بلال فرقانی
سرینگر//وادی میںسنیچر کو مہا شیو راتری( ہیرتھ) کے دو روزہ تہوار کا پہلا دن تھا۔کشمیر میں مہا شیو راتری کو جس منفرد انداز میں منایا جاتا ہے، وہ ہندوستان کے دیگر حصوں سے یکسر مختلف ہے۔ کشمیری پنڈت برادری اس تہوار کو ’’ہیرتھ‘‘ کے نام سے مناتی ہے اور دہائیوں کی نقل مکانی اور جغرافیائی فاصلوں کے باوجود اس کی مخصوص مذہبی و ثقافتی روایات آج بھی زندہ ہیں۔اگرچہ کشمیری پنڈتوں کی بڑی تعداد گزشتہ دہائیوں میں وادی سے جموں اور دیگر ریاستوں کی طرف منتقل ہوگئی ہے، تاہم ہیرتھ منانے کا طریقہ کار تبدیل نہیں ہوا۔ پنڈت برادری کا کہنا ہے کہ گردشِ ایام نے رہائش ضرور بدلی، لیکن تہذیبی وابستگی اور مذہبی روایت آج بھی اسی طرح قائم ہے، جیسے وادی میں ہوا کرتی تھی۔ہندوستان میں مہا شِو راتری ہندو مذہب کا ایک اہم اور مقدس تہوار سمجھا جاتا ہے، جہاں عموماً مندروں میں حاضری، ’ویرتھ‘ا ورجاگرن کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ تاہم کشمیر میں اس دن مندروں کے بجائے گھروں میں خصوصی پوجا پاٹھ کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ ہیرتھ کی سب سے نمایاں رسم ’’وٹْک پوجا‘‘ ہے، جس میں مخصوص برتنوں کو پانی، اخروٹ اور دیگراشیاء کے ساتھ سجا کر بھگوان شِو کی علامتی عبادت کی جاتی ہے۔
پوجا میں استعمال ہونے والے اخروٹ کئی روز قبل پانی میں بھگو کر رکھے جاتے ہیں اور بعد میں انہیں تبرک کے طور پر تقسیم کیا جاتا ہے۔ وٹک پوجا میں خاص مسالحہ جات بھی استعمال کیے جاتے ہیں جو مخصوص دکانوں پر دستیاب ہوتے ہیں، جو اس رسم کی انفرادیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔تہوار کے موقع پر پکوانوں کی تیاری بھی ہیرتھ کا اہم حصہ ہے۔ روایتی طور پر کشمیری پنڈت اس دن خصوصی کھانے تیار کرتے ہیں جن میں مچھلی اور کشمیری ندرْو (کمل کا تنا) کے پکوان نمایاں ہیں۔ بزرگ کشمیری پنڈتوں کے مطابق 1970 کی دہائی تک آسمانی اور آبی پرندوں کے علاوہ بھیڑ بکریوں کا گوشت بھی پکایا جاتا تھا، تاہم وقت کے ساتھ ان روایات میں تبدیلی آئی اور اب مچھلی کو خاص اہمیت حاصل ہے۔ہیرتھ کے دوسرے روز یعنی آج کشمیر میں ’’سلام‘‘ کا دن کہا جاتا ہے۔ اس دن مسلمان اور دیگر مذاہب سے وابستہ لوگ پنڈت برادری کے گھروں میں جا کر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔
ماضی میں یہ روایت خاص طور پر ہمسایوں کے درمیان میل جول اور باہمی احترام کی علامت سمجھی جاتی تھی۔ برادری کے افراد کا کہنا ہے کہ ہیرتھ کے پکوان صرف گھر تک محدود نہیں رہتے تھے بلکہ مسلم ہمسایوں کو بھی شریک کیا جاتا تھا، اور یہ روایت آج بھی کسی نہ کسی شکل میں جاری ہے۔شادی شدہ بیٹیوں کو ہیرتھ کے موقع پر خصوصی طور پر میکے بلایا جاتا ہے اور واپسی پر انہیں کشمیری روایت کے مطابق کانگڑی، نمک اور پوجا میں رکھے گئے اخروٹ بطور تحفہ دیے جاتے ہیں، جو خوشحالی اور برکت کی علامت سمجھے جاتے ہیں۔جموں اور دیگر شہروں میں مقیم کشمیری پنڈت خاندانوں کا کہنا ہے کہ اگرچہ نوجوان نسل کے انداز میں کچھ تبدیلیاں آئی ہیں، لیکن گھروں میں ہیرتھ آج بھی اسی تقدس اور سادگی کے ساتھ منائی جاتی ہے۔ ان کے مطابق، وادی میں ہمسایوں کے ساتھ سادگی سے منایا جانے والا ہیرتھ کا دن ایک خاص معنویت رکھتا تھا، جس کی یاد آج بھی جذبات تازہ کر دیتی ہے۔ہیرتھ محض ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ کشمیری پنڈت برادری کی تہذیبی شناخت، خاندانی رشتوں اور وادی کی صدیوں پرانی ہم آہنگی کی علامت ہے، جو وقت اور فاصلے کے باوجود اپنی اصل روح کے ساتھ قائم ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ کی مبارکباد
عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر //لیفٹیننٹ گورنر اور وزیر اعلیٰ نے مہاشیو راتری کے موقع پر مبارکباد پیش کی ہے۔ایل جی نے کہا، “مقدس تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ انسانیت کی فلاح و بہبود میں ان طریقوں سے حصہ ڈالے جو ان کے لیے منفرد طریقے سے دستیاب ہیں،” ۔لیفٹیننٹ گورنر نے کہا “مہاشیو راتری کے مقدس موقع پر، میں سب کو دلی مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں، میں ہر شہری کی صحت، خوشی اور خوشحالی کے لیے دعا کرتا ہوں۔کشمیری پنڈت برادری کی طرف سے ‘ہیراتھ’ کے نام سے منایا جانے والا مقدس تہوار ہماری روحانی روایت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کی علامت ہے۔ مقدس تہوار ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہر فرد کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان طریقوں سے انسانیت کی فلاح و بہبود میں اپنا حصہ ڈالے جو ان کے لیے منفرد ہیں۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے اپنے پیغام میں کہا کہ مہاشیو راتری ایک مقدس تہوار ہے جو عقیدت، ایمان اور روحانی بیداری کی علامت ہے اور یہ لوگوں کو نیکی، ہم آہنگی اور ہمدردی کے راستے پر چلنے کی ترغیب دیتا ہے۔وزیر اعلی نے کہا مہاشیو راتری کے مبارک موقع پر، میں سب کو دل کی گہرائیوں سے مبارکباد اور نیک خواہشات پیش کرتا ہوں۔ دعا ہے کہ یہ مقدس موقع ہر گھر میں امن، خوشی اور خوشحالی لائے۔وزیر اعلیٰ نے جموں و کشمیر میں بھائی چارے، اتحاد اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے رشتوں کو مضبوط بنانے کے لیے بھی دعا کی اور خواہش کی کہ یہ تہوار سب کے لیے ترقی اور بھلائی کا آغاز کرے۔