جب انسان کا ذہن بلوغیت کے مراحل سے گزر رہا ہوتا ہے تو انسان کی زندگی پر کئی طرح سے نفی پہلووں کا غلبہ رہتا ہے اور یہیں سے اس کے اندر کئی طرح کی برائیاں جنم لینا شروع کر دیتی ہیں جو بعد میں سماجی برائیوں کا روپ دھارن کر لیتی ہیں۔اسی لیے کامیابی کی راہیں ہموار کرنے کے لیے یا بہ الفاظ دیگر مثبت قدم اٹھانے کے لیے لازمی ہے کہ ہم منفی سوچ سے گریز کریں۔ اگر ایک انسان خود کو منفی سوچ کے غلبے سے آزاد نہیں کر پائے گا، اُس کے لیے مثبث سوچ کے ساتھ کامیاب زندگی گزارنا ناممکن ہے۔
تحقیق کے مطابق ہر انسان کے ذہن میں ہر روز کم و بیش پچیس سے لے کر پچاس ہزار تک خیال آتے ہیں اور ان خیالات کی نوعیت ہی انسان کو بناتی ہے۔ہم مثبت سوچیں گے تو ہماری شخصیت بھی مثبت بن جائے گی،اسی طرح اگر ہم ہر وقت منفی ہی سوچیں گے تو ہمیں ہر چیز کا منفی پہلو ہی نظر آنا شروع ہوگا اور منفی سوچ کے ساتھ ہم کبھی مثبت زندگی نہیں گزار سکتے۔
سوچ ایک ایسا خزانہ ہے جو انسان کے کردار و عادات کا حصہ بن کر رہتی ہیں۔یہ بات میں برملا کہتا چلوں کہ اگر ہماری قوم بالخصوص نئی نسل میں منفی سوچ کا غلبہ رہا تو وہ دن دور نہیں جب ہم اور ہماری آنے والی نسل منفی سوچ ہی کی وجہ سے ایک ایسے بھنور میں پھنس جائے گی جہاں سے نکل پانا مشکل ہوگا۔
تحقیق سے یہ چیز ثابت ہوئی ہے کہ کامیاب قوموں کے عروج و زوال کا راز اُن کی (منفی،مثبت) سوچ پر مبنی ہے۔ اپنے مستقبل کو روشن اور تابناک بنانے کے لیے مثبت رویہ اور مثبت سوچ اولین شرط ہے۔ پھر حالات چاہے کتنے ہی دگرگوں اور سنگین کیوں نہ ہوں، انسان سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح اُن حالات میں بھی اپنے کام کو جاری رکھ سکتا ہے اور باوجود طاقت کے وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہوگا۔انسان کی سوچ اور اس کے خیالات میں تنوع پایا جاتا ہے جو ایک فطری عنصر ہے۔اس میں کچھ خیالات مثبت ہوتے ہیں جو انسان کے لیے سود مند ہوتے ہیں اور کچھ خیالات منفی ہوتے ہیں جس کی وجہ سے وہ جذبات کی رَو میں بہہ کر جلد بازی میں غلط راستے کا انتخاب کرتا ہے جو اس کے لیے نقصان دِہ ثابت ہوتے ہیں۔مثبت سوچ کا انتخاب کرنے سے ہی ایک فعال قوم کے لیے ماحول سازگار اور کارآمد ہوسکتا ہے۔پھر اسی ماحول سے متاثر ہو کر قوموں میں ایسے اشخاص نمودار ہوتے ہیں، جن کے کارنامے رہتی دنیا تک قابل داد اور لوگوں کے لیے سود مند ثابت ہوتے ہیں۔
آئینسٹائن کا مشہور قول ہے کہ جو دنیا ہم نے بنائی ہوتی ہے ،وہ ہماری سوچ کی وجہ سے بنتی ہے۔اپنی سوچ کو تبدیل کیے بنا ہم اپنی دنیا کو نہیں بدل سکتے۔
آپ کی زندگی میں آپ کے اردگرد موجود اچھی چیزیں،آپ کی زندگی میں آنے والے اچھے لوگ ،آپ کی زندگی بدلنے والی تمام اچھی عادتیں اور زندگی میں مشکلات کا بہادری سے سامنا کرنا یہ سب کچھ دراصل آپ کی مثبت سوچ کا نتیجہ ہوتا ہے۔
مثبت سوچ کا مثبت اور منفی سوچ کا نتیجہ منفی نکلتا ہے۔مثبت سوچ اور پختہ عزم رکھنے والے افراد ہی کامیاب رہتے ہیں۔کامیاب زندگی کا انحصار انسان کی مثبت سوچ اور رویوں پر ہوتا ہے۔ جب کہ ناکام زندگی کی بڑی وجہ منفی سوچ اور منفی رویہ ہوتی ہے۔محققین نے یہ نتائج اخذ کیے ہیں کہ مثبت سوچ فرد کی شخصیت کو سنوارنے اور نکھارنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس کے ساتھ ساتھ ان کی نفسیاتی اور جسمانی صحت دوسرے لوگوں کی بہ نسبت قدرے بہتر ہوتی ہے۔کیوں کہ مثبت سوچ انسان کی صحت پر خوش گوار اثرات چھوڑتی ہے۔جب کہ منفی سوچ انسان کے اندر مایوسی پیدا کرتی ہے اور اسے ذہنی مریض بنانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتی ہے جس کی وجہ سے اس کی پوری شخصیت مسخ ہو کر رہ جاتی ہے۔
دوستو! ضرورت اس بات کی ہے ہم اپنی زندگی اور زندگی کے ہر شعبہ میں مثبت سوچ اور مثبت رویے ہی اختیار کریں ۔جوں ہی کوئی منفی خیال آئے اس کو فوراً مثبت سوچ میں تبدیل کرنے کی کوشش کریں۔ اس طرح ہمارے اندر مثبت سوچنے کی عادت بڑھ جائے گی۔ ہر خرابی میں خیر کا پہلو تلاش کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے اذہان میں اچھے ،صاف ستھرے،طاقتور اور مثبت خیالات ڈالتے رہیں۔اپنی روزمرہ گفتگو میں مثبت تاثر مرتب کرنے والے الفاظ کا استعمال کریں۔مثبت سوچ رکھنے والے افراد کی صحبت اختیار کریں۔منفی سوچ رکھنے والے،مایوسی اور نا امیدپھیلانے والے اور ہوائی قسم کی باتیں کرنے والے لوگوں سے اجتناب کریں۔
میری تحریر کی زد میں ابھی تو کچھ نہیں آیا
مجھے جو کچھ بھی کہنا تھاابھی میں کہہ نہیں پایا
رضا نقوؔی
(طالبِ علم:شعبہ اردویونیورسٹی آف کشمیر)