عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر//اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے حکومت پر زور دیا کہ وہ سرینگر شہر کے باشندگان کی معاشی بہتری اور ترقی کو یقینی بنانے کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔ انہوں نے کہا کہ سرینگر کے عوام گزشتہ کئی دہائیوں سے معاشی ترقی کے لحاظ سے نظرانداز کئے گئے ہیں اور محرومی کا شکار رہے ہیں۔ حالانکہ انہوں نے بارہا انہی روایتی سیاسی جماعتوں پر اعتماد کیا جو گزشتہ سات دہائیوں کے دوران زیادہ تر عرصے تک جموں و کشمیر میں اقتدار میں رہیں۔اپنی پارٹی کے سربراہ نے یہ باتیںسرینگر کے مائسمہ میں جموں و کشمیر اپنی پارٹی کے زیر اہتمام منعقدہ ایک عوامی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہیں۔اس موقع پر پرجوش مقامی باشندوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور جلسہ گاہ پہنچنے پر سید محمد الطاف بخاری اور ان کے ہمراہ آنے والے پارٹی رہنماؤں کا گرمجوشی سے استقبال کیا۔ اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے مائسمہ کے عوام کا شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے انہیں یہاں اس جلسہ منعقد کرنے کےلئے مدعو کیا اور امن و استحکام کے لیے اپنی حمایت کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک امر ہے کہ اسمبلی انتخابات میں بھرپور شرکت کے باوجود مائسمہ اور اس سے ملحقہ علاقوں کے باشندوں کو معاشی ترقی کے اقدامات کے حوالے سے حکمران جماعت نے نظرانداز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسمبلی انتخابات میں بڑی تعداد میں ووٹنگ نے واضح پیغام دیا کہ عوام نے تشدد کا راستہ مسترد کر دیا ہے اور وہ امن کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے پرعزم ہیں۔ حکمران جماعت کو انتخابات میں کامیابی کے بعد اس پیغام کا مثبت جواب دینا چاہیے تھا۔انہوں نے روایتی سیاسی جماعتوں اور ان کے قائدین کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں تک اقتدار میں رہنے کے باوجود انہوں نے سرینگر شہر کی معاشی ترقی اور خوشحالی کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش نہیں کی۔ انہوں نے کہا، ’’ گزشتہ ستر برسوں کے دوران اقتدار کے ایوانوں میں رہنے والے سیاست دانوں نے شہر کے عوام کو بااختیار بنانے کے بجائے انہیں مزید کمزور کیا۔ درحقیقت سرینگر کے باشندوں کو انہی جماعتوں نے بدترین حالات اور شدید معاشی مشکلات سے دوچار کر دیا جنہوں نے دہائیوں تک جموں و کشمیر پر حکمرانی کی۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’ آج بھی مائسمہ ، کوکر بازار اور سرینگر کے ڈاؤن ٹاؤن کے کئی علاقوں میں غربت عیاں ہے۔ شہر کے بہت سے حصوں میں مناسب رہائش کی کمی کے باعث کئی خاندان ایک ہی گھر میں رہنے پر مجبور ہیں۔
اس طرح کے مشکل حالات کے باعث شادیوں میں تاخیر ہو رہی ہے اور بعض صورتوں میں لوگ شادی ہی نہیں کر پاتے، کیونکہ ان کے پاس مناسب رہائش اور مالی وسائل کی کمی ہوتی ہے۔‘‘ انہوں نے سوال اٹھایا کہ ’’یہ روایتی جماعتیں دہائیوں تک اقتدار میں رہیں تو پھر انہوں نے یہاں کے عوام کی معاشی حالت بہتر بنانے کے لیے کیا کیا؟‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’سب سے افسوسناک بات یہ ہے کہ سرینگر کے باشندے کسی بھی ریزرویشن زمرے میں شامل نہیں ہیں، جس کی وجہ سے انہیں سرکاری ملازمتیں ملنے کے بھی بہت کم امکانات ہوتے ہیں۔ کم از کم حکمرانوں کو چاہیے تھا کہ انہیں ’معاشی طور پر کمزور طبقات ‘کے زمرے میں شامل کیا جاتا تاکہ وہ اپنے جائز حقوق سے فائدہ اٹھا سکتے‘‘۔اگست 2019میں آرٹیکل 370 کی منسوخی کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی پارٹی کے صدر نے علاقائی سیاسی جماعتوں کو اس اقدام میں ملوث قرار دیا۔ انہوں نے کہا، ’’سب سے پہلے انہی جماعتوں نے گزشتہ سات دہائیوں کے دوران آرٹیکل 370 کو کمزور کرنے میں مرکز کی مدد کی اور پھر آخرکار 5 اگست 2019 کو اس کی منسوخی میں بھی ان کی ملی بھگت رہی۔
میں عوام کی اس بات پر سراہنا کرتا ہوں کہ انہوں نے دفعہ 370 کی منسوخی کے بعد سڑکوں پر نکل کر اپنی جانوں کو خطرے میں نہیں ڈالا، کیونکہ ایسے منصوبے بنائے گئے تھے جن کے نتیجے میں ہمارے نوجوانوں کا خون بہہ سکتا تھا۔ یاد کریں کہ جب یہ روایتی جماعتیں اقتدار میں تھیں تو پولیس کا رویہ کتنا سخت ہوتا تھا۔ جب بھی کوئی واقعہ پیش آتا تھا تو ہمارے نوجوان مارے جاتے تھے۔ اسی مائسمہ سے بھی ان کے دورِ اقتدار میں کئی نوجوان مارے گئے اور متعدد کو جیلوں میں ڈالا گیا، جن میں سے کچھ آج بھی قید ہیں۔‘‘انہوں نے مزید کہا، ’’جب یہ جماعتیں اقتدار میں تھیں تو انہوں نے یاسین ملک، شبیر شاہ اور دیگر رہنماؤں کو کشمیر سے باہر جیلوں میں منتقل کیا۔ وہ چاہتے تو انہیں مقامی جیلوں میں رکھ سکتے تھے، مگر انہوں نے جان بوجھ کر انہیں جموں و کشمیر سے باہر منتقل کیا۔‘‘اپنی پارٹی کے سربراہ نے ایک بار پھر مطالبہ کیا کہ نئی دہلی جموں و کشمیر کے عوام، خصوصاً نوجوانوں کے ساتھ بامعنی مکالمہ شروع کرے تاکہ ان کے دل جیتے جا سکیں اور مرکز اور جموں و کشمیر کے درمیان فاصلے کو کم کیا جا سکے۔