کشتواڑ//ضلع کشتواڑ کے دورافتادہ علاقہ مڑواہ میں جمعہ کی نماز کے بعد مقامی لوگوں نے انتظامیہ کے خلاف زوردار احتجاج کیا۔ نواپاچی و آستان گام میں مقامی لوگوں نے علاقہ میں راشن، ادویات و دیگر ضروری اشیاء کی عدم دستیابی کے خلاف احتجاج کیا۔ انھوں نے کہا کہ گزشتہ پانچ ماہ سے مرگن سڑک بند پڑی ہے جسکے سبب علاقہ میں ضروری اشیا و دیگر سازو سامان ختم ہوچکا ہے جسکے سبب عوام کو سخت مشکلات سے دوچار ہوناپڑرہا ہے ۔انہوںنے کہا کہ ماہ رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہونے جارہاہے،توانتظامیہ کو اس کیلئے ضروری اقدامات کرنے چاہئے تھے اورضروری اشیا ء کو پہنچانا چاہے تھا لیکن انتظامیہ خواب غفلت میں ہے اور لوگوں کو مشکلات سے دوچار ہونا پڑرہا ہے۔مقامی لوگوں نے مانگ کی کہ مرگن سڑک کو جلد آمدورفت کے قابل بنایا جائے تاکہ عوام کو ضروری اشیا ئے خوردنی میسر ہوسکے اور انھیں مشکلات سے دوچار نہ ہونا پڑے۔واضح رہے کہ 40000 سے زائد آبادی والا علاقہ مڑواہ و واڑون گزشتہ پانچ مہینوں سے واحد سڑک رابطہ بندہونے کے سبب دوسرے علاقوں سے کٹاہوا ہے جسکے سبب علاقہ میں ضروری اشیا و دیگر چیزوں کی قلت پیدا ہوگی ہے۔ کشمیر عظمی کو زرائع نے بتایا کہ جہاں مرگن سڑک پر برف ہٹانے کا کام جاری تھا وہیں کل شام انتظامیہ نے مشینری کو واپس بلایا تاہم مشینری کو واپس لانے کی وجہ معلوم نہ ہوسکی۔ڈی ڈی سی ممبر مڑواہ ظفر اللہ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ وہ مسلسل انتظامیہ کے رابطے میں ہے اور ہر روز سڑک کے بارے میں تفصیل معلوم کرتے ہیں۔ انھوں نے بتایا کہ موسم کی ناسازی کے سبب مشینری و کام کرنے والے اہلکاروں کو واپس لایا جاتا ہے تاہم مکمل مشینری کو واپس لانے کے بارے میں انھیں کچھ معلوم نہیں جبکہ وہ مسلسل ایگزیکٹیو انجینئرسے رابطے کررہے ہیںاورضلع انتظامیہ سڑک کو کھولنے کی ہر ممکن کوشش کررہی ہے۔