واشنگٹن //امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کی دھمکی کے جواب میں زیادہ سخت جواب دیا ہے۔انھوں نے ٹویٹ کیا ہے کہ ان کے پاس شمالی کوریا کے جوہری ہتھیار سے زیادہ بڑا بٹن ہے۔انھوں نے لکھا: 'شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے حال ہی میں کہا کہ ان کی 'میز پر ہمہ وقت جوہری بٹن رہتا ہے۔' ان کی مفلوک الحال اور بھوکی حکومت میں سے انھیں کوئی بتائے کہ ایک جوہری بٹن میرے پاس بھی ہے، لیکن میرا والا ان سے بہت بڑا اور طاقتور ہے اور میرا بٹن کام بھی کرتا ہے۔'خیال رہے کہ اس سے قبل شمالی کوریا کے رہنما نے نئے سال کے موقعے پر اپنے ٹی وی خطاب میں کہا تھا کہ 'امریکہ کبھی بھی جنگ کا آغاز نہیں کر سکتا ہے کیونکہ جوہری ہتھیار چلانے کا بٹن ہر وقت اْن کی میز پر موجود ہوتا ہے۔‘انھوں نے کہا کہ پورا امریکہ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کی پہنچ میں ہے۔ اس کے ساتھ انھوں نے یہ بھی کہا کہ یہ حقیقت ہے، کوئی دھمکی نہیں۔تاہم اس کے ساتھ ہی کم جونگ ان نے جنوبی کوریا کے لیے زیتون کی ایک مضبوط شاخ کی پیشکش کی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں۔ٹوئٹر پر شمالی کوریا کے لیے صدر ٹرمپ کے انتہائی ذاتی پیغام سے قبل اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی نے شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے درمیان مجوزہ مذاکرات کو بینڈ ایڈ (ایک قسم کی مرہم پٹی) کہا تھا اور یہ کہا تھا کہ واشنگٹن کبھی بھی جوہری اسلحے سے لیس پیانگ یانگ کو قبول نہیں کر سکتا۔بہرحال جنوبی کوریا نے شمالی کوریا کے رہنما کے پیغام کو مثبت انداز میں لیتے ہوئے نو جنوری کی تاریخ کو جزیرہ نما کوریا میں کشیدگی کم کرنے کے لیے نادر موقع قرار دیا تھا ۔