بلال فرقانی
سرینگر//جموں و کشمیر میں جل جیون مشن کے تحت واجبات کی رقم 1500 کروڑ روپے سے تجاوز کرگئی ہے۔ تاہم 1300 کروڑسے زائد اب بھی دستیاب ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق خطہ میں سکیم کے تحت جاری منصوبوں کی بڑی تعداد ابھی تکمیل کے مراحل میں ہے جس کے باعث بقایا جات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ مرکزی سطح پر 13,343 کروڑ روپے مختص کیے گئے تھے تاکہ ہر گھر کو نل کے ذریعے پینے کا صاف پانی فراہم کیا جاسکے۔ حکومتی ریکارڈ کے مطابق 70 سے 80 فیصد کام مکمل کیا جاچکا ہے اور 15.64 لاکھ گھرانوں کو فنکشنل ہاو ہولڈ ٹیپ کنکشن فراہم کیے گئے ہیں۔ جب موجودہ حکومت نے اقتدار سنبھالا تو بقایا جات تقریبا 400 کروڑ روپے تھے، جو مختلف منصوبوں کی پیش رفت اور فنڈز کی تاخیر سے اجرائی کے باعث بڑھ کر 1500 کروڑ روپے سے زیادہ ہوگئے۔ سکیم میں دسمبر 2028 تک توسیع کی گئی تاکہ باقی کام مکمل کیے جاسکیں۔
مالی اعداد و شمار کے مطابق 2019-20سے 2024-25کے دوران اس مشن کیلئے جموں و کشمیر کو 3,107.06 کروڑ روپے کی فنڈنگ فراہم کی گئی، جو 90:10کے تناسب سے مرکز اور یونین ٹیریٹری کے درمیان تقسیم ہے۔ اس میں سے مرکزی حکومت کا حصہ 2,773.55 کروڑ روپے رہا، جس میں 660.69 کروڑ روپے کی ابتدائی رقم اور 2,112.86 کروڑ روپے کی تازہ تخصیص شامل ہے۔محکمہ جاتی ذرائع کے مطابق کل فنڈس کے مقابلے میں اب تک صرف 1,477.46 کروڑ روپے خرچ کیے جا سکے ہیں، جبکہ 1,354.55 کروڑ روپے تاحال دستیاب ہیں، جس سے منصوبے پر عملدرآمد کی رفتار پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ مرکزی حصے میں 1,341.93 کروڑ روپے خرچ ہوئے، حالانکہ صرف 693.86 کروڑ روپے ہی واگزارکیے گئے۔ دوسری جانب جموں کشمیر حکومت کے حصے میں 333.51 کروڑ روپے کی رقم کے مقابلے میں صرف 135.53 کروڑ روپے خرچ کیے گئے۔مالی وسائل کے غیر موثر استعمال کے ساتھ ساتھ زمینی سطح کی صورتحال بھی تشویشناک ہے۔سرکاری اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں دیہی گھرانوں کی مجموعی تعداد 19 لاکھ 25 ہزار 535 ہے۔ 15 اگست 2019 تک، یعنی جل جیون مشن کے آغاز سے قبل، 29.89 فیصد کی شرح سے صرف 5 لاکھ 75 ہزار 466 گھرانوں کو نلکے کے پانی کی سہولت حاصل تھی، جبکہ 13 لاکھ 50 ہزار 69 گھرانے اس بنیادی سہولت سے محروم تھے۔مشن کے آغاز کے بعد 9 لاکھ 88 ہزار 634 دیہی گھرانوں کو نلکے کے پانی سے جوڑا گیا، جو پہلے سے محروم گھروں کا 73.23 فیصد بنتا ہے۔ اس کے نتیجے میں اس وقت جموں و کشمیر میں 15 لاکھ 64 ہزار 100 گھرانوں تک نلکے کے پانی کی سہولت پہنچ چکی ہے، جو مجموعی طور پر 81.23 فیصد کوریج کو ظاہر کرتی ہے۔
اس کے باوجودتقریبا 3.39 لاکھ دیہی گھرانے آج بھی نلکے کے پانی سے محروم ہیں اور انہیں روایتی یا غیر محفوظ آبی ذرائع پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔جل جیون مشن کا مقصد ہر دیہی گھرانے کو فعال نل کنکشن فراہم کرنا ہے، تاہم عملدرآمد میں تاخیر، ضلع وار غیر مساوی پیش رفت اور فنڈز کے کم استعمال کے باعث یہ ہدف ابھی دور نظر آتا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ 1,350 کروڑ روپے سے زائد رقم دستیاب ہونے کے باوجود اگر منصوبوں پر تیزی، مو †ر نگرانی اور ضلع سطح پر جواب دہی کو یقینی نہ بنایا گیا توہر گھر نل سے جل مشن کے مقاصد مقررہ مدت میں حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔مالی سال 202627 کے لیے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سیکٹر میں 1561.9 کروڑ روپے کا کیپکس بجٹ تجویز کیا گیا ہے، جو گزشتہ نظرثانی شدہ تخمینے 1399.5 کروڑ روپے کے مقابلے میں 10.4 فیصد زیادہ ہے۔ گزشتہ برس 302 کروڑ روپے کی لاگت سے 69 واٹر سپلائی منصوبے مکمل کیے گئے، جن سے تقریبا 29 ہزار گھرانوں کو فائدہ پہنچا۔نبارڈ کے رورل انفراسٹرکچر ڈیولپمنٹ فنڈ کے تحت 740.49 کروڑ روپے کی لاگت سے 57 پینے کے پانی کی اسکیمیں زیرِ عمل ہیں۔ ان میں سے 7 مکمل ہوچکی ہیں جبکہ باقی کو 202627 میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ یو ٹی کیپکس کے تحت 1136 واٹر سپلائی کام جاری ہیں، جن میں سے 419 مکمل اور 550 آئندہ مالی سال میں مکمل کیے جانے ہیں۔