نئی تعلیمی پالیسی معیاری تعلیم کی سمت ایک اہم قدم: اَنو پورنا دیوی
اننت ناگ//مرکزی حکومت کے عوامی رَسائی پروگرام کے ایک حصے کے طور پر مرکزی وزیر مملکت برائے تعلیم اَنو پورنا دیوی پہلگام کے دو روزہ دورے پر پہلگام پہنچی۔مرکزی وزیر مملکت موصوفہ نے مختلف فلاحی سکیموں اور مرکزی معاونت والی سکیموں کی عمل آوری کا جائزہ لیااور سکیموں کے فوائد سے حاصل کرنے والے اَفراد سے تبادلہ خیال کیا۔اُنہوں نے عوام تک فوائد پہنچانے میں فرنٹ لائن ورکروں کی کوششوں کو سراہا۔ اُنہوں نے کہا کہ مرکزی حکومت جموںوکشمیر یوٹی کی ترقی اور خوشحالی کے لئے وعدہ بند ہے۔وزیرموصوفہ نے لوگوں کو عوامی خدمات کی بروقت فراہمی اور شکایات کے فوری ازالے پر زور دیا۔ مرکزی وزیر مملکت موصوفہ نے تعلیم کی اہمیت کو اُجاگر کیا اور اُنہوں نے مرکزی حکومت کی طرف سے ہر ممکن مدد کا یقین دِلایا۔اُنہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی معیار کو بہتر بنانے کے لئے پُر عزم ہے اور نئی تعلیمی پالیسی اِس سمت میں ایک قدم ہے ۔ وزیر موصوفہ نے سکولوں میں بنیادی ڈھانچے کی اَپ گریڈیشن پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت کا خاکہ پیش کیا تاکہ ہماری آنے والی پود کو ان تمام ہنروں سے آراستہ کیا جائے جن کی انہیں آج کی دُنیا میں بہترین کارکردگی کا مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے۔اُنہوں نے مطالبات کے بروقت ازالے کے لئے متعدد وفود کو یقین دہانی کرتے ہوئے کہا کہ تعلیم حکومت کی اوّلین ترجیح ہے ۔ تعلیم جمہوریت کو مستحکم کرنے میں اہم کردار اَدا کرتی ہے ۔ اُنہوں نے کہا کہ ہرعمر کے بچوں کو سکولوں میں جانے کی ترغیب دی جائے۔پی آر آئی ممبران نے تعلیمی شعبے میں خالی اَسامیوں اور اننت ناگ میں تعلیمی زون کی ضرورت سے متعلق مطالبات وزیر موصوفہ کو گوش گزار کئے ۔وزیر موصوفہ نے اُن کے تمام مطالبات بغور سنا ۔مرکزی وزیر مملکت انو پورنا دیوی نے ڈیری یونٹوں ، وہیل چیئرس اور آلات سماعت ، جسمانی طور مخصوص اَفراد کے لئے منظور نامے اور صحت سکیم سے اِستفادہ کرنے والوں میں گولڈن کارڈ تقسیم کئے ۔
پروجیکٹوں کے افتتاح سے نہیں | اعتمادسازی اقدام سے راحت ملے گی:محبوبہ
یواین آئی
سری نگر// پی ڈی پی صدر و سابق وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کا ماننا ہے کہ جموں و کشمیر کے لوگوں کو پروجیکٹوں کے افتتاح کرنے کی بجائے اعتماد سازی کے اقدام کرنے سے راحت مل سکتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ سری نگر سے بین الاقوامی پروازوں اور میڈیکل کالجوں کا افتتاح کرنا کوئی نیا کارنامہ نہیں ہے بلکہ یو پی اے حکومت کے دوران نصف درجن میڈیکل کالجوں کو منظوری دی گئی تھی جو آج چل رہے ہیں۔محبوبہ مفتی نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز وزیر داخلہ امت شاہ کے جموں و کشمیر کے تین روزہ دورے کے لئے سری نگر پہنچنے پر اپنے سلسلہ وار ٹویٹس میں کیا۔ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا،’’وزیر داخلہ کی طرف سے سری نگر سے بین الاقوامی پروازوں اور نئے میڈیکل کالجوں کا افتتاح کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے ، یو پی اے حکومت نے نصف درجن میڈیکل کالجوں کو منظوری دی تھی جو آج چل رہے ہیں۔ دفعہ 370 کی تنسیخ کے بعد جموں و کشمیر کو بحران کے دلدل میں دھکیل دیا گیا ہے‘‘۔محبوبہ مفتی نے اپنے ایک اور ٹویٹ میں کہا،’’اعتماد سازی کے اقدام جیسے قیدیوں کی رہائی، لوگوں کی ہراسانی کو بند کرنا، اقتصادی بحالی وغیرہ اٹھانے سے لوگوں کو راحت مل سکتی ہے ‘‘۔ان کا ٹویٹ میں کہنا تھا،’’لیکن اس کی بجائے وزیر داخلہ کے دورے سے قبل سات سو شہریوں کو پی ایس اے کے تحت بند کر دیا گیا اور کئی قیدیوں کو کشمیر سے باہر کے جیلوں میں منتقل کیا گیا‘‘۔انہوں نے کہا،’’ایسے سخت گیر اقدام سے پہلے سے ہی خراب ماحول مزید ابتر ہو رہا ہے نارملسی کے بلند بانگ دعوے کئے جا رہے ہیں جبکہ زمینی حقائق سے چشم پوشی کی جا رہی ہے‘‘۔
’گوفرسٹ ‘ جموں کشمیرکی ترقی کیلئے پُرعزم:کوشک کھونہ | سرینگر اورمتحدہ عرب امارات کے درمیان رابطے سے تجارت وسیاحت کو فروغ ملے گا
سرینگر// ’’گو فرسٹ‘‘GO FIRST(جو پہلے گو ائر کے نام سے جانی جاتی تھی)نے آج جموں کشمیر میں ایک اور سنگ میل عبور کرلیا، یہ ایسی پہلی فضائی کمپنی بن گئی ہے جس نے سرینگر سے براہ راست بین الاقوامی کنکشن اور بین الاقوامی کارگو آپریشنز کا آغاز کرکے اپنے بین الاقوامی نیٹ ورک کو مزید وسعت دی ہے۔اس موقعے پر گو فسٹ کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر کوشک کھونہ نے کہا’’گزشتہ پندرہ برس سے کام کررہی گو فسٹ اس خطے کے ساتھ ایک خاص رشتہ رکھتی ہیں اور اس کی ترقی کیلئے پر عزم ہیں، ہمیں خوشی ہے کہ گو فسٹ ایسی پہلی فضائی کمپنی ہے جس نے جموں کشمیر اور متحدہ عرب امارات کو جوڑ دیا ہے ، یہ خطے کیلئے ہمارے عزم کا برملا ثبوت ہے، ہمیں یقین ہے کہ یہ رابطہ دو خطوں کے مابین تجارت اور سیاحت کے دو طرفہ تبادلے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔شارجہ سے پروازیں براہ راست سرینگر اور بعد میں چندی گڑھ، دہلی، جموں، لیہہ اور ممبئی تک اور وہاں سے واپس سفر کریں گی ۔گو فسٹ کی طرف سے چلائی جارہی گو ائر لائنز(انڈیا) لمیٹیڈ نے ہوائی سفر اور کارگو کی ترسیل کو مزید فروغ دینے کیلئے سرینگر، جموں اور لیہہ میں کئی اقدامات اٹھائے ہیں۔حال ہی میں گو فسٹ نے سرینگر سے شبانہ پروازکامیابی کے ساتھ چلانے کے بعد جموں سے بھی شبانہ پرواز چلائی۔گو فسٹ ایسی واحد ائر لائن ہے جسے جموں کشمیر کی سرکاری کمپنی جے اینڈ کے ہارٹیکلچر پروڈکٹس سے باغبانی اور زراعت کی پیداوارکی کارگو ترسیل کیلئے مقرر کیا گیا ہے۔اس سے قبل گو فسٹ ایسی پہلی ایل سی سی تھی جس نے بلند مقامات کے ائر پورٹس پر چلانے کیلئے نئے جہازوں کی تجدید عمل میں لاکر لیہہ تک پروازیں چلائیں۔گو فسٹ نے حال ہی میں ٹرپ فیکٹری(TripFactory) کے اشتراک سے دوبئی میں جاری سب سے بڑی بین الاقوامی تقریبات میں سے ایک EXPO 2020میں جانے والے صارفین کیلئے خصوصی پیکیجز متعارف کرائے تھے۔صارفین دو پر کشش پیکیجز میں سے ایک کا انتخاب کرسکتے ہیں جن میں گوہولی ڈے پیکیج اور فلائٹ+ہوٹل پیکیج شامل ہیں۔گو ہولی ڈے پیکیج میں شارجہ تک اور وہاں سے واپسی کاائرٹکٹ ، قیام کرنے کی جگہ اور ناشتہ، ایکسپو2020کیلئے ایک دن کا انٹری پاس، ہاف ڈے سٹی ٹو اور Dhowکروز کے ساتھ ساتھ متحدہ عرب امارات میں داخل ہونے کا ٹورسٹ ویزا اور ٹریول انشورنس فراہم کیا جاتا ہے۔یہ پیکیج 51999روپے فی مسافر کے حساب سے دستیاب ہے جبکہ فلائٹ+ہوٹل پیکیج 22399روپے سے شروع ہوتا ہے اور اس میں شارجہ تک اور وہاں سے واپسی کا ائر ٹکٹ اور تین ستارہ ہوٹل میں تین رات اور چار دن کا قیام شامل ہے۔اسی طرح گو ہولی ڈے نے ٹرپ فیکٹری کے اشتراک سے شارجہ سے زمین پر جنت کہلائے جانے والے خطے تک سفر کرنے کے خواہشمند مسافروں کیلئے خصوصی پیکیجز متعارف کرائے ہیں۔
میوہ باغات کے نقصان پر سیاسی جماعتوں کو افسوس | متاثرین کومعاوضہ،نقصان کاتخمینہ اورفصل بیمہ اسکیم لاگوکرنے کا مطالبہ
سری نگر//وادی میں سنیچروار کو محکمہ موسمیات کی پیش گوئی کے عین مطابق ہوئی بے وقت برفباری اور بارشوں سے سیب کے باغات میں فصل اوردرختوں کو ہوئے نقصان پر سیاسی جماعتوں نے دکھ کااظہار کرتے ہوئے متاثرہ باغ مالکان کو فوری امداد دینے کے علاوہ نقصانات کاتخمینہ لگانے کیلئے ٹیمیں بھیجنے اور فصل بیمہ اسکیم کو لاگو کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ نیشنل کانفرنس نے قابل از وقت برفباری اور موسم کی قہرسامانیوں سے ہوئے جانی اور مالی نقصان پر زبردست رنج و الم کا اظہار کیا ہے اور متاثرین کیساتھ اظہارِ یکجہتی کیاہے۔ پارٹی کے بارہ مولہ اوراننت ناگ کے اراکین پارلیمان نے شمال و جنوب میں قبل از وقت برفباری سے میوہ کی فصل تباہ ہونے اور میوہ باغات کو زبردست نقصان پہنچے پر زبردست دکھ اور تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ 3برسوں کے دوران مالکانِ باغات کو قبل از وقت برفباری سے زبردست نقصان پہنچا ہے اور متاثرین کو حکومتی سطح پر برائے نام امداد فراہم کی گئی ہے جبکہ بیشتر اس برائے نام امداد سے بھی ابھی تک محروم ہیں۔ اراکین پارلیمان نے حکومت اور انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ اُن مالکان باغات کی بھر پور مالی معاونت کرے جن کے باغات کو نقصان پہنچا ہے تاکہ یہ لوگ مستقبل میں اپنی روزی روٹی کماسکیں۔ لیڈران نے ساتھ ہی انتظامیہ پر زوردیا ہے کہ برفباری سے پیدا شدہ صورتحال سے جنگی بنیادوں پر نمٹا جائے اور لوگوں کی راحت رسانی کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں۔ اپنی پارٹی صدر سید محمد الطاف بخاری نے ایک بیان میں کہاکہ قبل از وقت بھاری برف باری سے کشمیر صوبہ میں میوہ کاشتکاروں کو بہت زیادہ نقصان ہوا ہے کیونکہ متعدد مقامات پر ابھی سیب اُتارنے کا کام جاری تھا۔ انہو ں نے کہاکہ باغ مالکان کو بے وقت برف باری کی وجہ سے بھاری نقصانات بردداشت کرنا پڑاہے، یہ صرف اُن کی سالانہ پیداوار تک محدود نہیں بلکہ سیب کے درختوں کو بھی نقصان پہنچا ہے جس سے باغ مالکان کی مشکلات مزید بڑھ گئی ہیں۔ بخاری نے کہاکہ محکمہ باغبانی فوری طور سبھی اضلاع میں نقصانات کا تخمینہ لگانے کی مہم شروع کرے اور پیداوار اور درختوں کو ہوئے نقصانات کا جائزہ لیکر رپورٹ پیش کی جائے اور میوہ کاشتکاروں کو معقو ل معاوضہ دیاجائے۔ انہوں نے حکومت پرزور دیا ہے کہ ایک جامع فصل بیمہ اسکیم لائی جائے جس سے آفات سماوی سے متاثرہ میوہ کاشتکاروں کو مکمل تحفظ حاصل ہو۔ وادی کشمیر میں بے وقت برف باری سے باغ مالکان کو ہونے والے نقصانات پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے، سی پی آئی(ایم) کے رہنما یوسف تاریگامی نے متاثرہ باغ مالکان کو فوری معاوضہ دینے کا مطالبہ کیاہے۔انہوں نے کہا کہ سی پی آئی (ایم)طویل عرصے سے جموں کشمیر میں فصل بیمہ اسکیم کے نفاذ کا مطالبہ کر رہی ہے تاکہ قدرتی آفات کی صورت میں باغ مالکان اور کسانوں کو فائدہ پہنچایا جا سکے۔جموں و کشمیر کسان تحریک کے جنرل سیکریٹری، غلام نبی ملک نے باغ مالکان کو فوری معاوضہ دینے کا مطالبہ کیا جن کے پھلوں اور درختوں کو وادی بھر میں بالخصوص جنوبی کشمیر میں مسلسل بارشوں اور بے وقت برف باری کی وجہ سے نقصان پہنچا ہے۔ایک بیان میں ملک نے ان متاثرہ باغ مالکان کے لیے ایک جامع معاوضے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جنوبی اضلاع شوپیاں اور کولگام میں تقریبا 50 فیصد سیب اتارنے باقی ہے۔ حکومت کو نقصانات کا اندازہ لگانے اور ان متاثرہ باغبانوں کو مناسب معاوضہ فراہم کرنے کے لیے فوری طور پر ٹیمیں بھیجنی چاہیے۔ انہوں نے فصل بیمہ اسکیم کے نفاذ پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر اس اسکیم کو نافذ کیا جائے تو باغبانوں اور کسانوں کو راحت کی سانس ملے گی۔ یہ اسکیم باغ مالکان اور کسانوں کو قدرتی آفات کی وجہ سے نقصانات کی صورت میں بچائے گی۔ ملک نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بقیہ فصل NAFED کے ذریعے اچھی قیمت پر خریدی جائے تاکہ فصل کو عام فروخت سے بچایا جا سکے۔اس دوران جموں کشمیر پردیش کانگریس کمیٹی نے بھی تازہ برف باری سے وادی خاص طور سے شوپیان میں میوہ باغات کو ہوئے نقصان پر تشویش کااظہار کیا ہے۔ایک بیان میں پردیش کانگریس نے کہا کہ حکومت کو متاثرہ علاقوں میں سرکاری اہلکاروں کی ٹیموں کو روانہ کرنا چاہیے تاکہ وہ میوہ باغات کو ہوئے نقصان کا تخمینہ لگائیں۔پارٹی نے متاثرہ باغ مالکان کو فوری طور عبوری امداد دینے کابھی مطالبہ کیا۔ادھرشوپیان ضلع کانگریس کمیٹی نے بھی ضلع میں باغ مالکان کو برف باری سے ہوئے نقصان پر تشویش کااظہار کیا ہے ۔ایک بیان میں ضلع کانگریس صدرمشتاق احمدکھانڈے لیفٹینٹ گورنرانتظامیہ پر برفباری سے باغ مالکان کو ہوئے نقصان کاتخمینہ لگاکرمتاثرین کو فوری امداد دینے کا مطالبہ کیا۔
نقصان کا جائزہ لے کر رپورٹ فوراً پیش کی جائے،فارو ق خان کی ہدایت
سری نگر//لیفٹنٹ گورنر کے مشیر فاروق خان نے ڈائریکٹرجنرل محکمہ باغبانی کشمیرکو ہدایات دی ہے کہ وہ جنوبی کشمیر کے برف سے متاثرہ سیب کے باغات میں فیلڈ سٹاف کو تعینات کریںتاکہ آج درختوں اور پھلوں کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لیا جائے۔انہوںنے ہدایت دی ہے کہ برف باری سے میوہ باغات اورسیب کے پھلوںکوپہنچے نقصانات سے متعلق رپورٹ اور سفارشات پیش کی جائیں۔ ڈائریکٹرجنرل محکمہ باغبانی کشمیر کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ ذاتی طور پر متاثرہ علاقوں کا دورہ کریں۔ساتھ ہی اُنہیں دیگر علاقوں میں بھی نقصانات کاجائزہ لینے کیلئے عملہ تعینات کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔مشیر فاروق خان نے پرنسپل سیکرٹری ہارٹیکلچر ڈیپارٹمنٹ سے بھی کہا ہے کہ باقاعدگی سے اس عمل کی نگرانی کریں اور متاثرہ باغ مالکان کو ہر ممکن مدد فراہم کی جائے۔
صوبائی کمشنر کی ڈپٹی کمشنروں کو تاکید
کسی بھی صورتحال کا مقابلہ کرنے کیلئے محکموں کو تیاررکھاجائے
سری نگر//موسلاداربارشوں اوربرف باری سے پیداشدہ صورتحال اورمشکلات کامقابلہ وازالہ کرنے کیلئے صوبائی انتظامیہ کیساتھ ساتھ پولیس محکمہ بھی متحرک ہوگیاہے ۔سری نگرسمیت وادی کے سبھی دس اضلاع میں ہنگامی بنیادوںپرسیول انتظامیہ اورپولیس کی جانب سے خصوصی کنٹرول قائم کئے گئے ہیں تاکہ کسی بھی علاقہ میں ضرورت پڑنے پرسرکاری ٹیموںکوجلدسے جلد بچائوکاری اورمددفراہم کرنے کیلئے روانہ کیاجاسکے ۔جے کے این ایس کے مطابق صوبائی کمشنر کشمیر اورآئی جی پی کشمیرکی الگ الگ ہدایات پروادی کے تمام اضلاع میں ضلع ترقیاتی کمشنروں اوراعلیٰ پولیس حکام نے موسلادا ر بارشوں اوربرف باری سے پیداشدہ صورتحال اورمشکلات کامقابلہ وازالہ کرنے کیلئے خصوصی کنٹرول قائم کئے ہیں۔ان کنٹرول روموںکے ٹیلی فون اورموبائل فون نمبرات کی سوشل میڈیا کے ذریعے تشہیرکرائی گئی ہے تاکہ ضرورت پڑنے پرلوگ ان نمبرات پررابطہ کرسکیں۔ضلع ترقیاتی کمشنروںکے دفاترمیں خصوصی کنٹرول روم متحرک کرنے کیساتھ ساتھ پولیس کی جانب سے تمام ایس ایچ ائووزکے نمبرات بھی مشتہرکرائے گئے ہیں تاکہ لوگ ان پررابطہ کرکے فوری مددحاصل کرسکیں۔اس دوران معلوم ہواکہ صوبائی کمشنرکشمیرنے تمام ڈپٹی کمشنروں کویہ ہدایت دی ہے کہ برف باری ہونے کی صورت میں رابطہ سڑکوں پرآواجاہی کوبحال کرنے کیلئے متعلقہ سرکاری مشینری کوتیاری کی حالت میں رکھاجائے ۔انہوںنے ضلع ترقیاتی کمشنروںکویہ ہدایت بھی دی ہے کہ بجلی اورپانی کی سپلائی کویقینی بنانے کیلئے محکمہ بجلی اورمحکمہ جل شکتی کوبھی متحرک رہنے کوکہاجائے ۔صوبائی کمشنرکشمیرکی ہدایت پر سنیچر کے روز ضلع ترقیاتی کمشنروںنے اپنے دفاترمیں مختلف محکموںکے سینئرانجینئروں اورافسروںکیساتھ میٹنگیںکیں اوران میٹنگوںمیں متعلقہ اضلاع کے اعلیٰ پولیس حکام بھی موجودتھے ۔
سوپورمیں لاپتہ ذہنی بیمار کی لاش برآمد
غلام محمد
سوپور // سوپورمیںذہنی طورکمزور لاپتہ بزرگ کی نعش کوسنیچر کو وٹلب سے برآمدہوئی۔ جمعہ کوذہنی طورکمزور بزرگ شہری غلام قادرولدغلام رسول ساکنہ ابراہیم کالونی وارپورہ سوپور اچانک لاپتہ ہوگیا۔اہل خانہ نے بزرگ شخص کوہرممکنہ جگہ پرتلاش کیالیکن اُنہیں کہیں اس کاکوئی سراغ نہیںملا۔سنیچر کی صبح سوپور کے مضافات وٹلب زینہ گیر میں ایک شخص کو مردہ پایا گیاجس کی شناخت بعدازاں جمعہ سے لاپتہ بزرگ شخص غلام قادر وار ولد غلام رسول ساکنہ ابراہیم کالونی وارپورہ کے بطورہوئی۔سوشل میڈیا پرمذکورہ بزرگ شہری کے بارے میں گمشدگی کی تفاصیل جمعہ کو ہی وائرل ہوئی تھیں۔ سوپورپولیس نے ضروری لوازمات مکمل کرنے کے بعدنعش آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے لواحقین کے سپردکردی ،تاہم اس سلسلے میںمعاملہ درج کرکے پولیس نے مزیدتحقیقات شروع کردی۔
کورونا وائرس: متاثرین کی تعداد میں پھر کمی
۔ 72مثبت، کوئی فوتیدگی نہیں
پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس کی تشخیص کیلئے 37ہزار 495تشخیصی ٹیسٹ کئے گئے جن میں 10اضلاع سے تعلق رکھنے والے 72افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ اس طرح کورونامتاثرین کی مجموعی تعداد 3لاکھ 31ہزار 566تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران جموں و کشمیر میں سنیچر کو مسلسل تیسرے دن بھی وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 4429تک پہنچ گئی ہے۔ گذشتہ 24گھنٹوں کے دوران کورونا وائرس سے ایک مسافر سمیت 72افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں جن میں جموں میں 9 جبکہ کشمیر میں 63افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر میں سبھی افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ کشمیر کے 63متاثرین میں سرینگر میں 34، بارہمولہ میں 13، بڈگام میں 6، کپوارہ میں 6، اننت ناگ میں 1، بانڈی پورہ میں 1، گاندربل میں 2 جبکہ پلوامہ، کولگام اور شوپیان میں کسی کی رپورٹ نہیں آئی ہے۔ کشمیر میں متاثرین کی مجموعی تعداد 2لاکھ 7ہزار 308تک پہنچ گئی ہے۔ اس دوران کشمیر میں تیسرے دن بھی کوئی شخص وائرس سے فوت نہیں ہوا ہے۔ متوفین کی مجموعی تعداد 2254ہوگئی ہے۔ جموں صوبے کے7اضلاع میں کسی کی رپورٹ مثبت نہیں آئی ہے جن میں ادھمپور، راجوری، کٹھوعہ، سانبہ،کشتواڑ،رام بن اور ریاسی شامل ہیںجبکہ دیگر 3اضلاع میں 9افراد کی رپورٹیں مثبت آئی ہیں۔ جموں صوبے میں مثبت قرار دئے گئے 9افراد میں سے ایک بیرون ریاستوں سے سفر کرکے جموں پہنچے ہیں جبکہ دیگر 8افراد مقامی سطح پر رابطے میں آنے کی وجہ سے متاثر ہوئے ہیں۔ جموں صوبے میں مثبت قرار دئے گئے 9افراد میں سے جموں میں 4، ڈوڈہ میں 3 اور پونچھ میں 2افراد وائرس سے متاثر ہوئے ہیں۔ اس دوران جموں صوبے میں بھی مسلسل تیسرے دن کورونا وائرس سے کسی کی موت نہیں ہوئی ہے۔ جموں صوبے میں متوفین کی مجموعی تعداد 2175بنی ہوئی ہے۔
جنوبی کشمیر میںبلندپہاڑوں پرپھنسے خانہ بدوش
پولیس نے محفوظ مقامات پر پہنچایا
سرینگر//ناسازگار موسم کے دوران پولیس نے پلوامہ میں 30خانہ بدوش کنبوں کو مال مویشیوں سمیت محفوظ مقام پر پہنچاکر بچالیا۔ایک بیان کے مطابق پولیس کواطلاع ملی کہ سنگرونی پلوامہ میں خانہ بدوشوں کے کچھ کنبے بلند پہاڑی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔اطلاع ملتے ہی ایس ایس پی پلوامہ غلام جیلانی نے ڈی ایس پی ہیڈکوارٹرایس ایم شفیع کو بچائوٹیم تشکیل دے کر بچائومہم شروع کرنے کی ہدایت دی۔پولیس پارٹی نے ایس ڈی آرایف ٹیم،سول انتظامیہ کے نمائندوں اوررضاکاروں کے ساتھ پہاڑی علاقہ میں بچائو کارروائی شروع کی۔ اس دوران 200سے زیادہ افراد پر مشتمل خانہ بدوش کنبوں کو مال مویشیوں سمیت بچالیا گیااورانہیں محفوظ مقام پر پہنچایا گیا۔پولیس بیان کے مطابق بڈگام پولیس کواطلاع ملی کہ ناگہ بل یوسمرگ کی بلندپہاڑوں پرکچھ خانہ بدوش کنبے پھنسے ہیں ۔پولیس نے فوری طور بچائو ٹیم تشکیل دے کرعلاقہ کو بھیج دیئے اور16افراد پر مشتمل 4کنبوں کو محفوظ مقام پر پہنچایا۔ اسی طرح کی کارروائی میںپولیس کو اطلاع ملی کہ نیلنڈ شاہداب کریوہ شوپیان میں خانہ بدوش کنبے جوٹینٹوں میں مقیم تھے ،بھاری برف باری کی وجہ سے پھنس گئے ہیں اورخدشہ ہے کہ وہ برفانی تودوں کی زدمیں آسکتے ہیں۔ْپولیس نے فوری طور بچائو ٹیم کو علاقہ میں بھیجا جس نے 18افراد پر مشتمل کنبوں کو بچاکر محفوظ مقام پر پہنچایااورانہیں گورنمنٹ ہائی اسکول شاہداب میں ٹھہرایا گیا۔ دریں اثناء پردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری سریندر سنگھ چینی نے نور پورہ اونتی پورہ میں ایک خانہ بدوش خاندان کے تین افراد کے انتقال پر گہرے دکھ اور دکھ کا اظہار کیا ہے۔یہ واقعہ سنیچر کو اس وقت پیش آیا جب عارضی رہائشی پناہ گاہ خراب موسم کی وجہ سے مٹی کے ایک تودے کے ملبے تلے دب گیا۔انہوں نے سوگوار خاندان کے ساتھ گہری ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کیا اور ضلع انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ فوری امداد اور طبی امداد فراہم کرے۔
نورپورہ ترال کا دلدوز حادثہ
فاروق خان، نیشنل کانفرنس،اپنی پارٹی اور سی پی آئی (ایم ) کی تعزیت
سرینگر//لیفٹیننٹ گورنر کے مشیر فاروق خان ،سیاسی جماعتوں نے نورپورہ ترال میں مٹی کے تودے کی زدمیں آکر ایک ہی کنبے کے تین افراد کی ہلاکت پرسخت افسوس اور صدمے کااظہار کرتے ہوئے اس حادثے میں زخمی ہوئے شخص کو بہترطبی امداد فراہم کرنے کے علاوہ متاثرہ کنبے کو عبوری امداد دینے کا مطالبہ کیا ہے۔مشیر فاروق خان نے ایک خانہ بدوش خاندان کے تین افراد کے المناک حادثاتی موت پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ جنوبی کشمیر کے پلوامہ ضلع میں ترال کے نور پورہ علاقے میں مسلسل بارش کے دوران عارضی خیمے میں مٹی کے ملبے کے نیچے آنے کے بعد جاں بحق اور ایک شدید زخمی ہو گئے تھے ۔ مشیر خان نے مرحوم کی روح کے ایصال ثواب کیلئے دعا کی ۔ مشیر خان نے ڈپٹی کمشنر پلوامہ بصیر الحق کو ہدایت دی کہ وہ سوگوار خاندان کو فوری طور پر مدد اور دیگر مدد فراہم کریں ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر پلوامہ سے کہا کہ وی ایس ڈی آر ایف/ریڈ کراس کے تحت امداد کی منظوری اور سوگوار خاندان کو معمول کے مطابق حوالے کریں ۔ انہوں نت ریسکیو اپریشن کیلئے سینئر افسران کی ٹیم کو علاقے میں تعینات کرنے اور اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی کہ علاقے میں مزید مٹی کا کٹاؤ اور لینڈ سلائیڈنگ نہ ہو ۔ فاروق خان نے سیکرٹری قبائلی امور شاہد اقبال چودھری کو متاثرہ خاندان کی ہر ممکن مدد کرنے کی بھی ہدایت دی ۔نیشنل کانفرنس کے اراکین پارلیمان محمد اکبر لون اور جسٹس (ر) حسنین مسعودی نے نورپورہ ترال میں مٹی کے تودے کی زد میں آنے سے ریاسی سے تعلق رکھنے والے ایک ہی کنبے کے 3افراد کے لقمہ اجل بن جانے اور ایک شہری کے زخمی ہونے پر گہرے صدمے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے انتظامیہ پر زور دیا کہ وہ زخمی ہوئے شہری کو بہتر سے بہتر علاج و معالجہ فراہم کرائے اور ساتھ ہی لقمہ اجل بنے افراد کے پسماندگان کے حق میں بھر پور ایکس گریشا ریلیف فراہم کرے اور ساتھ ہی ایسے تمام کنبوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا جائے جو عارضی خیموں رہائش پذیر ہیں۔ادھراپنی پارٹی کے صدرالطاف بخاری نے بھی بخاری نے موسلادھار بارشوں کی وجہ سے ملبے نیچے د ب جانے سے نورپورہ ترال میں خانہ بدوش کنبہ کے تین افراد کے ہلاک ہونے پر دکھ اور صدمے کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ لواحقین کو ایکس گریشیا ریلیف فراہم کی جائے۔ انہوں نے ضلع ڈیزاسٹرمینجمنٹ ٹیم سے کہاکہ وہ اِس بات کو یقینی بنائے کہ حساس مقامات میں جتنے بھی کنبہ جات ہیں کو محفوظ مقامات پر منتقل کیاجائے۔کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا مارکسسٹ کے یوسف تاریگامی نے اونتی پورہ کے نور پورہ علاقے میں خانہ بدوش خاندان کے تین افراد کی موت پر بھی دکھ کا اظہار کیا جو کہ مسلسل بارشوں اور برف باری کی وجہ سے اپنی عارضی پناہ گاہ کی دیوار گرنے سے فوت ہوگئے ۔انہوں نے متاثرہ خاندان کے لیے مناسب معاوضہ کا مطالبہ کیا۔
مسابقتی امتحان میں شامل ہونے والے
امیدواروں کو بلیوارڈ پر چلنے کی اجازت
سرینگر//23سے25اکتوبرتک بڈیاری کراسنگ ڈلگیٹ سے نشاط تک بلیوارڈروڑ کوبند کئے جانے کی ٹریفک ایڈوائزری کے مدنظر کمبائنڈ کمپٹیٹو سروسز امتحان2021میں شامل ہونے والے امیدواروں کو ایڈمٹ کارڈوں کے ساتھ بلیوارڈ – نشاط اور گپکارروڈ پر چلنے کی اجازت ہوگی تاکہ وہ اپنے امتحانی مراکزپرامتحان کے دن یعنی 24اکتوبرکو پہنچ سکیں۔
ریاسی سڑک حادثہ، ماں بیٹے سمیت 3لقمہ اجل
یواین آئی
جموں// ضلع ریاسی میں ایک دلدوز سڑک حادثے میں ماں بیٹے سمیت تین افراد کی موت جبکہ چار دیگر زخمی ہوگئے ہیں۔سرکاری ذرائع نے بتایا کہ جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ سے ریاسی آ رہا ایک ٹاٹا موبائیل چکلاس ماہور کے نزدیک فردوسی موڑ پر سڑک پر پلٹ گیا جس کے نتیجے میں تین مسافروں کی موقع ہی موت واقع ہوئی جبکہ چار دیگر زخمی ہوگئے ۔انہوں نے بتایا کہ زخمیوں کو علاج و معالجے کے لئے نزدیکی ہسپتال منتقل کیا گیا ہے ۔متوفین کی شناخت 42 سالہ بانو بی بی زوجہ مختار احمد ان کا بیٹا 5 سالہ مرشد علی اور محمد عمران ولد محمد شریف ساکنان چنکہ ارناس کے بطورہوئی ہے ۔زخمیوں کی شناخت 45 سالہ مختار احمد، 24 سالہ رضیہ بیگ دختر عبدالعزیز،8 سالہ سجاد احمد ولد محمد جمال اور 50 سالہ ارشدہ بیگم زوجہ عبدالعزیز کے بطور ہوئی ہے ۔ہسپتال ذرائع کے مطابق زخمیوں کی حالت مستحکم ہے ۔
بارہمولہ جنگجواعانت کارکی گرفتاری کادعویٰ
سرینگر//بارہ مولہ میںپولیس نے حفاظتی دستوں کے ہمراہ ممنوعہ تنظیم ٹی آر ایف(لشکرطیبہ)سے وابستہ جنگجواعانت کار کوگرفتار کرکے اُس کے قبضے سے قابل اعتراض مواد اوراسلحہ برآمدکیا۔ایک بیان کے مطابق بارہ مولہ پولیس نے سی آرپی ایف کے ساتھ ایک کارروائی کے دوران کچہامہ میں فاروق احمد نامی ایک شخص کو گرفتار کیا۔پولیس نے اُ سکے قبضے سے قابل اعتراض مواداور ایک ہتھ گولہ ،دوپستول میگزین ،16پستول رائونڈ برآمد کرنے کادعویٰ کیا ہے۔ اس سلسلے میں پولیس اسٹیشن شیری میں ایک کیس درج کیاگیا ہے۔
حضرت میر محمد ہمدانیؒ کا عرس آج
نیوذ ڈیسک
سرینگر// عرس مبارک حضرت میر سید محمد ہمدانیؒ کے سلسلے میں آج یعنی اتوارکو مساجد ، زیارت گاہوں خاصکر خانقاہوں میں تقاریب کا انعقاد ہوگا۔سب سے بڑی تقریب خانقاہ معلی میں منعقد ہوگی جہاں نماز ظہر کے بعد ختمات المعظمات ، درودو اذکار اور اوراد خوانی کی روح پرور مجالس کا انعقاد ہوگا۔ اس سلسلے میں عوام سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ وقت پر اس تقریب میں شرکت کریں۔
سویہ بگ بڈگام میں میلادکانفرنس ملتوی
سرینگر//حقانی میموریل ٹرسٹ نے سویبگ بڈگام کی مرکزی جامع مسجد میں اتواریعنی 24اکتوبر کومنعقد ہونے والی میلادکانفرنس بارش اور ناسازگار موسم کی وجہ سے ملتوی کی جارہی ہے۔ ٹرسٹ کے ایک بیان کے مطابق اگلی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
شہرمیں جگہ جگہ پانی جمع ہونے پر لائیگروکوتشویش
سرینگر//پیپلزڈیموکریٹک پارٹی کے یوتھ کارڈی نیٹر وسطی کشمیر عارف لائیگرونے شہرمیں جگہ جگہ پانی جمع ہونے پر تشویش کااظہار کیا ۔لائیگرونے ایک بیان میںکہا کہ شہرمیں پانی کے جمع ہونے سے نہ صرف ناکارہ نکاسی نظام آب بے نقاب ہوا ہے بلکہ لوگوں میں صحت وصفائی سے متعلق شعور کی کمی کوبھی عریاں کیا ہے کیونکہ نالیوں اورڈرینوں میں پالی تھین اور ناکارہ پلاسٹک کی بھرمار پائی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کوئی دورائے نہیں کہ متواترحکومتیں سرینگرمیں ایک مناسب اور معقول نکاسی آب نظام تعمیر کرنے میں ناکام ہوئی ہیں جوبھاری بارش کے پانی سے نمٹ لیتی۔لوگ بھی اس کے ذمہ دار ہیں کیونکہ وہ اپنے نکاسی آب نظام کی دیکھ ریکھ کرنے میں ناکام ہوئے ہیں ۔انتظامیہ کی بے حسی کی وجہ سے شہرمیں سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہوئی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں2014سے شہرمیں نکاسی آب کے ناقص نظام کے بارے میں آوازبلند کررہاہوں لیکن کوئی ٹھوس قدم نہیں اُٹھایا جارہا ہے ۔
قیوم وانی کا اظہار تعزیت
سرینگر//جے کے سول سوسائٹی فورم کے چیئرمین عبدالقیوم وانی نے ڈسٹرکٹ ریسورس پرسن محکمہ تعلیم اور سابق چیف ایجوکیشن افسرساکن کانس پورہ بارہمولہ شیخ ہارون کے والد شیخ عبدالقیوم کے انتقال پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک نیک آدمی تھا جو بڑی خوبیوں کا حامل تھا۔وانی نے مرحوم کی روح کے لیے ابدی سکون اور سوگوار خاندان کیلئے صبر جمیل کی دعا کی۔
پالتوکتوںکومعاملے پردو گھرانوںمیں تصادم
ستواری جموں میں45سالہ شخص گولی لگنے سے ہلاک
سرینگر//جموں کے ستواری علاقے میںپالتو کتوں کولیکرہمسایہ گھرانوںمیں ہوئے جھگڑے کے دوران ایک45سالہ شخص گولی لگنے سے ہلاک ہوگیاجبکہ 30سالہ نوجوان شدیدزخمی ہوگیاجو میڈیکل کالج جموں سے منسلک ہسپتال میں زیرعلاج ہے۔جمعہ کورات دیرگئے علاقہ میں اس وقت تشویش کی لہرپیداہوگئی ،جب یہاں دوہمسایہ کنبوںکے درمیان پالتوکتوںکولیکر لڑائی شروع ہوئی ۔مقامی لوگوںنے بتایاکہ پہلے دونوںکنبوںمیں تلخ کلا می ہوئی تاہم اس کے بعدجھگڑے نے اُس وقت خطرناک رُخ اختیارکرلیاجب ایک کنبے کے ایک فرد نے مبینہ طورپرشراب کے نشے میں دُھت ہوکر ریوالرنکالااورفائرنگ کی ۔ معمولی بات پر جھگڑے کے بعد فائرنگ کے واقع میں ایک 45 سالہ شخص ہلاک اور30سالہ دوسرا شدید زخمی ہوگیا۔پولیس ذرائع نے واقع کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ45سالہ جگل کشور اور 30سالہ مہندر لال اس واقع میں شدید زخمی ہوئے اورانہیں فوری طور پر گورنمنٹ میڈیکل کالج (جی ایم سی) ہسپتال جموںپہنچایا گیا ، جہاں جگل کشور کو مردہ قرار دیا گیا جبکہ مہندر لال سر میں چوٹ لگنے کے باعث زیر علاج ہے۔انہوں نے بتایا کہ پولیس نے مقدمہ درج کر لیا ہے۔ادھر مہندر لال کے اہل خانہ نے بتایا’’ یہ کشور کا بھائی تھا جس نے شراب کے نشے میں دھت ہوکرریوالور سے فائرنگ کی کیونکہ ہم نے پالتو کتوں کوکھلاچھوڑنے پر اعتراض کیا جو کہ علاقے کے لئے ایک پریشانی بن گئے ہیں اور یہاں تک کہ کتوںنے ان کی نابالغ بیٹی کو بھی کچھ عرصہ پہلے کاٹ لیا‘‘۔
پولیس میں ایس آئی عہدوںکی بھرتی
کووڈ وبا ء کے پیش نظر عمر میں نرمی کی جائے:عثمان مجید
سرینگر//اپنی پارٹی کے نائب صدر عثمان مجید نے جموں و کشمیر میں گزشتہ تین سالوں سے بڑھتی ہوئی بے روزگاری کی شرح پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ہفتہ کو جموں و کشمیر کے نوجوانوں کیلئے سب انسپکٹر بھرتی میں عمر میں نرمی کا مطالبہ کیا۔عثمان مجید نے بے روزگار تعلیم یافتہ نوجوانوں کی جموں و کشمیر پولیس میں سب انسپکٹر عہدوں کے لیے بھرتی کی عمر میں نرمی کے حوالے سے 28 سے 35 سال کے مطالبات کی بھرپور حمایت کی۔انہوںنے کہاچونکہ حکومت نے جے کے پی سی امتحانات میں ایک بار کی چھوٹ 32 سال سے لے کر 37 سال کی ہے، اسی طرح جموں و کشمیر پولیس میں ایس آئی کے عہدوں کے خواہشمندوں کو خاص طور پر وبائی امراض کے بعد کی صورتحال کے پیش نظر یہی رعایت دی جانی چاہئے۔ ایڈمنسٹریشن نے بھرتیوں کے لیے 800 ایس آئی پوسٹس کو مشتہرکیا ہے۔عثمان مجید نے کہا کہ خواہشمند امیدوار جو ایس آئی امتحان میں شرکت کرنا چاہتے ہیں اور پورے جوش و جذبے کے ساتھ ملک کی خدمت کرنا چاہتے ہیں انہیں یہ موقع فراہم کیا جانا چاہئے تاکہ ان کی توانائی کو صحیح سمت میں منتقل کیا جاسکے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر سے اپیل کی کہ وہ اس معاملے میں مداخلت کریں اور عمر کی حد کو عبور کرنے والے نوجوانوں کی اس اہم درخواست پر آواز اٹھائیں۔
آزادی کا امرت مہاا تسو
سوپور میں پینٹنگ مقابلہ پروگرام منعقد کیا
سرینگر //آزادی کا امرت مہااتسو کی جاری تقریبات کے ایک حصے کے طور پر پولیس نے سوپور میں ایس آر ایم ویلکن ہائر سیکنڈری اسکول کے ساتھ مل کر ایک مقابلہ منعقد کیا۔یہ مقابلہ تین زمروں کے تحت منعقد کیا گیا تھا جس میں کل40طلباء نے حصہ لیا۔مقابلے کے اختتام پر ایس ایس پی سوپور سدھانشو ورماکی صدارت میں انعامات کی تقریب منعقد ہوئی جس میں ایس ڈی پی او سوپور، ڈی وائی ایس پی (ڈی اے آر) اور دیگر سینئر پولیس افسران تھے۔ مقابلہ جیتنے والوں میں ٹرافیاں تقسیم کی گئیں۔ایس ایس پی سوپور نے اپنے خطاب میں طلباء کے ساتھ ساتھ منتظمین کی کامیابی اور ذہانت کو سراہا تاکہ اس طرح کے ایک منفرد ایونٹ کو متحرک کیا جا سکے۔ انہوں نے ضلع کے نوجوانوں اور ابھرتے ہوئے فنکاروں پر زور دیا کہ وہ فن کے ذریعہ اپنے خیالات اور تخیل کو تلاش کریں۔ ایس ایس پی سوپور نے دیگر افسران کے ساتھ ان کے مستقبل کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔