کوٹرنکہ قصبہ میں ٹائلٹ کمپلیکس موجود نہیں | عام لوگوں کو دقتوں کا سامنا ،انتظامیہ سے توجہ کی اپیل
محمد بشارت
کوٹرنکہ //سب ڈویژن ہیڈ کوارٹر کوٹرنکہ میں اس جدید دور میں بھی کوئی ٹائلٹ کمپلیکس تعمیر نہیں ہے جس کی وجہ سے قصبہ میں آنے والی خواتین ،بزرگوں و عام لوگوں کو شدید مشکلات درپیش ہیں ۔مکینوں نے بتایا کہ جموں وکشمیر انتظامیہ کیساتھ ساتھ مرکزی حکومت کی جانب سے چلائی گئی فلاحی سکیموں کے تحت کوٹرنکہ بلاک میں کروڑوں روپے خرچ کئے گئے ہیں لیکن بد قسمتی سے کوٹرنکہ قصبہ میں عام لوگوں کیلئے ابھی تک کوئی ٹائلٹ کمپلیکس تعمیر نہیں کیاجاسکا ۔غور طلب ہے کوٹرنکہ قصبہ ابھی تک میونسپل کمیٹی کے زیر تحت نہیں لایا جاسکا جبکہ اس کی تعمیر و ترقیاتی کاموں کی ذمہ دار محکمہ دیہی ترقی پر ہی عائد ہے ۔کوٹرنکہ قصبہ میں روزانہ کی بنیادوں پر سینکڑوں خواتین اور ہزاروں کی تعداد میں مرد آتے ہیں تاہم مشکل وقت میں بھی ان کو معیاری سہولیات دستیا ب نہیں ہیں ۔مقامی تاجروں نے بتایا کہ اس سلسلہ میں کئی مرتبہ متعلقہ حکام سے بھی رجوع کیا گیا لیکن یقین دہانیوں کے باوجود ابھی تک کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا گیا ہے ۔انہوں نے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ عام لوگوں کی سہولیت کیلئے کوٹرنکہ میں بیت الخلاء تعمیر کروایا جائے تاکہ ان کی پریشانی کم ہو سکے ۔
راجوری میں نوجوان کی مشکوک موت
راجوری //راجوری ضلع میں ایک نوجوان کی ہوئی مشکوک حالت میںموت کے بعد پولیس نے معاملہ درج کر کے مزید تحقیقاتی عمل شروع کر دیا ہے ۔جموںوکشمیر پولیس نے بتا یا کہ تحصیل منجا کوٹ کے گلہوتی علاقہ کا 20سالہ نوجوان کی مشکوک حالت میں موت واقعہ ہوئی ہے ۔اس کی شناخت صدام حسین ولد محمد امین سکنہ گلہوتی منجاکوٹ راجوری کے طور پر ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ نوجوان نے کوئی زہریلی چیز نگل لی جس کے بعد اس کی صحت خراب ہو گئی تھی تاہم اس کو مقامی ہسپتال منتقل کرنے کے بعد میڈیکل کالج راجوری ریفر کیا گیا تاہم مینڈھر کالج میں ڈاکٹروں نے اس کو مردہ قرار دے دیا ۔پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ درج کر تے ہوئے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔
’ہارڈ زون ‘ٹرانسفر لسٹ پر عمل درآمد کا مطالبہ
راجوری //راجوری ضلع میں محکمہ تعلیم میں تعینات ٹیچروں نے جموں وکشمیر محکمہ تعلیم سے مطالبہ کرتے ہوئے کہاکہ گزشتہ دنوں جاری ہوئی ’ہارڈ زون ‘ٹرانسفر لسٹ پر عمل درآمدکیا جائے ۔راجوری میں ایک پریس کانفرنس کے دوران ٹیچروں نے کہاکہ راجوری ضلع کے کچھ زونوں جن میں کوٹرنکہ ،خواص ،موگلہ ،کالا کوٹ اور ڈھونگی کو ’ہارڈ زون ‘(مشکل علاقوں) میں رکھا گیا ہے جبکہ ضلع کے دیگر زونوں میں پانچ برس تک خدمات انجام دینے کے بعد ملازمین کو ایک برس کیلئے ان ہارڈ زونوں میں تعینات کیا جاتا ہے تاکہ سٹاف کی قلت کو پورا کیاجاسکے ۔انہوں نے بتایا کہ 2019میں تعینات ملازمین کو 2020میں واپس بھیجا جانا تھا لیکن مذکورہ عمل میں ہوئی تاخیر کی وجہ سے اب ان ٹیچروں کو ’سالانہ منتقلی پلان ‘کے تحت ٹرانسفر کیا جارہا ہے ۔اساتذہ نے کہا کہ ہارڈ زون ٹرانسفر لسٹ اکتوبر کے آخری ہفتے میں جاری کی گئی تھی۔انہوں نے کہاکہ وہ سب اس فہرست کا حصہ ہیں ۔انہوں نے انہوں نے سیکریٹری سکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ سے مطالبہ کیا کہ اس ہارڈ زون ٹرانسفر لسٹ کو بحال کیا جائے۔
تحصیل دفتر کوٹرنکہ میں نظم و ضبط کا فقدان
لوگ کئی دنوں تک دفتر کے چکر کاٹنے پر مجبور
محمد بشارت
کوٹرنکہ //تحصیل آفس کوٹرنکہ میں ملازمین و آفیسران کو نظم و ضبط نہ ہونے کی وجہ سے مقامی لوگوں اور طلباء کو ضروری لورزامات کیلئے کئی دنوں تک دربدر ہونا پڑرہا ہے ۔مقامی لوگوں اور طلباء نے بتایا کہ وہ اراضی کے کاغذات کیساتھ ساتھ آمدنی سرٹیفکیٹ کیلئے کئی دنوں سے چکر کاٹ رہے ہیں لیکن مقامی ملازمین و آفیسران نہ ہونے کی وجہ سے ان کو روزانہ خالی ہاتھ واپس جانا پڑتا ہے ۔لیاقت علی ،مختار احمد ،سلیم احمد او ر محمد شبیر نامی افراد نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے تحصیل دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں تاکہ وہ زمینی ریکارڈ حاصل کر سکیں لیکن تحصیلدار نہ ہونے کی وجہ سے وہ روزانہ خالی ہاتھ واپس جانے پر مجبور ہوتے ہیں ۔اسی طرح کئی طلباء نے بتایا کہ وہ سکالر شپ فارم بھرنے کیلئے آمدنی سرٹیفکیٹ کیلئے کئی دنوں سے تحصیل دفتر میں آرہے ہیں لیکن تحصیل دفتر میں ملازمین و آفیسران کا معقول نظم و ضبط ہی نہیں ہے ۔مکینوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ کوٹرنکہ تحصیل دفتر کے کام کاج کو بہتر بنایا جائے تاکہ عام لوگوں کی پریشانی ختم ہو سکے ۔
شاہدرہ۔ کھبل والی رابطہ سڑک 4برسوں سے نامکمل
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // سب ڈویژن تھنہ منڈی کے علاقے شاہدرہ بس اڈہ تا کھبل والی مڈل سکول رابطہ سڑک گزشتہ چار برسوں سے تشنہ تکمیل ہے جس کے نتیجے میں عوام کو طرح طرح کے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ مقامی لوگوں نے بتایا مذکورہ سڑک کو چند سال قبل تعمیر کیا گیا تھا تاہم اس وقت سڑک پر تعمیری کام نہایت ہی سست رفتاری سے چل رہا ہے۔ واضح رہے کہ اس سڑک کی دیکھ ریکھ کا کام محکمہ پی ایم جی ایس وائی کو دیا گیا ہے۔ لوگوں کے مطابق سڑک نکالنے کے دوران متعدد زمینداروں کو اراضی کا معاوضہ نہیں دیا گیا جس کے نتیجے میں لوگوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ شاہدرہ شریف سے ایک مقامی نوجوان عنصر علی نے اپنے ساتھیوں کے ہمراہ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس سڑک پر جاری تعمیراتی کام میں سرعت لائی جائے نیز اس کی حفاظتی دیواری اور نالیاں وغیرہ بنا کر اس پر جلد سے جلد کنکریٹ اور تارکول بچھانے کا عمل شروع کیا جائے۔ مقامی لوگوں نے ضلع انتظامیہ سے مداخلت کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سڑک کو فوری طور پر مکمل کرنے کے احکامات جاری کئے جائیںتاکہ عوام کی پریشانیوں کا ازالہ ہو سکے۔
سڑک حادثے میں موٹر سائیکل سوار لقمہ اجل
رمیش کیسر
نوشہرہ //جموں پونچھ شاہراہ پر نوشہرہ سب ڈویژن میں ہوئے ایک سڑک حادثے میں ایک موٹر سائیکل سوار ہلاک جبکہ ایک شدید زخمی ہوگیا ۔نوشہرہ سب ڈویژن کے بگنوٹی علاقہ میں بدھ کے روز ایک بس زیر نمبر JK02BM-2789اور دوسری مسافر بس زیر نمبر JKO2AQ-2071کے درمیان تصادم کے دوران ہی ایک موٹر سائیکل زیر نمبر JK02CL-1300بھی مسافر گاڑی کیساتھ ٹکرا گیا ۔موٹر سائیکل پر دو افراد سوار تھے جو کہ شدید زخمی ہوگئے ۔ان دونوں زخمیوں کو سب ڈسٹر کٹ ہسپتال نوشہرہ منتقل کیا گیا جہاں پر رنجیت سنگھ ولد موہن سنگھ سکنہ پونچھ کی موت واقعہ ہو گئی جبکہ دوسرا زخمی جس کی شناخت رویندر سنگج ولد موہن سنگھ کے طور پر ہوئی ہے ،کو مزید علاج معالجہ کیلئے گور نمنٹ میڈیکل کالج جموں ریفر کر دیا گیا ہے ۔نوشہرہ میں پولیس نے اس سلسلہ میں ایک معاملہ در ج کرتے ہوئے مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں ۔
BGSBU میں تین روزہ سکل ورکشاپ اختتام پذ یر
راجوری //بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری میں چل رہی تین روزہ لائف سکل ورکشاپ اختتام پذیر ہوگئی ۔یونیورسٹی کے شعبہ مینجمنٹ سٹیڈیز اوع سیاحت کی جانب سے منعقدہ اس ورکشاپ کو منعقد کرنے کے لئے یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر اکبر مسعود نے منتظمین کی سراہنا کی ۔پروفیسر اکبر نے کہا کہ مسلسل بدلتے ہوئے ماحول میںمہارت کا ہونا روزمرہ کی زندگی کے چیلنجوں کا مقابلہ کرنے کے قابل ہونے کا ایک لازمی حصہ ہے۔وائس چانسلر نے کہا کہ جدید زندگی کی بڑھتی ہوئی رفتار اور تبدیلی سے نمٹنے کیلئے طلباء کو نئی زندگی کی مہارتیں سیکھنے کی ضرورت ہے جیسے کہ تناؤ اور مایوسی سے نمٹنے کی صلاحیت اور سوچنے اور مسائل کے حل کے نئے طریقے تلاش کرناوغیرہ جیسی مہار ت ہونا اشد ضروری ہے ۔تین روزہ ورکشاپ کے دوران کلاس سے باہر کی مختلف سرگرمیاں منعقد کی گئیں جن میں زندگی کی مختلف مہارتوں پر توجہ مرکوز کی گئی جن میں مسائل کو حل کرنے اور تنقیدی سوچ، مواصلات کی مہارت، فیصلہ سازی، تخلیقی سوچ، باہمی تعلقات، خود آگاہی، ٹیم کی تعمیر اور ہمدردی شامل ہیں۔
منڈی میں کسٹم ہائرنگ سنٹر کا افتتاح
منڈی //بلاک ڈیو لپمنٹ کونسل چیئر مین منڈی شمیم احمد گنائی نے سی ایچ سی آعظم آبادی منڈی میں ایک کسٹم ہائر نگ سنٹر کا افتتاح کیا ۔کسٹم ہائرنگ سنٹر کی افتتاحی تقریب کے بعد چیف ہارٹیکلچر آفیسر فرید احمد نے بتایا کہ کسٹم ہائرنگ سنٹر میں ٹلر، سپرے موٹرز، ٹریکٹر اور آبپاشی کے پمپ سیٹ رکھے جا رہے ہیں جنہیں کسان کرائے کی بنیاد پر کرائے پر لے سکتے ہیں ۔انہوں نے مزید کہا کہ یہ ہائرنگ سنٹر کسان برادری اور ضلع کو جدید مشینوں کی خریداری کے بغیر ان کی سہولیت کیلئے مکمل طور پر مدد کرے گا۔انہوں نے بتایا کہ مذکورہ سنٹر زراعت میکانائزیشن پر سب مشن سکیم کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ بی ڈی سی چیئرمیں نے نوجوانوں پر زور دیا و ہ مذکورہ نوعیت کی سہولیات سے زیادی سے زیادہ فائدہ اٹھائیں ۔
سکول بند ہونے سے نئی نسل تباہی کے دہانے پر پہنچ گئی
سب کچھ کھلا ہے تو تعلیمی ادارے بھی کھولے جائیں : خورشید بسمل
عظمیٰ یاسمین
تھنہ منڈی // مسلم ایجوکیشنل ٹرسٹ تھنہ منڈی کے چیئرمین اور پرائیویٹ سکول ایسوسی ایشن خطہ پیر پنجال کے چیئرمین خورشید احمد بسمل نے بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی میں ایک عظیم الشان پروگرام کے دوران بولتے ہوئے کہا کہ بڑے بڑے شاپنگ مال کھلے ہیں ، دینی سیاسی اور سماجی تقریبات میں لاکھوں لوگ آ رہے ہیں ، زندگی کے تمام شعبوں میں معمول کے مطابق کام ہو رہا ہے ،سیر و سیاحت وغیرہ پر کوئی روک ٹوک نہیں تو پھر سکول بند کرناجائز نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہے کہ ریاستی، حکومتی اور عوامی سطح پر تعلیم کو کبھی بھی اہمیت نہیں دی گئی جس کے نتائج بھی ہم بھگت رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ اگر شاپنگ مالز، بازار اور پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ پر بندش نہیں ہے تو پھر سکولوں کو بند رکھنے کی کیا وجہ ہے؟ انہوں نے کہا کہ یہ بات مضحکہ خیز اور عقلِ سلیم کے قطعاً الٹ ہے کہ بالغوں یعنی والدین کو تو کورونا ’’سمیٹنے‘‘ اور پھر آگے ’’بانٹنے‘‘ کے لئے آزاد چھوڑ دیا گیا ہے جبکہ بچے جنہیں خطرہ ہی کوئی نہیں ان کے سکول بند رکھے جارہے ہیں۔ انھوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ نئی نسل کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا گیا ہے بچے کتاب، قلم، سکول ،بستہ اور استاد کاتصور ہی بھول گئے ہیں اور اس کی جگہ وہ بدترین سماجی حرکات کے مرتکب ہو رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہزاروں پڑھے لکھے نوجوان پرائیویٹ اداروں میں اپنی معمولی روٹی روزی کا جگاڑ چلا رہے تھے لیکن بدقسمتی سے یہ بھی ان سے چھن گئی ہے اور حکومت کو ٹس سے مس نہیں ہے۔خورشید بسمل نے کہا کہ اگر حکومت کو واقعی بچوں کی تعلیم میں کوئی دلچسپی ہے تو شاپنگ مالز، بازاروں، پبلک ٹرانسپورٹ وغیرہ کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کو بھی کھول دینا چاہیے۔ انھوں نے گورنر انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ جلد از جلد تعلیمی اداروں کو کھولا جائے تاکہ نئی نسل کو ممکنہ تباہی سے بچایا جا سکے۔
محکمہ مال کا بلنائی میں کیمپ منعقد
عشرت حسین بٹ
منڈی //تحصیلدار منڈی شہزاد لطیف خان کی سربراہی میں بدھ کو تحصیل بلنائی علاقہ میں محکمہ مال کی جانب سے ایک کیمپ کا انعقادکیاگیا جس دوران مختلف طبقہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں میں اسناد تقسیم کی گیں۔کیمپ کے دوران پہاڑی طبقہ سے تعلق رکھنے والے 425 او بی سی طبقہ سے پانچ و دیگر زمروں کے تحت بھی اسناد تقسیم کی گئی ۔تحصیلدار منڈی شہزاد لطیف خان نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ اس سے قبل بھی انہوں نے تحصیل منڈی کے متعدد علاقوں میں ایسے کیمپوں کا اہتمام کر کے مختلف طبقہ جات سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو ان کی دہلیز پر پہنچ کر اسناد تقسیم کی ہیں۔آفیسر موصوف نے بتایا کہ اس سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے تحصیل کے بلنائی علاقہ میں بھی ایک کیمپ کے دوران مکینوں نے اسناد تقسیم کیں ۔انہوں نے کہاکہ اس عمل کوعوامی سہولیت کیلئے آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا ۔
پونچھ کی ناخواں والی سڑک پر ٹریفک جام روز کا معمول
راہگیروں ،ٹرانسپورٹروں اورتاجرین کو مشکلات کا سامنا
حسن محتشم
پونچھ// ضلع انتظامیہ پونچھ اور پولیس کی جانب سے شہر پونچھ کی اہم سڑکوں پر ٹریفک کے بہائوکو بہتر بنانے کے دعوے تو کئے جاتے ہیں لیکن شہر کی ناخواں والی سڑک پر ایسی کوئی منصوبہ بندی نظر نہیں آرہی ہے۔ ناخواں والی سڑک پرہمیشہ جام رہنے کی وجہ سے راہگیر ،گاڑیوں اور مقامی تاجرین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ مسلسل ٹریفک جام کے سبب نہ صرف عوام بلکہ ضلع ہسپتال پونچھ کو مریضوں کو لے جانے والی ایمبولنس کو بھی شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔ مقامی تاجرین نے بتایا کہ محکمہ ٹریفک پولیس کے عہدیدارو ںکی جانب سے کی جانے والی کاروائی بھی بے سود نظر آرہی ہے۔انھوں نے کہا کہ ناخواں والی اہم سڑک پر ٹریفک کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے ۔انھوں نے بتایا کہ لوگ اپنی گاڑیاں سڑک کے کناروں پرغیر قانونی طور پر پارک کر کے جاتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک جام لگتے ہیں۔انھوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے کئی بار کرین کے ذریعہ گاڑیوں کو پولیس نے ضبط بھی کیا لیکن اس کے باوجود لوگ گاڑیاں کھڑی کر کے چلے جاتے ہیں جس کی وجہ سے پونچھ شہر کی اس مصروف ترین سڑک پرجام لگ جاتا ہے۔ محکمہ ٹریفک پولیس کا کہناہے کہ ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ٹریفک جام کی سب سے بڑی وجہ ہے ۔انھوں نے کہا کہ اگر لوگ قوانین کی پابندی کریں گے تو نہ ٹریفک جام لگے گے اور نہ ہی سڑک حادثات پیش آئیں گے۔انھوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ سڑکوں پر ٹریفک کے بہائوکو بہتر بنائے لیکن اس میں ان کو عوام کے تعاون کی بھی بہت زیادہ ضرورت ہے۔
چھجلہ گائوں کے گمشدہ بچے کے والدین پریشان
حسین محتشم
پونچھ//سب ڈویژن مینڈھر کے گائوں چھجلہ سے9 اگست2021سے وجاہت حبیب اللہ ولد محمد شکیل لا پتہ ہیں جن کے والد اپنی آنکھوں میں آنسو لئے منتظر ہیں کہ کہیں سے ان کا کم عمر بچہ واپس آجائے۔فلاحی تنظیم چائلڈ لائن پونچھ کے دفتر میں چھجلہ گائوں سے لاپتہ ہونے والے بچے کے والد نے بتایا کہ ان کا بیٹا ماہ اگست سے لاپتہ ہے جس کا کچھ پتہ نہیں کہ وہ کہاں ہے۔انھوں نے غمگین لہجے میں بتایاکہ انہوں نے بچے کی گمشدگی کی ایف آئی آر بھی درج کرائی ہے مگر کہیں سے کوئی خبر نہیں ملی جس کی وجہ سے ان کی راتوں کی نیند اڑگئی ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایف آئی آر درج کرانے کے بعد پولیس تھانے میں بھی کئی چکر لگائے مگر کہیں سے بچوںکی کوئی اطلاع نہیں ملی۔انھوں نے کہا کہ اس دوران ایک بار کسی انجان نمبر سے بچے نے فون بھی کیا تھا لیکن کوئی خاص بات بھی نہیں ہوئی اور اس کے بعد اس کی کوئی خبر نہیں ہے۔بچے کے والد جو اپنے بیٹے کے گمشدہ ہوجانے کے باعث سخت تشویش اور پریشانی میں مبتلا ہیں ،نے چائلڈ لائن کے عہدیدار سبزار احمد سے اپیل کی کہ وہ ان کے بچے کی تلاش میں ان کی مدد کریں۔فلاحی تنظیم کے عہدیداران نے بچوں کے حوالے سے مفصل جانکاری حاصل کرنے کے بعد موقعہ پر ہی ایک ٹیم تشکیل دی جو بچے کی تلاش کرئے گی ۔ انھوں نے والدین کو یقین دلایا کہ وہ ان کے بچے کا پتہ لگانے کی ہر ممکن کوشش کریں گے۔ انھوں نے عام لوگوں سے اپیل کی کہ اگر بچے کے بارے میں کسی کو بھی کوئی اطلاع ہوتو وہ ٹول فری نمبر1098پر فون کر کے اطلاع کریں۔
فوج نے پونچھ میں ’فوٹو گرافی ‘مقابلے کا اہتمام کیا
پونچھ// سرحدی ضلع پونچھ میں لینک اپ ڈے کے حوالے سے تقریبات کا سلسلہ جاری ہے ۔اس سلسلہ کو جاری رکھتے ہوئے فوج کی گھڑی بٹالین کی جانب سے پونچھ کے ناٹو آڈیٹوریم میں او پی سدبھاونان کے تحت فوٹو گرافی مقابلہ کروایا گیا جس میں پونچھ کے مختلف علاقوں سے نوجوانوں نے اپنے کھینچے ہوئے بہترین فوٹو گراف پیش کئے ۔اس ایونٹ کا بنیادی مقصد فوٹو گرافی کو فروغ دینا اور پونچھ کے جوانوں کو اس طرف راغب کرنا تھا ۔فوج کی جانب سے نواجوں کی جانب سے لائی گئی تصاویر کی بہترین انداز میں نمائش کی گئی اور ان کی ماہرین کے ذریعہ فیصلہ بھی کروایا گیا ۔اس دوران کورونا پروٹوکول کی مکمل پابندی کی گئی۔پردیپ کھنہ نامی ایک سماجی کارکن نے کہا کہ ہند فوج اور عوام ہر سال 22نومبر کو لینک اپ ڈے مناتی ہے اس سال بھی یہ دن جوش و خروش کے ساتھ منایاجارہا ہے۔انھوں نے کہا کہ اس سلسلہ میں فوج کرکٹ اور ہاکی ٹورنامنٹ کروا رہی ہے اس کے علاوہ موسیقی کے مقابلے بھی ہورہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ 22نومبر کو اس سلسلہ کی اختتامی تقریب منعقد ہو گی جہاں مقابلوں میں بہتر کارکردگی دیکھانے والوںکو انعامات سے نوازا جائے گا ۔
آر ای ٹی کے زیر التوا کیسوں کو باقاعدہ بنانے کا مطالبہ
پونچھ//جموں و کشمیر ٹیچرس جوائنٹ ایکشن کمیٹی (جے کے ٹی جے اے سی) نے ڈائریکٹر جموں و کشمیر سے اپیل کی ہے کہ وہ ان رہبر تعلیم اساتذہ کے تمام زیر التوا کیسوں کو ریگولرائز کرنے کے عمل کو تیز کریںجو اپنی سروس کی باقاعدگی کیلئے طویل عرصے سے انتظار کر رہے ہیں ۔جے کے ٹی جے اے سی کے جنرل سیکرٹری نجم جعفری نے محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسران سے اپیل کرتے ہوئے کہاکہ بہت سے کیس زیر التوا ہیں، کچھ اساتذہ ریٹائرمنٹ کے دہانے پر ہیں اور ان میں سے اکثر فاقہ کشی کا شکار ہیں۔ انھوں نے اعلی حکام سے اپیل کی ہے کہ وہ ایسے اساتذہ کی ریگولرائزیشن لسٹ جاری کریں جو عرصہ دراز سے نامعلوم وجوہات کی بنا پر ریگولرائزیشن سے محروم ہیں اور موجودہ حالات میں ان کی زندگی دوبر ہو رہی ہے ۔انھوں نے ایل جی انتظامیہ سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اس معاملے کو دیکھیں اور متعلقہ افسرا کو اس کو حتمی شکل دینے کی ہدایت کریں۔انھوں نے اساتذہ کی تنخواہوں میں بھی اضافے کا مطالبہ کیا تاکہ اساتذہ گوناگوں پریشانیوں سے نجات مل سکے۔
2برسوں سے زیر تعمیر بنکروں کی ادائیگیاں نہ ہو سکی
پرویز خان
منجا کوٹ //تحصیل منجا کوٹ کے سرحدی علاقوں میں بنکروں کی تعمیر کا پروجیکٹ لگ بھگ ٹھنڈے بستے میں چلاگیا ہے جبکہ 2برس قبل شروع کردی تعمیر ات کی ابھی تک ادائیگیاں ہی نہیں کی جاسکی جبکہ ڈھانچے جوں کے توں ہی التوا کا شکار ہوگئے ہیں ۔سرحدی علاقوں کے مکینوں و ٹھیکیداروں نے بتایا کہ کئی ایک بنکر ایسے ہیں جن کی شیٹرنگ کی گئی تھی لیکن متعلقہ محکمہ کی جانب سے آج تک نہ تو مٹریل دیا گیا ہے اور نہ ہی دیگر کام کی ادائیگیاں کی گئی ہیں جس کی وجہ سے شیٹرنگ کا سازو سامان موقعہ پر ہی پڑا ہو ا ہے ۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ضلع انتظامیہ راجوری کی لاپرواہی کی وجہ سے جہاں عام لوگوں کیلئے سہولیت دستیاب نہیں ہو سکی وہائیں ٹھیکیداروں کیساتھ ساتھ مزدور طبقہ شدید مشکلات میں مبتلا ہو گیا ہے ۔سرحدی علاقوں کے مکینوں نے محکمہ پی ڈبلیو ڈی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ ضلع میں کئی ایک سڑکیں برسوں سے مکمل نہیں کی جاسکی ویسے ہی محکمہ اب بنکروں کی تعمیرات کیلئے سنجیدہ نہیں ہے ۔مزدور طبقہ نے بتایا کہ 2برس قبل کئے گئے کام کی ابھی تک اجرت نہیں دی گئی جس کی وجہ سے ان زندگی مشکل ہوتی جارہی ہے ۔بنکروں کی تعمیر سے وابستہ افراد نے جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ منجا کوٹ تحصیل میں بنکروں کی تعمیر مکمل کرنے کیساتھ ساتھ بقیہ ادائیگیاں جلداز جلد کی جائیں ۔
حفاظتی ٹیکوں کا عالمی دن منایا گیا
راجوری // گور نمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں محکمہ صحت کی جانب حفاظتی ٹیکوں کا عالمی دن منایا گیا ۔اس موقع پرمیڈیکل سپرنٹنڈنٹ، ڈاکٹر محمود حسین بجاڑ نے بتایا کہ ہر سال 10 نومبر کو حفاظتی ٹیکوں کے عالمی دن کے طور پر منایا جاتا ہے اور اس کا مقصد ویکسی نیشن کو ایک کم ٹیکنالوجی، کم لاگت، زیادہ مؤثر طریقے سے بیماری سے بچاؤ کے حل کے طور پر اجاگر کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ یہ دن لوگوں کوبروقت حفاظتی ٹیکے لگوانے کی اہمیت سے آگاہ کرنے کیلئے منایا جاتا ہے۔اس سلسلہ میں منعقدہ پروگرام کے دوران چیف اکائو نٹ آفیسر ،ہسپتال کے ڈاکٹر و دیگر ملازمین بھی موجود تھے ۔
سماجی کارکن نواز خان کو صدمہ
مینڈھر //سماجی کارکن نواز خان کا بھائی نیاز خان حرکت قلب بند ہونے کی وجہ سے انتقال کرگیا ۔مرحوم کے نماز جنازہ میں سینکڑوں کی تعداد میں معززین نے شرکت کی جبکہ ان کو آبائی گائوں کلر موڑہ میں پُر نم آنکھوں کیساتھ سپرد خاک کر دیا گیا ۔ان کی عمر 50برس کے قریب بتائی جارہی ہے جبکہ مرحوم کی ہوئی اچانک وفات پر کئی سیاسی ،سماجی و مذہبی شخصیات نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔یہاں جاری ایک مشترکہ تعزیتی بیان میں سابقہ وزیر نثار خان ،سابقہ ایم ایل سی راحیم داد ،رشید قریشی ،مرتضی خان ،ڈی ڈی سی وائس چیئر مین اشفاق چوہدری ،انجینئر واجد بشیر خان ،ڈی ڈی سی ممبر باجی محمد فاروق ،ڈی ڈی سی ممبر مسرت جبین ،بی ڈی سی ممبر امان اللہ چوہدری ،طاہرہ جبین ،شمیم اختر ،سرپنچ قیوم خان ،افتاب خان ،وسیم احمد خان ،ایڈوکیٹ معروف خان ،ایڈوکیٹ ندیم خان ،یوتھ لیڈر احسان اکرم ودیگران نے گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے اہل خانہ کیساتھ تعزیت کا اظہار کیا ہے ۔