جاوید اقبال
مینڈھر//ایک اہم عوامی رابطہ مہم کے تحت راجیہ سبھا کے رکن اور بی جے پی جموں و کشمیر یونٹ کے سیکریٹری و ترجمان غلام نبی کھٹانہ نے بلاک منکوٹ میں منعقدہ ایک بڑے عوامی دربار سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں جموں و کشمیر میں ترقی اور استحکام کے لیے کئے گئے اقدامات کو اجاگر کیا۔اپنے خطاب میں انجینئر کھٹانہ نے مرکزی حکومت کے فعال طرزِ حکمرانی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ مختلف مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں کے مؤثر نفاذ، سیکورٹی نظام کی مضبوطی اور سیاحت و بنیادی ڈھانچے میں نمایاں بہتری دیکھنے کو ملی ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم کی جانب سے عوام کے ساتھ براہِ راست رابطہ اور زمینی دورے شفافیت اور جوابدہی کو فروغ دے رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تعلیم، کھیل، زراعت اور چھوٹے کاروباروں کے شعبوں میں مثبت تبدیلیاں سامنے آ رہی ہیں۔ ‘‘بچے اسکولوں کا رخ کر رہے ہیں، نوجوان کھیلوں میں سرگرم ہیں، کسان اپنی زمینوں پر محنت کر رہے ہیں اور چھوٹے کاروبار ترقی کی جانب گامزن ہیں،’’ انہوں نے کہا، اور اس بات پر زور دیا کہ خطہ امن اور خوشحالی کی راہ پر آگے بڑھ رہا ہے تاہم غلام نبی کھٹانہ نے مقامی سطح پر بدعنوانی اور انتظامی کمزوریوں پر سخت تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے بعض مقامی رہنماؤں اور افسران پر عوامی فنڈز کے غلط استعمال اور عوامی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات عائد کیے۔ اس دوران انہوں نے عمر عبداللہ کی قیادت والی پالیسیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اب عوامی توقعات پر پورا نہیں اتر رہیں۔انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ کابینہ وزیر جاوید رانا ہینڈ پمپ منصوبوں میں بے ضابطگیوں میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق کئی منظور شدہ منصوبوں کو یا تو تبدیل کیا گیا، منتقل کیا گیا یا نظر انداز کر دیا گیا، جس سے عوامی وسائل کے شفاف استعمال پر سوالات اٹھتے ہیں۔گورننس کے مسائل پر بات کرتے ہوئے رکن پارلیمنٹ نے ضلعی انتظامیہ، بشمول ڈپٹی کمشنرز، ایس ڈی ایمز اور پولیس پر عوام کے کم ہوتے اعتماد پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے خبردار کیا کہ شفافیت اور جوابدہی کے بغیر مکمل فنڈنگ بھی حقیقی ترقی میں تبدیل نہیں ہو سکتی۔عوامی دربار میں بڑی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی اور اپنے مسائل پیش کیے، جن میں تعلیمی اداروں کی خستہ حالت، سڑکوں کی خراب صورتحال اور اسکولوں میں عملے کی کمی شامل تھی۔ اس موقع پر مختلف محکموں کے افسران نے عوام کے سوالات کے جوابات دیے اور جاری منصوبوں کے بارے میں تفصیلات فراہم کیں۔اپنے اختتامی خطاب میںغلام نبی کھٹانہ نے افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مسائل کو فوری طور پر حل کیا جائے اور حکمرانی کو عوام دوست بنایا جائے۔ انہوں نے بدعنوانی کے خاتمے، جوابدہی کے فروغ اور ترقی کی رفتار تیز کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔عوامی دربار کے اختتام پر عوام اور حکام کے درمیان براہِ راست مکالمے نے مسائل کے حل کے لیے مؤثر رابطے کی اہمیت کو اجاگر کیا اور مستقبل میں مزید ایسے پروگراموں کی ضرورت پر زور دیا گیا۔