سرینگر//پولیس نے محکمہ بجلی کے عارضی ملازمین کی جانب سے سیکریٹریٹ کی جانب پیش قدمی کو روکتے ہوئے انہیں منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا،جبکہ مظاہرین نے بعد میں سرینگر کی پریس کالونی میں اپنی مستقلی اور تنخواہوں کی واگزاری کے حق میں احتجاج کیا۔ پیر کو محکمہ بجلی کے مستقل اور عارضی ڈیلی ویجر نمائش گاہ کے قریب چیف انجینئر کے دفتر کے احاطے میں جمع ہوئے اور اپنی مستقلی کے حق میں نعرہ بازی کرتے ہوئے احتجاج کیا۔ اس موقعہ پر نعرہ بازی کرتے ہوئے عارضی ملازمین نے سیکریٹریٹ پیش قدمی کرنے کی کوشش کی تاہم پولیس نے انہیں پرامن طور پر منتشر ہونے کی ہدایت دی تاہم ملازمین نے اس ہدایت کو نظر انداز کیا۔ اس موقعہ پر طرفین میں مخاصمت ہوئی،جس کے بعد پولیس نے احتجاجی عارضی ملازمین کو منتشر کرنے کیلئے لاٹھی چارج کیا،جس کے نتیجے میں جہانگیر چوک میںکچھ وقفہ کیلئے گاڑیوں کی نقل و حرکت بھی متاثر رہی اور ملازمین منتشر ہوئے۔ بعد میں ان ملازمین نے پریس کالونی میں جمع ہوکر احتجاج کیا۔ عارضی ملازمین کی انجمن ٹی ڈی ایل و ڈی ایل الیکٹرک یونین کے ترجمان محمد ادھیر نے کہا کہ گزشتہ کئی برسوں سے مستقلی کے حوالے سے ان کی فائیلیں سیکریٹریٹ اور محکموں میں زیر التواء ہیں اور ان پر کوئی بھی پیش رفت نہیںہو رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ بیشتر ملازمین 10سال سے زائد عرصے سے کام کر رہے ہیں۔ محمد ادھیر نے کہا کہ جو ملازمین حادثات کے شکار ہوئے اور ان کے بدلے جو ان کے نزدیکی رشتہ داروں کو تعینات کیا گیا انکی تنخواہوں کو بھی واگزار نہیں کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کم از کم تنخواہ کی سفارشات کو بھی نظر انداز کیا جا رہا ہے۔اس دوران الیکٹرک ایمپلائز یونین سرکل پلوامہ کے صدر غلام محی الدین نے عارضی ملازمین پر لاٹھی چارج کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ نامساعد صورتحال کے دوران ان ملازمین نے اپنی زندگی کو خطرے میں ڈال کر عوام کی خدمات انجام دی ہے۔