بحر ِ ہند میں ایرانی جنگی جہاز پر حملہ بھارت کو جنگ میں گھسیٹنے کی کوشش :وزیراعلیٰ
سشمیتا
جموں// وزیر اعلیٰ جموں و کشمیر عمر عبداللہ نے جمعرات کو عوام سے اپیل کی کہ وہ امن و امان برقرار رکھیں اور ایسے عناصر کو موقع نہ دیں جو ایران سے متعلق حالیہ پیش رفت کے پس منظر میں جموں و کشمیر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر سکتے ہیں۔میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ بدھ کے روز سرینگر میں سول سوسائٹی کے نمائندوں اور بعض مذہبی رہنماؤں کے ساتھ ایک اجلاس منعقد کیا گیا تھا، جس کے بعد عوام سے امن برقرار رکھنے کی اپیل جاری کی گئی۔انہوں نے کہا’’ہم نے عوام سے کہا ہے کہ وہ قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔ ساتھ ہی یہ بھی ضروری ہے کہ جو دشمن عناصر یا گروہ وقتاً فوقتاً جموں و کشمیر کے ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کرتے ہیں، انہیں اس صورتحال سے فائدہ اٹھانے کا موقع نہ دیا جائے‘‘۔وزیر اعلیٰ یہ باتیں شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی جموں میں جموںو کشمیر کمپٹیٹیونس امپروومنٹ آف ایگریکلچر اینڈ الائیڈ سیکٹرز پروجیکٹ کے تحت منعقدہ سٹارٹ اپ آؤٹ ریچ پروگرام سے خطاب کے بعد میڈیا کے سوالات کے جواب میں کہہ رہے تھے۔
یہ پروگرام یونیورسٹی اور محکمہ زرعی پیداوار جموں و کشمیر کے اشتراک سے منعقد کیا گیا تھا۔امریکہ کی جانب سے بحرِ ہند میں ایران کے جنگی جہاز پر حملے سے متعلق سوال پر وزیر اعلیٰ نے اسے افسوسناک قرار دیا۔انہوں نے کہا’’یہ انتہائی قابلِ مذمت اور افسوسناک واقعہ ہے۔ ایرانی جنگی جہاز کے اہلکار ہمارے مہمان تھے۔ وہ یہاں بحری مشق کے لیے بھارت آئے تھے اور واپسی کے دوران اس جہاز پر حملہ کیا گیا۔ اس طرح کی صورتحال سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے ملک کو بھی اس تنازع میں گھسیٹنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ تاہم مستقبل میں کیا ہوگا اس پر تبصرہ کرنا میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس صورتحال نے جموں و کشمیر کے لوگوں میں تشویش پیدا کر دی ہے کیونکہ خطے کے کئی شہری اس وقت ایران میں موجود ہیں۔انہوں نے کہا’’بہت سے طلبہ بھی ایران میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ہم مرکزی حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں تاکہ انہیں مرحلہ وار اور محفوظ طریقے سے واپس لایا جا سکے۔ ہمیں امید ہے کہ ہم جلد انہیں بحفاظت وطن واپس لانے میں کامیاب ہوں گے‘‘۔
پڑوسی ملک نیپال میں جاری عام انتخابات سے متعلق سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ یہ ایک مثبت پیش رفت ہے۔انہوں نے کہا’’جمہوریت میں حکومت بنانے کے لیے انتخابات ضروری ہیں۔ خبروں کے مطابق نیپال میں ایک نئی قیادت ابھر کر سامنے آئی ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ وہاں کے عوام کیا فیصلہ کرتے ہیں‘‘۔بہار کے وزیر اعلیٰ نتیش کمار کے راجیہ سبھا کے لیے نامزدگی داخل کرنے کے بارے میں سوال پر عمر عبداللہ نے کہا کہ اگرچہ یہ بہار کا اندرونی معاملہ ہے، تاہم نتیش کمار کبھی انڈیا اتحاد کے اتحادی بھی رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نتیش کمار نے بہار کے عوام کی طویل عرصے تک خدمت کی ہے اور انہیں راجیہ سبھا میں نئی ذمہ داری کے لیے نیک تمنائیں پیش کیں۔سٹارٹ اپ پروگرام کی اہمیت کے حوالے سے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت زرعی شعبے اور اس سے منسلک خدمات میں سٹارٹ اپ کلچر کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم پروگرام چلا رہی ہے۔انہوں نے بتایا کہ ہولیسٹک ایگریکلچر ڈیولپمنٹ پروگرام اورJKCIP کے علاوہ مشن یوواکے ذریعے نوجوانوں میں کاروباری جذبہ اور جدت پر مبنی کاروبار کو فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا’’ان پروگراموں کے تحت نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے میں رہنمائی اور تعاون فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ وہ خود روزگار کے مواقع پیدا کر سکیں‘‘۔وزیر اعلیٰ نے مزید بتایا کہ ان منصوبوں کے تحت جموں و کشمیر کے تعلیمی اداروں کو بھی خاطر خواہ مالی مدد فراہم کی گئی ہے، جس سے خصوصاً سکاسٹ جموں اورسکاسٹ کشمیرمیں تحقیقی اور توسیعی سرگرمیوں کو مضبوط بنانے میں مدد ملی ہے۔