عظمیٰ نیوز سروس
جموں// وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے منگل کو ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کی مذمت کی اور جموں و کشمیر کے لوگوں سے کہا کہ وہ تحمل کا مظاہرہ کریں، اپنے جذبات کو قابو سے باہر نہ ہونے دیں اور اپنے غصے اور غم کا اظہار جائز اور پرامن طریقوں سے کریں۔ عبداللہ نے صحافیوں کو بتایا کہ “ایران کے عوام کو چاہیے کہ وہ اپنی قیادت کا فیصلہ خود کریں، بیرونی مداخلت کے بغیر۔ میں خامنہ ای اور ان کے خاندان کے قتل کی مذمت کرتا ہوں۔ امریکہ اور اسرائیل کو کس قانون نے ایسا کرنے کا حق دیا؟ میں جموں و کشمیر کے لوگوں سے بھی درخواست کرتا ہوں کہ وہ حالات کو مزید خراب نہ ہونے دیں۔” خامنہ ای کی موت کے بعد وادی کو اپنی لپیٹ میں لینے والے حالیہ تشدد کا حوالہ دیتے ہوئے عبداللہ نے کہا کہ اگر پولیس یا مرکزی نیم فوجی دستوں کی طرف سے طاقت کا زیادہ استعمال یا طاقت کا غلط استعمال ہوتا ہے جس کے نتیجے میں لوگ زخمی ہوتے ہیں تو لوگوں کے شدید جذبات کو محسوس کرنا قابل فہم ہوگا۔انہوں نے کہا”میں جموں و کشمیر کے لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ حالات کو خراب نہ ہونے دیں، کچھ لوگ ماحول کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، اور کچھ جگہوں سے واقعات کی اطلاعات آرہی ہیں، میں نہیں چاہتا کہ یہاں پولیس یا مرکزی نیم فوجی دستوں کی طرف سے طاقت کا غلط استعمال ہو، جس کے نتیجے میں لوگ زخمی ہوں یا خدا نہ کرے، کسی کی جان نہ جائے، یہ انتہائی بدقسمتی کی بات ہوگی”۔
اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ وہ عوامی جذبات کو سمجھتے ہیں، انہوں نے مزید کہا، “میں ان کے جذبات کو سمجھ سکتا ہوں، کیوں کہ کوئی غصہ کیسے محسوس نہیں کر سکتا؟ لیکن ایسے حالات میں جذبات پر قابو رکھنا سب سے ضروری ہے” ۔انہوں نے کمیونٹی اور مذہبی رہنمائوں سے اپیل کی کہ وہ امن برقرار رکھنے کے لیے لوگوں کی رہنمائی کریں۔ انہوں نے کہا، “آپ کو اپنے غصے، ناراضگی اور اپنے جذبات کا اظہار کرنے کا پورا حق ہے، لیکن آپ کو قانون کو ذہن میں رکھنا چاہیے، براہ کرم قانون کو اپنے ہاتھ میں نہ لیں۔”عبداللہ نے زور دے کر کہا کہ اگر مظاہرے ہوتے ہیں تو انہیں حساس طریقے سے انجام دیا جانا چاہیے تاکہ دوسرے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا “ہمیں اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دوسرے شہریوں کی جانیں محفوظ رہیں، کچھ کی اجازتیں دی گئیں، جب کہ کچھ کو بعد میں روکا گیا” ۔انہوں نے مزید کہا کہ پیر کو کچھ جگہوں سے پتھرا ئوکی اطلاعات سامنے آئی اور ایک موقع پر ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس پر حملہ کرنے کی کوشش کی گئی۔ انہوں نے کہا”اس طرح کے واقعات کی وجہ سے، حکومت سخت اقدامات کرنے پر مجبور ہے، ہماری کوشش ہوگی کہ جلد از جلد، لوگوں کو اپنی سرگرمیاں صحیح اور پرامن طریقے سے انجام دینے کی آزادی دی جائے۔”
ایران میں طلبا
ایران میں ہندوستانیوں کی صورتحال کے بارے میں عبداللہ نے کہا کہ جموں و کشمیر حکومت وزارت خارجہ کے ساتھ قریبی تال میل میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارے زیادہ تر طلبا اور دوسرے لوگ جو ایران میں ہیں، محفوظ علاقوں میں منتقل کر دیئے گئے ہیں، ہمارے کچھ آخری سال کے طلبا جو ہسپتالوں میں زیر تربیت ہیں، چھوڑنے پر راضی نہیں ہو رہے ہیں۔”انہوں نے ان پر زور دیا کہ وہ سرکاری ہدایات پر عمل کریں۔ انہوں نے کہا، “میں ان سے خلوص دل سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ سفارت خانے کی ہدایات، مشورے اور سفارشات پر عمل کریں، اگر سفارت خانہ کہتا ہے کہ ہمیں محفوظ علاقے میں جانا چاہیے، تو ہمیں محفوظ علاقے میں جانا چاہیے۔”
تہران پر حملہ
موجودہ بین الاقوامی صورتحال کے بارے میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ کسی بھی ملک کو قانون کے تحت دوسروں پر حملے کرنے کا حق نہیں ہے۔انہوں نے اس طرح کے جواز کے خلاف خبردار کرتے ہوئے کہا “اگر روس نے یوکرین میں جو کچھ کیا اسے درست سمجھا جاتا ہے، اور جو کچھ دوسرے ممالک نے کیا ہے اسے بھی درست سمجھا جاتا ہے، پھر اگر ہندوستان کسی پڑوسی ملک کے خلاف کارروائی کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی درست سمجھا جائے گا،” ۔انہوں نے اسرائیل، امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازعہ کو بدقسمتی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “اسرائیل اور امریکہ کا ایران پر حملہ کرنا غلط تھا، لیکن ایران کا ردعمل، متحدہ عرب امارات، سعودی عرب اور دیگر خلیجی ممالک جیسے مقامات کو نشانہ بنانا بھی غلط تھا۔ جنگ روکنے کے بجائے مزید پھیل رہی ہے،” ۔عبداللہ نے خطے میں کشیدگی کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان پہلے ہی تنازعات میں گھرے ہوئے ہیں۔ وزیر اعلیٰ نے کہا، جنگ کسی بھی مسئلے کا علاج نہیں ہے، انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی ملک میں لوگ اپنی حکومت سے ناخوش ہیں تو یہ ایک الگ اندرونی معاملہ ہے۔