مہینوں سے ایم جی نریگا کی اجرتوںسے محروم ،حکام پر عدم توجہی کا الزام
محمد تسکین
بانہال// دنیا بھر کی طرح جموں و کشمیر میں بھی جمعہ کو یومِ مزدور کے موقع پر مختلف تقاریب میں حسب سابقہ محنت کشوں کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا اور ان کی خدمات کو سراہا جا رہا ہے لیکن وادیٔ چناب کے اضلاع رام بن، ڈوڈہ اور کشتواڑ میں زمینی صورتحال اس کے برعکس دکھائی دیتی ہے، جہاں مزدور طبقہ شدید مالی اور سماجی مشکلات کا سامنا کر رہا ہے۔وادیٔ چناب کے مختلف علاقوں سے موصولہ اطلاعات کے مطابق دیہی روزگار اسکیم مہاتما گاندھی نیشنل رولر ایمپلائمنٹ گارنٹی سکیم (منریگا) کے تحت کام کرنے والے سینکڑوں مزدور کئی مہینوں سے اپنی اجرتوں کے منتظر ہیں۔ وادی چناب کے کئی علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی مزدوروں اور پنچایتی نمائندوں نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے کہ انہوں نے ضلع رامبن ، ڈوڈہ اور کشتواڑ کے مختلف بلاکوں اور پنچایتوں میں دیواروں کی تعمیر، دیہی راستوں کی بہتری، نالیوں کی صفائی و تعمیر، برائیڈل پاتھوں، چھوٹے پلوں ، پنچایت گھروں کی تعمیر اور آبپاشی نہری نظام کی بحالی جیسے متعدد ترقیاتی کام انجام دیے ہیں لیکن پچھلے سال ستمبر ۔ اکتوبر میں کام مکمل کرنے کے باوجود ان کی اجرتیں محکمہ دیہی ترقیات نے ادا ہی نہیں کی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ محنت کش مزدوروں کیطرف سے ان منصوبوں پر مسلسل کام کرنے کے باوجود انہیں اب تک ان کی محنت کا معاوضہ نہیں ملا ہے اور جب وہ اپنی بقایا رقومات کیلئے متعلقہ دفاتر سے رجوع کرتے ہیں تو رقومات کی عدم دستیابی کا جواز پیش کیا جاتا ہے، جبکہ محکمہ دیہی ترقیات کے ضلعی حکام اس معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بے روزگاری اور مہنگائی کے دور میں اجرتوں کی تاخیر نے ان کی زندگیوں کو شدید متاثر کیا ہے۔ کئی خاندان ایسے ہیں جن کا مکمل انحصار انہی اجرتوں پر ہے، اور ادائیگی نہ ہونے کی وجہ سے انہیں بنیادی ضروریات پوری کرنے میں دشواری پیش آ رہی ہے۔سماجی و عوامی حلقوں نے بھی اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یومِ مزدور جیسے اہم دن پر محض بیانات اور تقاریب کافی نہیں ہوتی ہیں بلکہ عملی اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر محنت کشوں کے مسائل کو بروقت حل نہ کیا گیا تو اس کے سماجی اور معاشی اثرات مزید گہرے ہو سکتے ہیں اور مزدور طبقے کی پہلے سے ہی دشوار گزار زندگی مزید دشوار اور کٹھن ہو کر رہ جائے گی۔