علم الدین انواری
اسلام ایک مکمل ضابطۂ حیات ہے ماں کی گود سے لےکر قبر تک کے تمام معاملات ِ زندگی کے ہر پہلو کا بیان دین اسلام میں موجود ہے۔دین اسلام نے مہمان نوازی کے بارے میں جو بہترین قانون بنائے ہیں یا جس خوبصورت انداز سے اسلام نے ہمیں مہمان نوازی کے آداب کا پابند بنایا ہے ۔دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی ،حضور اکرمؐکا فرمان ہے کہ ’’جو شخص اللہ تعالیٰ پر اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ اپنے مہمان کی تعظیم کرے‘‘۔(ترمذی) مفسرین فرماتے ہیں کہ حضرت ابراہیمؑ اتنے بڑے مہمان نواز تھے کہ بغیر مہمان کے کھانا بھی نہیں کھاتے تھے ،کسی نے آپؑ سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو خلیل کس وجہ سے بنایا ؟ حضرت ابراہیمؑ نے فرمایا:کچھ وجوہات کی بنا پر ان میں تیسری وجہ یہ تھی کہ میں نے صبح اور شام کا کھانا کبھی بھی مہمان کے بغیر نہیں کھایا ،کچھ روایتوں میں آیا ہے کہ آپ ؑ ایک ایک میل پیدل چل کر مہمان تلاش کرنے کے لئے تشریف لے جاتے تھے ،لیکن آج ہمارا حال یہ ہے کہ مہمان خود چل کر ہمارے گھر آتا ہے تب بھی ہم ان کی خدمت کرنے سے کتراتے ہیں ۔
ہمارے آقا و مولیٰ ؐنےاپنے غلاموں کو مہان نوازی کی تعلیم دی ہے۔ حدیث کی کئی کتابوں میں نبی پاک ؐکے ارشاد ات موجود ہیں، کچھ حدیثوں کو آپ کی خدمت میں پیش کرتا ہوں۔
حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ بنی پاکؐنے فرمایا:جو بندہ نماز قائم کرے ،زکوٰۃ اداکرے ،رمضان کے روزے رکھے ،اور مہمان کی میزبانی کرے وہ جنت میں داخل ہوگا۔(الترغیب و ترھیب ) حضرت عائشہ ؓسے مروی ہے کہ نبی پاک ؐنے ارشاد فرمایا :تم میں سے جب کسی کا دستر خوان بچھا رہے (مہمان کھاتے رہیں )تب تک فرشتے اس کے لئے دعا ئے مغفرت کرتے ہیں (ایضاً) حضرت ابن عبا س ؓ سے روایت ہے کہ رسول ِرحمت ؐنے فرمایا:جس گھر میں کھانا کھِلایا جاتا ہے اس گھر میں خیرو برکت اس سے بھی تیز اور جلدی سے آتی ہے، جتنی جلدی اور تیز ی سے اونٹ کی کوہان پر چھری چلتی ہے (ایضاً)
حضوراکرم ؐ کے کچھ صحابہ حضرت جابرؓ کے گھر تشریف لائے تو انہوں نے روٹی اور سرکہ پیش کیا ،اس سے معلوم ہوا کہ گھر میں جو کچھ موجود ہو، وہ مہمان کو پیش کر دیا جائے ،اگر کوئی اسے اپنی تحقیر سمجھے تو یہ اس کے لئےبُربادی ہے اور مہمان کو چاہئے کہ جو کچھ پیش کیا جائے، اسے حقیر خیال نہ کرے، ورنہ اس کے لئے بھی بربادی ہے ۔موجودہ دَور میں یہ حال ہے کہ بے چارے میزبان سے جتنا ہو سکا ،مہمان کی خدمت کی مگر مہمان جب وہاں سے لوٹتا ہے تو جگہ جگہ میزبان کی بُرائیاں بیان کرتا ہے اور یہ کہتا پھرتا ہے کہ اس نے تو کوئی ڈھنگ کا کھانا ہمیں نہیں کھِلایا ، یہ کہکر میزبان کو بدنام کیا جاتا ہے۔مہمان کو اس کام سے بچنا چاہئے، اگر میزبان کی تعریف نہیں کر سکتا تو کم سے کم برائیاں تو نہ کرے ۔
حدیث شریف میں ہے کہ حضرت ابو ہریرہؓ سے روایت ہے کہ رسول کریم ﷺنے فرمایا: ’’ سنت یہ ہے کہ مہمان کو دروازے تک رخصت کرنے جائے ‘‘۔
مہمان کے ہاتھ دُھلانا بزرگان دین کی سنت ہے جیسا کہ حضرت امام شافعی ؒ اپنے استاذ امام مالکؒ کے مہمان بنے، تو امام مالکؒ نے خود اپنے ہاتھوں سے اُن کے ہاتھوں پر پانی ڈالا اور ان سے فرمایا یہ دیکھ کر گھبراؤ نہیں بلکہ اس بات کو ذہن میں بسا لو کہ مہمان کی خدمت کرنا میزبان پر لازم ہے ۔
مہمان نوازی کی اہمیت کا اندازہ اس بھی ہوتا ہے کہ محبوب خداؐنے ایک مرتبہ اپنی زرہ گروی رکھ کر یہودی سے آٹا قرض لیا۔اور مہمان نوازی فرمائی ،یہیں تک بس نہیں بلکہ حضورؐکی زندگی میں کئی ایسے دن بھی آئے کہ آپ ؐاور آپ ؐکے گھر والے کئی دنوں تک بھُوکے رہتے لیکن مہمان کو بُھوکا نہیں جانے دیتے۔مہمان نوازی کا یہی جذبہ صحابۂ کرامؓ کے اندر بھی تھا خود پیٹ پر پتھر باندھ کر سو جاتے مگر مہمان کو بُھوکا نہیں جانے دیتے۔اپنے بچے بُھوکے رہ جائیں یہ تو برداست کر لیتے مگر مہمان بُھوکا جائے، ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔
مسلم شریف کی ایک حدیث کا مفہوم پیش کرتا ہوں کہ سرکار دو عالمؐ کی بارگاہ میں ایک مہمان آئے، آپ نے گھر سے کھانا منگوایا، نہیں ملا تو آپ ؐنے صحابہ سے فرمایا :کون آج اس شخص کی مہمان نوازی کرے گا ؟اللہ تعالیٰ اس پر رحمت فرمائے گا۔ حضرت ابو طلحہؓ کھڑے ہوئے اور عرض کیا کہ میں مہمان نوازی کروں گا ،پھر حضرت ابو طلحہ اس شخص کو لے کر اپنے گھر گئے اور اپنی بیوی سے پوچھا :کیا تمہارے پاس کھانے کے لئے کچھ ہے؟بیوی ام سلیم کہنے لگیں صرف بچوں کے حصے کا کھانا ہے۔حضرت ابو طلحہ بولے: تم انہیں کسی چیز سے بہلا دینا اور جب مہمان آئے تو چراغ بجھادینا تاکہ مہمان کو پتہ نہ چلے کہ ہم کھانا نہیں کھا رہے ہیں۔ چنانچہ ان کی زوجہ نے ایسا ہی کیا یہاں تک کہ مہمان نے کھانا کھالیا۔اگلے دن حضورؐنے اس صحابی سے فرمایا :کل کی تمہاری مہمان نوازی تمہارے ربّ کو بہت پسند آئی۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ حضرت ام سلیم کے اندر مہمان نوازی کا کیا جذبہ تھا،بچوں کو بُھوکا سُلادیا لیکن مہمان کو پیٹ بھر کِھلایا ۔اگر ان کی جگہ آج کی عورتیں ہوتیں تو شوہر سے لڑ لیتیں اور جواب میں کہتیں کہ ہمارے بچے بھوکے سوئیں اور مہمان کھائے یہ نہیں ہو سکتا۔
[email protected]