مینڈھر //سب ڈویژن مینڈھر کی پنچایت ناڑ میں ابھی تک رابطہ سڑک جیسی سہولیا ت مکمل طورپر دستیاب نہیں ہے جبکہ اس جدید دور میں بھی پنچایت کو براہ راست تحصیل ہیڈ کوارٹر کیساتھ نہیں جوڑا جاسکا جبکہ لوگ تحصیل ہیڈ کوارٹر مینڈھر پہنچنے کیلئے کم از کم 40کلو میٹر کا سفر کرنے پر مجبور ہیں ۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ کچھ برس قبل انتظامیہ کی جانب سے ایک سڑک کی تعمیر عمل میں لائی تھی لیکن پنچایت کے مکینوں کو اس سڑک کا کوئی فائدہ نہیں پہنچا جبکہ اگرانتظامیہ کی جانب سے عوامی مانگ کے تحت رابطہ سڑک تعمیر کی جاتی تو ناڑ سے تحصیل ہیڈ کوارٹر 15کلو میٹر کا سفر بنتا تھا لیکن حکام کی لاپرواہی کی وجہ سے اس وقت لوگوں کو مذکورہ سفر طے کرنے میں ایک دن کا وقت ضائع کرنا پڑتا ہے ۔انہوں نے محکمہ آب رسانی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ ابھی تک پانی کی کوئی لفٹ سکیم تعمیر ہی نہیں کی جاسکی جس کی وجہ سے علاقہ کی خواتین کئی کلو میٹر دور سے پینے کا صاف پانی لانے پر مجبور ہیں ۔انہوں نے محکمہ کے ملازمین پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ زمینی سطح پر جن گھروں میں پانی کی سپلائی فراہم کی گئی ہے ان کو بھی ملازمین کی لاپرواہی سے پانی فراہم ہی نہیں کیاجارہا ہے ۔مکینوں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں ایک لفٹ سکیم کی منظور ی دی گئی تھی لیکن اس کا ابھی تک ٹینڈر ہی نہیں ہوسکا ۔غور طلب ہے کہ ناڑ پنچایت میں صرف ایک مڈل سکول تعمیر کیاگیا ہے جس کے بعد بچوں کو مزید تعلیم حاصل کرنے کیلئے دیگر علاقوں میں دربدر کی ٹھوکریں کھانا پڑتی ہیں ۔مقامی لوگوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پنچایت میں قائم کردہ سرکاری سکول کا جلدازجلد درجہ بڑھا کر ہائی سکول کیا جائے جبکہ عوام کو سڑک سمیت دیگر بنیادی سہولیات بھی فراہم کی جائیں۔