دنیا کے مظالم سے تنگ آ کر جب ایک لڑکی نے گجرات کی سابرمتی ندی میں کود کر اپنی جان دے دی تو مسلم معاشرہ پر چڑھی بے شعوری کی دبیز چادر میں کچھ ہلچل محسوس کی جارہی ہے۔ مسلمانوں کے با اثر حلقوں سے جہاں اس سانحہ پر غم اور افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے وہیں مسلم سماج میں دَر آئی خرابیوں کودور کرنے کی بھی تلقین کی جارہی ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے باوقار ادارہ آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کی جانب سے بھی حالیہ عرصہ میں ایک نئی اصلاحِ معاشرہ کمیٹی تشکیل دی گئی اور اس کے ذریعہ ایک اقرار نامہ تیار کرکے ملک کی موقر مسلم تنظیموں اور اداروں کے سربراہوں نے اس پر اپنی دستخط ثبت کر کے امتِ مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ اس اقرارنامہ کے تمام نکات پر عمل کرتے ہوئے نکاح کو سادہ اور آسان بنانے میں اپنااہم رول ادا کریں۔ مسلم پرسنل بورڈ کی یہ کاوش قابلِ قدر ہے ۔ لیکن کسی دردناک واقعہ کے بعد ملت کا ہوش میں آنا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد غفلت کی چادر لپیٹ کر سو جانا کیا اس سے ملت کے رِ ستے ہوئے زخموں کا علاج ممکن ہے؟ 25؍ فروری 2021کو ہوئے اس جانکاہ حادثہ نے مسلم معا شرہ کے کھوکھلا پن کو واشگاف انداز میں دنیا کے سامنے بے نقاب کر دیا۔ 23سالہ عائشہ پر کیا کچھ بِیتی ہوگی کہ اس نے اپنی زندگی کا خاتمہ کرلیا۔ایک پڑھی لکھی، مہذب اور شائستہ مسلم خاتون کا اس طرح موت کی آغوش میں چلے جانا ایک ایسا روح فرسا واقعہ ہے کہ جس کی مذمت کے لئے الفاظ کم پڑتے ہیں ۔ ایک مہذب سماج میں کیا عورت آج بھی اتنی بے بس اور مجبور ہے کہ اسے کہیں سے بھی انصاف نہیں ملتا۔ عائشہ کے دل کا کرب اس کے ان جملوں سے ہوتا ہے جب وہ یہ کہتی ہے کہ" اے ندی تو مجھ کو سمولے اور دوبارہ انسانوں کی شکل مجھے نہ دکھا !" عائشہ انسانوں سے کیوں اتنا بیزار ہوگئی تھی اس کا احساس کیا ہم کو ہے؟ اب سماج کے ٹھیکیدار اس خوش گپّیوں میں مصروف ہیں کہ آیا عائشہ ، جنت میں جائے گی یا دوزخ میں جائے گی۔ بعض نے تو اس کے لئے دوزخ کو لازمی کر دیا، کیوں کہ اس نے خود کشی کی ہے اور خود کشی اسلام میں حرام ہے۔ اب یہ معاملہ اللہ کے دربار میں پہنچ چکا ہے۔ عائشہ خدا کے دربار میں معتوب ہوگی یا سرخرو ہوگی یہ بات دنیا والے وثوق کے ساتھ نہیں کہہ سکتے۔ لیکن اللہ کی پکڑ سے وہ لوگ نہیں بچ سکتے جنہوں نے معاشرے کے بگاڑ کو دیکھتے ہوئے بھی اپنی آ نکھیں موند لیں۔ عائشہ کی موت کا ذ مہ دار کیا وہ طبقہ نہیں ہے جس نے مسلم معاشرہ کی تطہیر کا کوئی ساماں نہیں کیا۔ ہر گزرتے دن کے ساتھ مسلم معاشرہ کی تصویر بگڑتی گئی لیکن قیادت کے کان پر جوں نہیں رینگی۔ایک عائشہ ہی کیا ،کئی عائشہ ہماری نظروں سے اوجھل ہو گئیں۔جب تک مرض معلوم نہ ہو علاج ممکن نہیں ہے۔اصلاحِ معا شرہ کی تحریک کو کامیاب بنانے اور مسلم معاشرہ کو ایک اسلامی معاشرہ میں ڈھالنے کے لئے بے لاگ انداز میں پہلے ان خرابیوں کو تسلیم کرنا پڑے گا جو اس وقت مسلم معاشرہ میں سرایت کر چکی ہیں۔معاملہ صرف شادی بیاہ کی تقاریب میں اسراف تک محدود نہیں رہا، بلکہ مسلمانوں کی تقا ریب میں جھوٹی شان کے مظاہرے دیکھے جا سکتے ہیں۔ مسلم سماج کے دولت مند طبقہ کا مصرفانہ مزاج ، متوسط اور بعض وقت غریب طبقہ کو بھی اسراف سے کام لینے پر مجبور کر دیتا ہے۔ کسی بھی سماج میں تبدیلی با اثر طبقہ کے ذریعہ لائی جا سکتی ہے۔ مسلمانوں کا یہ طبقہ اپنی سماجی ذ مہ داری کو محسوس کر تے ہوئے بیجا شان و شوکت سے احتراز کرے تو مسلمانوں کے معاشرتی بگاڑ کو بڑی حد ختم کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ہمیشہ اس کا فقدان دیکھا گیا۔
یہ سوال بھی اہم ہے کہ عائشہ جیسی تعلیم یا فتہ اور ملازمت پیشہ ایک شریف خاتون اپنی ازواجی زندگی سکون اور چین کے ساتھ کیوں نہیں گذار سکی۔ اپنے شوہر اور سسرال والوں کو ہر طرح سے مطمئن کرنے کے باوجود وہ اس کے دشمن کیوں ہو گئے۔ عائشہ نے جب خودکشی کرنے سے عین قبل اپنے شوہر سے فون پر بات کی، تب بھی ا س کے شوہر کا دِل نہیں پسیجا ، بلکہ اس نے یہ شیطانی جملے کہے کہ "مرنا ہے تو مرجا مگر مرنے سے پہلے ایک ویڈیو وہ ضرور بنائے جس میں وہ اپنی موت کی ذ مہ داری خود قبول کر ے"۔ عائشہ نے آ خری وقت بھی اپنے شوہر عارف خان کی بات کی لاج رکھ لی۔ اس نے اپنی موت کا ذ مہ دار کسی کو نہیںٹھہرایا۔ عارف خان جیسے بھیڑیوں کا علاج نہیں ہو گاتومسلم معاشرہ کا سدھار ممکن نہیں ہے۔ یہ بات اپنی جگہ صحیح ہے کہ اس وقت مسلم لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ بہت گھمبیر بنتا جا رہا ہے۔ ہزاروں لڑکیاں بن بیاہی بیٹھی ہوئی ہیں۔ وقت پر شادیاں نہ ہونے سے مسلم لڑکیاں غیروں کے ساتھ شادیاں رچا رہی ہیں۔ اسی مرض نے مسلمانوں میں ارتداد کی وباء بھی پھیلا دی ہے۔ لیکن جن لڑکیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں ، انہیں سسرالی رشتہ داروں کی طرف سے جو ذہنی اور جسمانی اذیتیں دی جا رہی ہیں ، اس کا تدارک کیسے کیا جائے اس کاکوئی میکانزم ہمارے معاشرے میں نظر نہیں آ تا۔ شادی کے موقع پر ماں باپ اور رشتہ دار یہ بے تُکا جملہ دوہراتے ہیں کہ "ماں باپ کے گھر سے بیٹی کی ڈولی جا تی ہے اور ڈولا سسرال کے گھر سے جاتا ہے "یعنی ایک مرتبہ شادی ہوگئی اب بیٹی کے لئے یہ گھر پرایا ہو گیا۔ نتیجہ یہ نکل رہا ہے کہ عزت دار بیٹیاں گھٹ گھٹ کر اپنی زندگی سے ہاتھ دھو رہی ہیں۔ عائشہ اس کی جیتی جاگتی مثال ہے۔ خلع اور دوسری شادی کو مسلم معاشرہ میں اتنا معیوب بنا دیا گیا کہ نوجوان بیوہ کی دوسری شادی کے بارے میں خاندان والے سوچنا بھی گواراہ نہیں کر تے۔ عائشہ کا یہ دردناک انجام سامنے نہ آ تا اگر اس کے سماج کے ذ مہ دار افراد اس کے شوہر کی زیادتیوں پر لگام لگاتے اور اسے قرارِ واقعی سزا دلانے میں دلچسپی دکھاتے۔ یہ بات مسلم معاشرہ میں بڑی شدت سے بیان کر نے کی ضرورت ہے کہ ازواجی زندگی کو خوشگوار بنانے میں شوہر اور بیوی، دونوں کو وسیع النظری اور کشادہ دلی سے کام لینا چاہئے۔ خاندان کے درمیانی لوگوں کا آج کل جو رویہ سامنے آ رہا ہے، اکثر و بیشتر افرادِ خاندان، رشتوں کو جوڑنے کے بجائے توڑنے میں زیادہ خوشی محسوس کر رہے ہیں۔ جہاں شوہر و بیوی میں تھوڑے بہت اختلاف کی بھنک ملی، وہاں دونوں میں دراڑ ڈالنے کی تیاری شروع ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چھوٹے چھوٹے اور معمولی نوعیت کی باتیں طلاق کی نوبت تک لے جاتی ہیں۔ مسلمانوں میں "فیملی کونسلنگ"جیسے اداروں کی بہت کمی ہے۔مختلف جما عتوں اور تنظیموں کی جانب سے اس جانب کچھ پیشرفت ہوئی ہے لیکن یہ آ ٹے میں نمک کے برابر ہے۔ ملک کی کسی بھی مہیلا کورٹ میں جا یئے کتنی برقعہ پوش خواتین وہاں آپ کو نظر آ ئیں گی۔ عدالتوں میں مسلم خواتین کو دیکھتے ہوئے ہم کیسے کہہ سکتے ہیں کہ مسلم معاشرہ بہت اچھا ہے۔ ایک انتہائی اور الم ناک واقعہ کے بعد بھی اگر ہم شُتر مرغ کی طرح ریت میں سَر ڈالے یہ کہیں کہ مسلم معاشرہ تو ایک مثالی معاشرہ ہے توپھر سدھار کی ساری باتیں بے فیض ہو جاتی ہیں۔ ہم دنیا کو صرف یہ بتانے میں مصروف ہیں کہ اسلام نے عورت کو بہت بڑا مقام دیا ہے۔ عورت کی تعظیم اور تکریم کی جو تعلیم اسلام نے دی ہے دنیا کے کسی اور مذہب نے نہیں دی۔ اس میں کوئی شک و شبہ کی گنجائش نہیں ہے کہ اسلام کی آ مد نے ہی عورت کو عزت و وقار بخشا ہے۔ اور پھر صرف عورت کے احترام ہی کو اسلام نے ملحوظ نہیں رکھا بلکہ عورتوں کے حقوق کی بھی اسلام نے ضمانت دی۔ وارثت میں عورت کے حق کو تسلیم کیا گیا۔ خاندان کے کفالت کی ذ مہ داری مرد پر ڈالی گئی۔
اسلام کے ان ابدی اور لازوال تعلیمات پر مسلم معاشرہ عمل پیرا ہوتا تو آج مسلم معاشرہ تباہی کے اس دہانے پر کھڑا نظر نہیں آ تا۔ لیکن ہندوستان میں مسلم معاشرہ اسلامی تعلیمات کو عام کرنے اور ہندوستانی سماج کو اسلام میں ڈھالنے کے بجائے مختلف وجوہات کی بِنا ء پر یہاں کی ہندوانہ رسوم و رواج کو اپنی تہذیب کا حصہ بناتا چلا گیا۔ اس وقت جو بھی بیہودہ رسومات مسلمانوں میں دیکھی جارہی ہیں یہ سب اسی ہندو روایات کو قبول کرنے کا نتیجہ ہے۔ بعض مسلم بادشاہوں، امراء اور نوابوں نے بھی اپنے اقتدار کو باقی رکھنے کے لئے بہت ساری غیر اسلامی رسموں کو سما ج کا حصہ بنانے میں اہم رول ادا کیا۔ ایک جہیز ہی کیا جتنی بھی رسومات شادی بیاہ کے موقع پر ادا کی جاتی ہیں ان کا اسلام سے دور کا بھی تعلق نہیں ہے۔ لیکن الّا ماشاء اللہ چند مسلم خاندانوں کے یہ رسمیںاب ہمارے معاشرہ کا ایک جزو لاینفک بن گئی ہیں۔ ان رسموں کو ادا کرنے میں صرف دین سے ناواقف لوگ ہی آ گے نہیں ہیں ، بلکہ اچھے خاصے دین سے واقف اور مذہبی گھرانوں میں بڑے تزک و اہتمام سے یہ رسمیں ادا کی جارہی ہیں ۔ اس معاملے میں کوئی تخصیص کرنا اب محال ہو گیا ہے۔ ان بیجا رسومات کو ختم کرنے کے لئے ایک لمبی اور مستقل جدو جہد کی ضرورت ہے۔ چند دن کی مہم سے اس کا خاتمہ ممکن نہیں ہے۔ مسلم معا شرہ میں جو بگاڑ دیکھا جا رہا ہے یہ صدیوں کی دین ہے۔ اسے چند دنوں یا مہینوں میں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے لئے ایک پوری نسل کو بڑی دیانتداری اور اخلاص کے ساتھ کام کر نا ہو گا۔ شور شرابے سے معاشرے میں ہنگامہ تو برپا ہوجائے گا اور وقتی طور پر اصلاح کا کچھ اُبال بھی دیکھنے کو ملے گا۔ لیکن امت کو جس دائمی علاج کی ضرورت ہے وہ اپیلوں ، جلسوں اور قراردادوں سے ممکن نہیں ہے۔ اس کے لئے انقلابی اقدامات لازمی ہے۔ جب مریض کی صحت یابی کے لئے آپریشن ضروری ہو اور ایسے وقت ڈاکٹر اگر مریض کو نیند کی گولیاں دے کر سُلانے کی کوشش کر ے تو مریض کی ایسی حالت میں موت بھی ہو سکتی ہے۔ اسی طرح آج مسلم معاشرہ جس بدترین صورتِ حال سے دوچار ہو گیا ہے اسے اس بھیانک حالت سے نکا لنے کے لئے آل انڈیا مسلم پرسنل بورڈ کو سخت فیصلے کر نے ہوں گے۔ یہی ایک اجتماعی پلیٹ فارم ہے جس کی آواز پر مسلمان اب بھی لبیک کہتے ہیں۔ کوئی جماعت ، تنظیم یا ادارہ کوئی فیصلہ کرے گا تو اس کا اتنا اثر نہیں ہو گا جتنا کہ پرسنل بورڈ کے فیصلوں کا ہوگا۔ اس ضمن میں اپنی پہلی کوشش کے طور پر بورڈ کے ذ مہ داروں نے 11نکات پر مشتمل ایک اقرار نامہ تیار کرکے مسلمانوں کے سامنے رکھا ہے۔ اس میں جتنی باتیں لکھی گئیں وہ کوئی نئی نہیں ہیں۔ اس سے پہلے بھی بورڈ کی جانب سے ایسی اپیلیں آ تی رہیں۔ سوال ان کے نفاذ کا ہے۔ پرسنل بورڈ نے جو ہدایات دی ہیں ان پر عمل آوری کیسے ہو۔ اس کے لئے آسان طریقہ یہ ہے کہ قاضی صا حبان کو پابند کیا جائے کہ وہ ایسے نکاح نہ پڑھائیں جن میں غیر شرعی کام کئے جا رہے ہوں۔ پرسنل بورڈ جمعہ کے خطبات تیار کرے جو عام فہم ہوں اور انہیں ملک کی کم ازکم بڑی مساجد میں پڑھنے کا اہتما م کیا جائے۔ جو لوگ افہام و تفہیم کے بعدبھی اپنی حرکتوں سے باز نہیں آ تے ان کا سماجی بائیکاٹ کیا جائے۔ ان کے افرادِ خاندان کی کسی تقریب میں محلہ، گاؤں اور شہر کا کوئی رشتہ دار ، دوست یا پڑوسی شریک نہ ہو۔ سب سے اہم بات یہ کہ مسلمانوں میں شریعت پر عمل کرنے کا جذبہ پید ا کیا جائے ۔ انہیں بتایا جائے کہ شریعت ِ اسلامی پر عمل پیرا ہونے سے ان کی دنیاوی کا میابی اور اُخروی نجات ممکن ہے۔ اس نوعیت کے اقدامات کئے جائیں تو امید کی جاسکتی ہے کہ اصلاح معاشرہ کی جدوجہد رنگ لائے گی۔ ورنہ حال تو یہ ہے کہ پورا مسلم معاشرہ بے حسی کی انتہا پر ہے۔بقول اقبال ؒ
وائے ناکامی متاعِ کارواں جا تا رہا
کارواں کے دل سے احساسِ زیاں جاتا رہا
رابطہ۔91+9885210770