جنگلات منڈی بونہ دیالگام سڑک کھنڈرات میں تبدیل
سرینگر//اننت ناگ میں جنگلات منڈی سے بونہ دیالگام تک میڈیکل کالج روڑ انتہائی خستہ ہونے کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے۔ سڑک پر جگہ جگہ گہرے کھڈ بن گئے ہیں جو بارشوں میںجھیل کی شکل اختیار کرتے ہیں ۔ لوگوں نے یہ کھڈ خود ہی مٹی سے بھردئے ہیں تاہم بارشوں کی وجہ سے یہ مٹی کیچڑ کی صورت میں نکل آتا ہے ۔ مقامی لوگوں نے متعلقہ محکمہ کے اعلیٰ افسران سے اپیل کی ہے کہ سڑک کی فوری مرمت کیلئے اقدامات کئے جائیں۔
معاشرے کے وسیع تر مفاد میں سکول کھولیں | سیول سوسائٹی فورم کی حکومت سے اپیل
سرینگر//جموں و کشمیر سول سوسائٹی فورم نے حکومت پر زور دیا ہے کہ معاشرے کے وسیع تر مفاد میں سکول دوبارہ کھولنے کے معاملے کو ترجیح دیں۔ ایک بیان میں فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے کہا کہ اب بچوں کیلئے ٹیکہ کاری کے بعد تعلیم کا شعبہ اولین ترجیح ہونا چاہئے۔وانی نے کہا ’’یہ حیرت انگیز اور بدقسمتی کی بات ہے کہ ہمارے اساتذہ اسکول جاتے ہیں لیکن طالب علم ٹیکہ کاری کی رکاوٹ کی وجہ سے وہاں پرتعلیم حاصل کرنے کے لئے اپنے اساتذہ کے سامنے ایک وقوعی کلاس روم میں نہیں پڑھ سکتے‘‘۔فورم نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سکولی بچوں کیلئے ٹیکہ کاری کے عمل کو ترجیحی بنیادوں پر شروع کریں۔
خاتون صحافی کی جانب سے ’ہمالین پوسٹ ‘نامی پورٹل متعارف | ایوان صحافت کشمیر میں تقریب ،کئی سرکردہ صحافیوں کی شرکت
سرینگر// وادی میں خواتین صحافیوں کی تعداد میں اضافہ کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ لڑکیاں کھل کر اس شعبہ میں نہ صرف اپنی پیشہ وارانہ خدمات انجام دے رہی ہیں بلکہ از خود میڈیا ہائوسز بھی کھول رہی ہیں۔ سرینگر کے ایوان صحافت میں اسی طرح کی ایک پہل کے نتیجے میں بدھ کو ایک خاتون صحافی نے ’’ہمالین پوسٹ‘ پورٹل کو متعارف کیا۔پریس کلب سرینگر میں منعقدہ تقریب کے دوران وادی سے تعلق رکھنے والے معروف صحافی بھی موجود تھے۔ مایلا لطیف نامی اس خاتون صحافی نے نوجوان لڑکیوں کیلئے اس شعبے میں ایک دروازہ کھولا ہے اور وہ ان چند خواتین صحافیوں میں شامل ہوگئیں،جنہوں نے اس شعبے میں از خود اپنے ادارے قائم کئے ہیں۔ مایلا لطیف گزشتہ7برسوں سے صحافت کے میدان میں ہے اور بیرون جموں کشمیر بھی قریب4برسوں تک کام کیاہے۔ تقریب پر انہوں نے پورٹل کی نقاب کشائی کرتے ہوئے کہا کہ وہ صحافت کو صحیح معنوں اور اصل حقائق میں پیش کرنا چاہتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انکا خواب تھا کہ وہ اپنا میڈیا ادارہ قائم کریں اور اس کیلئے انہوں نے ایک شرعات کی ہے۔تقریب پر معروف صحافی ریاض مسرور نے مائلا لطیف کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ شعبہ اگر چہ کٹھن اور دشوار ہے تاہم انہیں خوشی ہو رہی ہے کہ کشمیری لڑکیاں صحافت کے میدان میں اپنا رول ادا کر رہی ہے۔
شانگس سے ایڈوکیٹ محمدسعید خان پی ڈی پی میں شامل
نیوز ڈیسک
سرینگر//شانگس اسمبلی حلقہ کے سرگرم سیاسی کارکن ایڈوکیٹ محمد سعید خان نے اپنے حامیوں کے ہمراہ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) میں شمولیت اختیار کی۔ایڈوکیٹ خان کا پارٹی صدر محبوبہ مفتی ، پارٹی کے مرکزی ترجمان سہیل بخاری اور پارٹی کے سینئر رہنما اور سابق ایم ایل اے اعجاز احمد میر نے پارٹی میں شمولیت اختیار کی۔ایڈوکیٹ خان کو پارٹی میں خوش آمدید کہتے ہوئے ، پی ڈی پی صدر نے امید ظاہر کی کہ ان کی شمولیت سے پارٹی نچلی سطح پر مضبوط ہوگی۔اس موقع پر ایڈوکیٹ خان نے کہا کہ پی ڈی پی کی قیادت اور نظریہ نے انہیں پارٹی کا حصہ بننے کی تحریک دی جو جموں و کشمیر کے لوگوں کی امنگوں اور جذبات کی نمائندگی کر رہی ہے۔
پیپلز کانفرنس سے وابستہ منصور بانڈے ضلع یوتھ صدرکپوارہ مقرر
نیوذ ڈیسک
سرینگر// پیپلز کانفرنس نے منصور بانڈے کو ضلع کپوارہ کے لئے صدر یوتھ مقرر کیا ہے۔پارٹی نے ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’’ہمیں منصور بانڈے کو ضلع یوتھ صدر کپوارہ مقرر کرنے پر خوشی ہے۔ ہم انہیں مبارکباد دیتے ہیں اور ان کے نئے کردار کیلئے نیک خواہشات پیش کرتے ہیں‘‘ ۔
رکھ آ رتھ کالونی بمنہ میں لوگ بنیادی سہولیات سے محروم
سرینگر//رکھ آ رتھ کالونی بمنہ میں رہائش پذیر لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ کالونی میں بہتر بجلی ،پانی اور سڑک رابطہ ہنوز ایک خواب ہے۔ مقامی لوگو ں کا کہنا ہے کہ ہردور میں حکومتوں نے انہیں تعمیر و ترقی کے لحاظ سے نظر انداز کیا اور یہی وجہ ہے کہ یہا ں کے لوگ بنیادی سہولیات سے محروم ہیں۔ لوگو ں کا کہنا ہے کہ کالونی میںبجلی کا نظام بھی ناقص ہے۔ لوگو ں کے مطابق لکڑی کے عارضی کھمبوں یا درختوں سے ترسیلی لائنیں لٹکی ہوئی ہیں۔مقامی لوگو ں کے مطابق معمولی بارشوں کے بعد پورا علاقہ پانی میں ڈوب جاتا ہے اورلوگوں کو عبور و مرور میں سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔مقامی لوگوں نے کالونی میں تعینات لائوڈا کے اسسٹنٹ ایگز یکٹیو انجینئر پر بنیادی سہولیات میسر نہ رکھنے کے سلسلے میں غفلت برتنے کا الزام عائد کیا ۔لائوڈا کے وائس چیئر مین ڈاکٹر بشیر بٹ نے کہا کہ انہوں نے حکومت کو رکھ آ رتھ کی ترقی کیلئے ایک منصو بہ پیش کیا ہے اور منظوری ملنے کے ساتھ ہی رکے پڑ ے کا م مکمل کئے جائیں گے ۔انہو ں نے لیفٹیننٹ گورنر سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
نیشنل کانفرنس تنظیمی انتخابات آج سے | ساگر کی صدارت میں منعقدہ میٹنگ میں انتظامات کو حتمی شکل
سرینگر// نیشنل کانفرنس تنظیمی چنائو کا سلسلہ آج یعنی 2ستمبر سے شروع ہورہا ہے اور اس سلسلے میں 2سے 6ستمبر تک صوبہ کشمیر کیلئے بلاک صدور کا الیکشن عمل میں لایا جارہا ہے جبکہ 7 سے 11ستمبر تک ضلع صدور کا چنائو ہوگا۔ پارٹی جنرل سکریٹری حاجی علی محمد ساگر (الیکشن کنوینیر) نے تنظیمی انتخابات کیلئے تینوں زونوں کیلئے الیکشن انچارج اور مبصرین مقرر کئے ہیں۔ پارٹی کی سینئر لیڈر سکینہ ایتو شمالی کشمیر کی الیکشن انچارج ہوںگی جبکہ سینئر لیڈر علی محمد ڈار جنوبی کشمیر اور سینئر لیڈر ڈاکٹر بشیر احمد ویری وسطی زون کیلئے الیکشن انچارج مقرر کئے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ تینوں زونوں کیلئے 10دس الیکشن مبصرین کی بھی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے۔ پارٹی چنائو کے اس مرحلے سلسلے میں پارٹی ہیڈکوارٹر پر منعقدہ ایک غیر معمولی میٹنگ میں تنظیمی انتخابات کو حتمی شکل دی گئی۔ پارٹی جنرل سکریٹری علی محمد ساگر نے اجلاس میں زور دیکر کر کہا کہ پارٹی انتخابات مکمل طور پر صاف و شفاف اور آئین کے عین مطابق ہونے چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کو یہ طرئہ امتیاز حاصل ہے اور اس جماعت کے اندر ایک مضبوط جمہوری نظام ہے اور ہمیں ہر حال میں پارٹی کی اس خصوصیت کو بنائے رکھنا چاہئے۔ ساگر نے پارٹی سے وابستہ افراد پر زور دیا کہ وہ پارٹی انتخابات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیں اور باصلاحیت ، عوام مقبول اور عوام دوست نمائندوں کا چنائو کریں۔ اُن کا کہنا تھا کہ لوگوں کی بے لوث خدمت کرنا نیشنل کانفرنس کا بنیادی اصول رہا ہے ، اس لئے ضروری ہے کہ ہم ایسے پارٹی عہدیداروں کا انتخاب کریں جو ہر وقت لوگوں کیلئے دستیاب رہیں ۔
خانقاہوں کو نماز جمعہ کیلئے کھول دیاجائے؛متحدہ مجلس علماء
سرینگر//متحدہ مجلس علماء نے جامع مسجدسرینگر،آثارشریف حضرتبل سمیت وادی کے دیگرخانقاہوں کونمازجمعہ اوردیگرعبادات کی ادائیگی کیلئے بندکئے جانے پرزبردست فکروتشویش کااظہار کیا ہے۔ایک بیان کے مطابق سرینگر میں متحدہ مجلس علماء کے ایک اجلاس میں اس بات پرحیرانگی کااظہار کیا گیا کہ ایک طرف حکام نے کووِڈ- 19 کی آڑ میںجامع مسجد سرینگراور دیگر عبادت گاہوں کو نمازجمعہ کیلئے مقفل رکھاہیں جبکہ دوسری جانب آج سے ہی وادی بھر کے تمام تفریحی مقامات اورباغات کوعوام کیلئے کھول دینے کااعلان کیا گیا۔ متحدہ مجلس علماء نے اجلاس میں کہا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ اس سلسلے میں اپنی پوزیشن واضح کرے۔اجلاس میںمقررین نے یہ سوال کیا کہ کیاکووِڈ- 19 کی وباء صرف عبادتگاہوں میں ہی ہے جبکہ دیگر پبلک مقامات ، سرکاری تقریبات، کنووکیشنزاور شادی بیاہ کی تقریبات وغیرہ میں کورونا کا کوئی عمل دخل نہیں ہے ؟اجلاس میں مطالبہ کیا گیا کہ آنے والے جمعتہ المبارک کو تمام مرکزی مقامات کو نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے کھول دیا جائے۔
اپنی پارٹی ضلع سیکریٹری کی گاڑی نذرآتش
سرینگر// سرینگر میں اپنی پارٹی کے ایک کارکن کی گاڑی دوران شب نظرآتش کر دی گئی ۔کے این ایس کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب اپنی پارٹی کے ضلع سیکریٹری کی نجی گاڑی کونامعلوم افرادنے نذر آتش کر دیا۔جموں و کشمیر کی گرمائی دارالحکومت سرینگر میں گزشتہ شب نا معلوم افراد نے اپنی پارٹی کے ڈسٹرکٹ سیکریٹری کی گاڑی کو نذر آتش کر دیا۔پولیس کے ایک آفیسر نے بتایا کہ گزشتہ شب شہر کے حبہ کدل علاقے میں اپنی پارٹی کے لیڈر جیلانی کمار کی اسکارپیو گاڑی کو آگ لگا دی گئی، کمار خود گاڑی میں موجود نہیں تھے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ جیلانی کمار کی نجی گاڑی، زیر رجسٹریشن نمبر DL12CA1466، کو کافی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم پارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ انہیں اس حوالے سے کوئی معلومات نہیں ہے۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس نے اس حوالے سے ایک کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی ہے ۔
شہری بلدیاتی اداروں میں ایگزیکیٹوافسراں کی کمی کااعتراف | میونسپل حدود والے علاقوں میں صفائی ستھرائی میں خامیوں کو دورکیا جائے گا
سرینگر//ڈائریکٹراربن لوکل باڈیز کشمیرمنصورہ معصو م نے کشمیر میں قائم بلدیاتی اداروں میں ایگزیکٹوافسران کی کمی کااعتراف کرتے ہوئے کہاکہ کئی متعلقہ افسروں کی ریٹائرمنٹ کے باعث دیگر کئی ایگزیکٹو افسران کواضافی چارج دئیے گئے ہیں ۔انہوںنے مختلف علاقوں میں ٹائون ہالز کی تعمیر کاکام ہاتھ میں لینے کااعلان کرتے ہوئے واضح کیاکہ اربن لوکل باڈیز کشمیرکے ہاںفنڈس کی کوئی کمی نہیں ہے بلکہ ادارے کے پاس مختلف اسکیموں کے تحت لگ بھگ6کروڑ روپے کی رقومات دستیاب ہیں ۔اربن لوکل باڈیز کشمیرکی سربراہ نے چھاپڑی فروشوںکی بازآبادکاری کا یقین دلاتے ہوئے کہاکہ چھاپڑی فروشوں کیلئے تمام علاقوںمیں جگہیں مخصوص کرنے کامنصوبہ زیرغور ہے ۔کے این ایس کے مطابق انہوں نے کہاکہ ہمیں ایگزیکٹو افسران کوایک سے زیادہ میونسپل کونسلوں یاکمیٹیوں کاچارج دینا پڑتا ہے کیونکہ حالیہ برسوں میں کئی ایگزیکٹوافسران ملازمت سے ریٹائر ہوئے ہیںاوران کی اسامیاں ابھی خالی پڑی ہیں ۔انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے حکام بالا کوبتایاگیاہے کہ شہری بلدیاتی اداروں کوکل وقتی ایگزیکٹو افسران درکار ہیں تاکہ میونسپل اداروں یعنی میونسپل کونسلوں اورکمیٹیوںکاکام کاج کسی بھی طورمتاثر نہ ہو۔اس سوال کے جواب میں کئی افسران کوایک سے زیادہ میونسل اداروں کاچارج دینے سے کام متاثر ہورہاہے اوروہ اپنی ذمہ داریوں سے انصاف نہیں کرپارہے ہیں ،ڈائریکٹراربن لوکل باڈیز کاکہناتھاکہ اگرکسی جگہ کام ٹھیک سے نہیں ہورہاہے توہم اس کاجائزہ لیکر اس میں بہتری لائیں گے ۔انہوںنے ایک سوال کے جواب میں کہاکہ میونسپل اداروں میں افسروں اوردیگرذمہ داروں بشمول سیکرٹریوں کی تعیناتی اُنکی تعلیمی قابلیت ،سینیارٹی اوراہلیت کی بنیاد پرہی عمل میں لائی جاتی ہے ۔ڈائریکٹر موصوفہ کاکہناتھاکہ ایگزیکٹو افسران کی کمی کے باوجود کشمیر وادی میں چالیس میونسپل ادارے بشمول 10میونسپل کونسل اور30میونسپل کمیٹیاں ٹھیک ڈھنگ سے کام انجام دے رہی ہیں ۔وادی کے شہروقصبہ جات میں بنیادی شہری سہولیات کے نظام کوبہتر بنانے کایقین دلاتے ہوئے انہوں نے کہاکہ صفائی ستھرائی کسی بھی جگہ ماحولیاتی توازن کوبہتر رکھنے کی بنیادی ضمانت ہے اورہم اس پرتوجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔انہوںنے کہاکہ شہر وقصبہ جات اوردیگرمیونسپل حدودوالے علاقوں میں صفائی ستھرائی کے بنیادی ڈھانچے میں پائی جانے والی خامیوں ،کمیوں اورکمزوریوںکودورکرنے کیلئے ایک جامع حکمت عملی ترتیب دی گئی ہے ۔بازاروں ،چوراہوں ،سڑک کناروں اورنکڑوں پر قابض رہنے والے چھاپڑی فروشوں کیلئے مستقل جگہیں مخصوص اورمختص کئے جانے کے بارے میں انہوں نے کہاکہ سری نگر شہرمیں ہم نے گلی فروشوں کیلئے 6ایسی جگہیں مقررکی ہیں ،جبکہ وادی کے دیگرکچھ علاقوںمیں بھی چھاپڑی فروشوں کواپنا روزگار چلانے کیلئے جگہیں دی گئی ہیں ،اوراب ہم ایسے علاقوںمیں گلی فروشوں کیلئے مخصوص جگہیں مختص کرنے جارہے ہیں ،جہاں اُنھیں ابتک یہ سہولت میسر نہیں ۔انہوںنے بتایاکہ ہم چاہتے ہیں کہ کوئی بھی چھاپڑی یاگلی فروش کسی بازار یاسڑک کنارے نہ بیٹھے بلکہ مخصوص جگہ بیٹھ کر عزت کیساتھ اپنی روزی روٹی کوچلائیں،اوربازاروں سڑک کناروں سے اُن کی منتقلی کے نتیجے میں عوامی نقل وحمل اورگاڑیوں کی آمدورفت میں پیداہونے والی رکاوٹ دُورہوجائے ۔شہروقصبہ جات میں بنیادی اورلازمی شہری سہولیات کے نظام میں بہتر ی لانے کاذکر کرتے ہوئے ڈائریکٹرموصوفہ کاکہناتھاکہ ہمارے پاس شہری سہولیات کوبہتر بنانے اورتعمیروترقی کے کام انجام دینے کیلئے مختلف اسکیموں کے تحت لگ بھگ 6کروڑ روپے کی رقومات دستیاب ہیں اورہم متعلقہ اسکیموں کے تحت کاموں میں سرعت لارہے ہیں ۔
حاجن اورملحقہ علاقوں میں بھنگ کی کاشت تباہ | کولگام میں مفرور منشیات فروش گرفتار
حاجن//پولیس نے حاجن اور ملحقہ علاقوں میں بھنگ کی کاشت کو تباہ کردیاجبکہ کولگام میں ایک مفرور منشیات فروش کوگرفتار کیاگیا۔ایک بیان کے مطابق ایس ڈی پی اوحاجن کی نگرانی میں پولیس اسٹیشن حاجن کی ایک ٹیم نے حاجن اور ملحقہ علاقوں میں بھنگ کی کاشت کوتباہ کردیا۔مقامی لوگوں نے پولیس کی اس کارروائی کی سراہناکرتے ہوئے زوردیاکہ ایسی کارروائیاں دیگر علاقوں میں بھی انجام دی جائیں۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے پڑوس میں ممنوعہ کاشتکاری سے متعلق کوئی بھی معلومات لے کر آئیں۔ منشیات کی فروخت اور ممنوعہ اشیاء کی کاشت میں ملوث پائے جانے والے افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ایسے سماج دشمن عناصر کے خلاف ہمارے مسلسل اقدامات سے کمیونٹی کے اراکین کو یقین ہونا چاہیے کہ ہم اپنے معاشرے کو منشیات کی لعنت سے پاک رکھنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔ادھر معاشرے سے منشیات کی لعنت کے خاتمے کی کوششوں کو جاری رکھتے ہوئے ، کولگام میں پولیس نے ایک بدنام زمانہ منشیات فروش کو گرفتار کیا ہے جس کی شناخت عاشق حسین میر کے طور پر کی گئی ہے جو اپنی گرفتاری سے بچ رہا تھا۔اس کی موجودگی سے متعلق ایک مخصوص معلومات پر تیزی سے کام کرتے ہوئے ، پولیس اسٹیشن کلگام کی ایک خصوصی ٹیم جس کی سربراہی ایس ایچ او پی ایس کولگام نے ڈی وائی ایس پی ہیڈکوارٹرکلگام غلام محمد بٹ(جے کے پی ایس) کی نگرانی میں کی ، نے مخصوص جگہ پر چھاپہ مارا اور مذکورہ مفرور کو گرفتار کرلیا۔پولیس ریکارڈ کے مطابق ، وہ پولیس اسٹیشن کلگام کی ایف آئی آر نمبر 202/21میں ملوث ہونے کی وجہ سے قانون کے مطابق مطلوب تھا۔
تحقیقی طریقہ کار | کشمیریونیورسٹی کے سوشیالوجی شعبے میں سات روزہ ورکشاپ
سرینگر//کشمیر یونیورسٹی کے سوشیالوجی شعبے نے سوشل سائنس میں تحقیق کے طریقہ کار پرایک ہفتہ طویل ورکشاپ شروع ہوا۔آن لائن ورکشاپ کی افتتاحی تقریب پرڈین اکیڈمک افیئرس پروفیسر فاروق مسعودی مہمان خصوصی تھے۔اپنے صدارتی خطبے میں انہوں نے کہا کہ تحقیقی منصوبہ ترتیب دیتے وقت تحقیق کے مشکل کے تمام زاویوں کودیکھنالازمی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہرتحقیق کاایک سماجی محور ہوتا ہے۔یہ لازمی ہے کہ ہم جوبھی موضوع تحقیق کیلئے منتخب کریں ہمیں یہ دیکھنا ہوگا کہ اس کی سماج میں کوئی اہمیت ہے یانہیں ۔انہوں نے کہا کہ اس پس منظر میں آج کا ورکشاپ جوان اسکالروں کوتحقیق کے اصولوں سے آشنا کرنے کیلئے اہم ہے۔یونیورسٹی کے رجسٹرار ڈاکٹرنثاراحمدمیرجواس موقعہ پر مہمان ذی وقار تھے نے کہا کہ یونیورسٹی تحقیقی سرگرمیوں کو فروغ دینے کیلئے پرعزم ہے اورہم نئی قومی تعلیمی پالیسی2020کے مقاصدکے تحت اپنی تحقیقی سرگرمیوں کوڈھال رہے ہیں ۔
جسمانی طور ناخیزافراد کی بحالی وبااختیاری اولین ترجیح:مرکزی وزیرمملکت اتھوالے
سرینگر//مرکزی وزیر مملکت انصاف و ابااختیاری رام داس اتھوالے نے سری نگر میں کمپوزِٹ ریجنل سینٹر ( سی آر سی ) بمنہ کا دورہ کیا تاکہ وہاںجسمانی طور ناخیز اَفراد کو فراہم کی جانے والی سہولیات اور خدمات کا جائزہ لیا جاسکے۔مرکزی وزیر مملکت نے جسمانی طور ناخیز اَفراد کی بحالی اور انہیںبااِختیار بنانے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جموں میں بھی ایک سی آر سی سہولیت قائم کی جائے گی۔اُنہوں نے کہا کہ 48 کنال اَراضی کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں سی آر سی قائم کیا جائے گا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ کشمیر میں ایک میگا رِی ہیبلٹیشن کیمپ منعقد کیا جائے گا جہاں وادی کے تقریبا ً تمام اَضلاع سے شناخت شدہ4000 جسمانی طور ناخیز اَفراد میں اِمداد اور آلات تقسیم کئے جائیں گے ۔اُنہوں نے ہزاروں مستحقین کو بہترین خدمات فراہم کرنے پر سی آر سی فیکلٹی اور اِنتظامیہ کی سراہناکی۔ابتداً مرکزی وزیر مملکت نے کیمپس سائٹ پر شجرکاری مہم کا بھی اِفتتاح کیا جس میں ڈائریکٹر سی آر سی بمنہ ڈاکٹر ظفراِقبال او رسینئر فیکلٹی بھی وَہاں موجو دتھے۔مرکزی وزیر مملکت نے یقین دہانی کرائی کہ مرکزی وزارت ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور سی آر سی کے تمام زیر اِلتوأ منصوبوں کی منظوری میں سہولیت فراہم کرے گی تاکہ مستحقین کو جدید اور بہتر خدمات دستیاب ہوں۔اُنہوں نے دُورے کے دوران مختلف شعبوں اور بلاکوں کا معائینہ کیا جن میں فزیو تھراپی ، نفسیات ، پروسٹیٹکس ، آرتھو ٹیکس ، گویائی،سماعت اور بلاک شامل تھے۔اُنہوں نے سینٹر کے مجموعی کاموں کا بھی جائزہ لیا اور وادی میں اے ڈی آئی پی ، ایس آئی پی ڈی اے ، اے جی پی اور دیگر بحالی سکیموں کے کامیاب عمل آور ی پر زور دیا۔اِس موقعہ پر ڈائریکٹر سی آر سی بمنہ ڈاکٹر ظفر اِقبال نے ایم او ایس کو سینٹر میں متعلقہ شعبے میں طلباء کو مختلف نوکری پر مبنی کورسوں کے بارے میںجانکاری دی۔ اُنہوں نے کہا کہ رواں سال کے دوران اَب تک زائد اَز 445 اِمداد اور آلات جن میں سماعتی اِمداد اورکریچس سمارٹ کینز شامل ہیں ضرورت مند مستحقین میں تقسیم کئے جاچکے ہیں اور سینٹر میں اَب تک 10,078 مریضوں نے طبی خدمات حاصل کی ہیں۔اِس موقعہ پر دیگر لوگوں کے علاوہ ہیڈ کلینک ڈاکٹر عارفہ اَمین ، رِی ہیلبٹیشن آفیسر شمیم احمد ،فیکلٹی اور طلباء بھی موجودتھے۔
صنعتی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کاوادی کامطالعاتی دورہ | بینکوں اور کارپوریشنوں کے نمائندوں سے الگ الگ میٹنگیں
سرینگر// پارلیمانی قائمہ کمیٹی برائے صنعت ( ڈی آر پی ایس سی آئی ) جو وادی کے دو روزہ مطالعاتی دورے پر ہے ، نے پنجاب نیشنل بینک ، سینٹرل بینک اور جے اینڈ کے بینک اور این ایچ پی سی کے نمائندوں ، پاور گرڈ کارپوریشن ،آئی او سی ایل کے نمائندوں کے ساتھ الگ الگ میٹنگیں کیں۔ پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی سربراہی اِس کے چیئرمین ڈاکٹر کے کیشوار ائو رُکن پارلیمنٹ نے کی۔کمیٹی نے وزیر اعظم ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام ( پی ایم ای جی پی ) کی عمل آوری پر تبادلہ خیال کیا جو کہ مائیکرو سمال میڈیم اَنٹرپرائز ( ایم ایس ایم اِی ) کی فلیگ شپ سکیم ہے ۔اِس سکیم کو کے وِی آئی سی نے نافذ کیا ہے جو کہ قومی سطح کی نوڈل ایجنسی ہے۔اِبتداً بینکوں کے سربراہان نے اَپنے بینکوں کی موجودہ صورتحال اور حاصل کردہ اہداف کے بارے میں پرزنٹیشن پیش کی۔پارلیمنٹ کی قائمہ کمیٹی نے پی ایم اِی جی پی کی مؤثر عمل آوری ،اِس کی تشخیص اور نگرانی کے طریقۂ کار کے علاوہ مالیاتی اِداروں ، نوڈل ایجنسیوں ، سٹیٹ حکومتوں کے کردار پر تبادلہ خیال کیا۔ اس نے 2020-21 ء کے دوران پی ایم اِی جی پی کے تحت نئے پروجیکٹوں کے قیا م کے لئے معاون یونٹوں کے بارے میں بھی غورکیا۔کمیٹی نے پی ایم اِی جی پی کے تحت قائم کردہ منصوبوں پر جموں وکشمیر میں کووِڈ۔19 وَبائی اَمراض کے اَثرات کے بارے میں جانکاری حاصل کی۔دورانِ میٹنگوں کمیٹی نے مختلف مشاہدات کئے اور مالیاتی اِداروں کو مائیکرو سمال میڈیم اَنٹرپرائز ( ایم ایس ایم اِی) کے تحت وزیر اعظم کے روزگار پیدا کرنے کے پروگرام کے حوالے سے سفارشات بھی دیں۔کمیٹی نے این ایچ پی سی ، پاور گرڈ کارپوریشن ، آئی او سی ایل اور بجلی ، پیٹرولیم اور قدرتی گیس کے دیگر اَفسران کے ساتھ میٹنگ منعقد کی اور دوران میٹنگ کمیٹی نے پبلک پروکیورمنٹ پالیسی کے تحت پی ایس ای سے ایم ایس ای سے 25 فیصد پروکیورمنٹ کی صورت حال پر تبادلہ خیال ہوا۔اِس موقعہ پر پاور گرڈ کارپوریشن اور آئی او سی ایل کے نمائندوں نے موجودہ صورتحال اور اب تک حاصل کردہ اہداف کے بارے میں تفصیلی پریزنٹیشن دی۔کمیٹی نے پی ایس ای کی جانب سے ایم ایس ایم ای کو پی ایس ای کی ضرورت کو ممکن بنانے کے قابل بنانے کی خاطر وینڈر ڈیولپمنٹ پروگرام کے انعقاد کے لئے اُٹھائے گئے اِقدامات پر مزید تبادلہ خیال کیا۔بعد میںپارلیمانی قائمہ کمیٹی نے کے وی آئی بی کے کاروباریوں سے بات چیت کی جنہوں نے اپنی مصنوعات کو اسمبلی کمپلیکس میں نمائش کیلئے رکھاتھا اور مصنوعات کے معیار کا جائزہ لیا۔
172 جل جیون مشن پروجیکٹوں میں 74پر کام شروع | مرکزی وزیرمملکت نے مہم کی حصولیابیوں کا جائزہ لیا
سرینگر//مرکزی وزیر مملکت برائے جل شکتی اور فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز پرہلاد سنگھ پٹیل نے یہاں طبعی اور مالی کامیابیوں پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے جل شکتی محکمہ جموں و کشمیر کی ایک جائیزہ میٹنگ منعقد کی ۔ مشن ڈائریکٹر جل جیون مشن سید عابد رشید شاہ نے وزیر مملکت کو جموں کشمیر میں جل جیون مشن ( جے جے ایم ) کے تحت ہونے والی پیش رفت سے آگاہ کیا ۔ وزیر مملکت کو بتایا گیا کہ 172 کاموں میں سے 74 پر کام شروع کیا گیا ہے جو کہ جموں کشمیر کے چھ اضلاع میں شروع ہو چکے ہیں ۔ میٹنگ میں گھروں کو نل کنکشن فراہم کرنے کے حوالے سے پیش رفت پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ میٹنگ میں مسائل اور عمل درآمد سے متعلق مسائل اور زمینی سطح پر اسکیموں کے نفاذپربھی تفصیلی غور کیاگیا ۔ اس موقع پر وزیر موصوف نے کہا کہ تمام مسائل کو نوٹ کیا گیا ہے اور حکومت ہند کے ساتھ ان کے فوری حل کیلئے بات کی جائے گی ۔ وزیر مملکت نے متعلقہ افسران کے ساتھ فوڈ پروسیسنگ انڈسٹریز پر بھی تبادلہ خیال کیا ۔ انہیں بتایا گیا کہ فوڈ پروسیسنگ سیکٹر کیلئے مختلف اقدامات کئے جا رہے ہیں جن میں سبسڈی ، مراعات شامل ہیں اور یہ حکومت کیلئے ایک فوکس سیکٹر ہے ۔ وزیر نے کہا کہ فوڈ پروسیسنگ صنعت کا ایک اہم پہلو ہے کیونکہ کشمیر بہت زیادہ پھل پیدا کرتا ہے ۔ میٹنگ میں پرنسپل سیکرٹری صنعت و تجارت رنجن پرکاش ٹھاکر ، کمشنر سیکرٹری جل شکتی ایم راجو ، چیف انجینئر پی ایچ ای جموں /کشمیر ، چیف انجینئر آئی اینڈ ایف سی جموں /کشمیر ، ڈائریکٹر زراعت اور دیگر متعلقہ افسران نے شرکت کی۔
نقل مکانی کرنے والی قبائلی آبادی کیلئے صحت سہولیات | اعلیٰ سطحی میٹنگ میں منصوبہ شروع کرنے کے طریقوں کو حتمی شکل
سرینگر//محکمہ قبائلی امور اور قومی صحت مشن نے قبائلی صحت منصوبے کو شروع کرنے کے طریقوں کو حتمی شکل دی ہے جس کا مقصد قبائلی علاقوں میں صحت کے بنیادی ڈھانچے پر توجہ مرکوز کرنا اور نقل مکانی کرنے والے قبائلی آبادی کیلئے مخصوص سہولیات فراہم کرنا ہے ۔ اس منصوبے میں صحت کی دیکھ بھال کے مختلف پہلوؤں پر محیط نئے اقدامات شامل ہیں ۔ سیکرٹری قبائلی امور شاہد اقبال چودھری کے ساتھ منیجنگ ڈائریکٹر نیشنل ہیلتھ مشن محمد یاسین چودھری نے محکموں اور اضلاع کے ساتھ پروگرام کے اجزاء ، صلاحیت کی تعمیر ، انفرسٹرکچر ، پیشہ ور افرادی قوت اور سہولیات میں اضافے کے بارے میں تفصیلی بات چیت کی ۔خصوصی سیکرٹری قبائلی امور محکمہ ، ڈائریکٹر قبائلی امور ، ریاستی کوارڈینیٹر این ایچ ایم ، جوائینٹ ڈائریکٹر پلاننگ ، او ایس ڈی مشن یوتھ ، ضلعی افسران اور ماہرین نے میٹنگ میں شرکت کی ۔ سیکرٹری قبائلی امور نے قبائلی ترقی کے سالانہ منصوبے مثلاً ہیلتھ کئیر سسٹم پر تبادلہ خیال کیا ۔ ایک جامع قبائلی صحت کے منصوبے کیلئے این ایچ ایم کے ساتھ ہم آہنگی کیلئے محکمہ صحت کی دیکھ بھال کے اقدامات پر تبادلہ خیال کیا گیا ۔ ایم ڈی این ایچ ایم محمد یاسین چودھری نے قبائلی امور ، محکمہ صحت اور متعلقہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے قبائلی صحت کے منصوبے کے بارے میں تفصیلی پرذنٹیشن دی ۔ منصوبے کے تحت محکمہ صحت کے اداروں کا تین درجے کا نیٹ ورک کام کرے گا ۔ قبائلی صحت کے مراکز صحت کے اداروں کے نیٹ ورک کے طور پر قائم کئے جائیں گے جہاں محکمہ صحت اور خاندانی بہبود کے تعاون سے این ایچ ایم کی طرف سے انفراسٹرکچر کی دستیاب کیا جائے گا اور افرادی قوت اور رسد فراہم کی جائے گی ۔ ہجرت کی مدت کے دوران پہاڑی علاقوں میں جھونپڑیاں تعمیر کی جائیں گی اور قبائلی علاقوں میں موبائیل میڈیکل یونٹ لگائے جائیں گے ۔ منصوبے کے تحت دوسرے درجے کے صحت کے ادارے قبائلی ذیلی مراکز ہوں گے جہاں سہولیات کو اپ گریڈ کیا جائے گا ۔ قبائلی امور کے محکمہ یو ٹی کیپکس بجٹ کے تحت 10 کروڑ روپے کے اخراجات کے ساتھ ایک فوری پائلٹ پروجیکٹ شروع کیا جائے گا۔ اس دوران نیشنل ہیلتھ مشن ڈائریکٹوریٹ جے اینڈ کے فنڈ کیلئے حکومت ہند کو ایک تفصیلی منصوبہ پیش کرے گا ۔ اس کے بعد قبائلی صحت کا منصوبہ قبائلی امور کے محکمہ کے سالانہ کیپکس منصوبے کا حصہ ہو گا ۔