیجن ایک ساتھ نہیں دیا جاسکتا ہے۔جموں کشمیرمیں کورونا کی دوسری لہرکے شروع ہونے کے ساتھ ہی حکام نے یہاں 70مریضوں کیلئے سہولیات کا انتظام کیا،لیکن مریضوں کی تعداد میں اضافے کے ساتھ ہی اسپتال میں بستروں کی گنجائش میں توسیع کرکے 100کردی گئی جس میں اب مزیداضافہ کرکے120کردیاگیا۔ ایک ڈاکٹر نے سوال کیا،’’اس وقت اسپتال میں 120کورونا مریض اوردیگر50مریض تیزبہائو والے،درمیانہ اور کم بہائو والء آکسیجن سپورٹ پر ہیں ،تو یہ پلانٹ کیسے تمام مریضوں کیلئے درکار آکسیجن سپلائی کرسکتا ہے؟‘‘انہوں نے کہا کہ آکسیجن کی طلب میں اضافہ کی وجہ سے وہ مریض جنہیں تیز بہائوکے آکسیجن کی سخت ضرورت ہے،بھی بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے وضاحت کرکے سمجھایا کہ اکثر اوقات ہم مریضوں کی سچوریشن کی سطح کو کم ہوتے دیکھتے ہیں اور ان کی حالت بگڑ جاتی ہے کیوں کہ انہیں آکسیجن کی مطلوبہ مقدار مہیانہیں ہوتی،جو اسپتال میں زیادہ اموات میں وجہ ہے۔ایک اورڈاکٹر نے بتایا کہ ہرایک بیڈ کے ساتھ آکسیجن کی سپلائی نہیں ہے اور متعدد بستروں کو اسپتال میں دستیاب آکسیجن سلنڈروں پر گزارہ کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے یہ بھی سوال کیا کہ اگر اس پلانٹ میں کوئی تیکنیکی خرابی پیدا ہوئی یا بجلی چلی گئی،توکیاحکام نے ایسی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے کوئی بندوبست کررکھا ہے۔کیا آکسیجن کے سلینڈراُس بحران کا مقابلہ کرسکتے ہیں؟ایک اورڈاکٹر نے تباہ کن صورتحال پیدا ہونے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر حکام نے اسپتال میں فوری طور آکسیجن کے بحران کو دور نہیں کیا تو کوئی بھی تباہ کن صورتحال پیش آسکتی ہے۔انہوں نے کھنہ بل کے ایک مریض خورشید احمد دین کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ تیزبہائو کی آکسیجن سپلائی پر اُس کی سچوریشن حال ہی میں کم ہوکر58رہ گئی۔اس کے گھر والوں نے کسی طرح صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ میں بیڈ کا انتظام کیااور انتہائی نگہداشت کی ایمبولینس کا بندوبست کیااور جیسے ہی اُسے ایمبولینس میں دستیاب آکسیجن بہائو پررکھا گیا تواُس کی سچوریشن91ہوگئی اور اس کی حالت بہتر ہوئی ۔اُس کا اِس وقت سکمزمیں علاج چل رہا ہے اور اس سے کیاظاہر ہوتا ہے؟انہوں نے کہا کہ ایک آڈٹ کمیٹی کو اس بات کی جانچ کرنی چاہیے کہ حکام جن مریضوں کو ریکارڈ پر تیزبہائو کے آکسیجن پر ظاہر کرتے ہیں کیا انہیں واقعی60لیٹر فی منٹ آکسیجن دیا جاتا ہے۔آج ایک اور ویڈیووائرل ہوا،جس میں کولگام کے ایک مریض کو ہانپتے ہوئے دیکھا جاسکتا ہے۔اس مریض کے تیمارداروں نے الزام لگایا کہ اسپتال کی انتظامیہ نے اُسے کئی گھنٹوں تک آکسیجن سپلائی فراہم نہیں کی۔بعد میں اس کی موت ہوئی۔اسپتال کی میڈیا سیل نے بتایا کہ یہ مریض اسپتال میں انتہائی سخت بیماری کی حالت میں لایا گیا۔بیان میں کہا گیا ،’’اُسے بائی لیٹرل نمونیاتھا اور اس کا نظام تنفس ناکام ہواتھا۔اس کی سچوریشن50تھی،ہم نے اُسے آکسیجن ماسک دی اور ضروری علاج کیاتاہم وہ جانبر نہ ہوسکا۔میڈیکل کالج اننت ناگ کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ نے اعتراف کیا کہ وہ ایک وقت میں صرف پندرہ مریضوں کوہی تیز بہائو کا آکسیجن دے سکتے ہیں۔انہوں نے تاہم دعویٰ کیا کہ اسپتال میں کافی بیک اَپ دستیاب ہے۔انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس 200بڑے سلینڈر ہیں جن میں سے60ہنگامی صورتحال کیلئے بیک اَپ ہیں،یہ سلینڈر پانچ گھنٹوں تک کام دے سکتے ہیں اگر آکسیجن پلانٹ میں کوئی خرابی پیدا ہوگی یابجلی چلی جائے گی۔انہوں نے کہا کہ اسپتال نے میکنیکل انجینئرنگ محکمہ کو لکھا ہے کہ اسپتال کیلئے منظور1000لیٹر فی منٹ صلاحیت کا دوسراآکسیجن پلانٹ جلد ازجلدنصب کیا جائے۔ایک ڈاکٹر نے تاہم کہا کہ کو4500لیٹر فی منٹ صلاحیت والے آکسیجن پلانٹ کی ضرورت ہے۔