آکسیجن پرمنحصرمریضوں کے کنبوں کومشکلات
ظفر اقبال
اوڑی// اوڑی اور بونیار تحصیلوں میں آکسیجن پر انحصار کرنے والے مریضوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہیں کیونکہ ان علاقوں میں گذشتہ چھ دنوں سے بجلی کا بحران ہے۔بونیار میں چہلاں کے لور جہلم ہائیڈل پاور پروجیکٹ میں 20 ایم وی اے ٹرانسفارمر میں تکنیکی خرابی کے بعد بجلی کا بحران پیداہو گیا ، جس نے اوڑی اور بونیار سب ڈویژنوں کے 130 سے زیادہ دیہات کو اندھیرے میں ڈال دیا۔ اس بجلی بحران نے خاص طور پر بزرگ اور شدید بیمار مریضوں کو متاثر کیا ہے جو بقا ء کیلئے بجلی سے چلنے والے آکسیجن کنسنٹریٹر پر انحصار کرتے ہیں۔ گھرکوٹ گائوں کے رہائشی شبیر احمد نے بتایا کہ اس کے سسر کو گورنمنٹ میڈیکل کالج بارہمولہ سے علاج کے بعد رخصت کیاگیا اور گھر میں آکسیجن کی مدد کا مشورہ دینے کے بعد ان کا کنبہ مستقل خوف میں زندگی گزار رہا ہے۔انہوں نے کہا،’’میرے سسر کو سینے سے متعلق مسئلے کیلئے ہسپتال میںداخل کرایا گیا تھا اور اتور کوہسپتال سے فارغ کردیا گیا ۔ انہیں آکسیجن دینے کی صلاح دی گئی ، لیکن ہم الجھن میں ہیں اور پریشان ہیں کہ بجلی نہ ہونے پر آکسیجن کنسنٹریٹر کیسے کام کرے گا۔بجلی کی فراہمی کے بارے میں کوئی یقین نہیں ہے اور اس نے ہماری زندگی کو الجھن میں ڈال دیا‘‘۔
اسی طرح کی شکایت اوڑی ٹائون کے ایک اور رہائشی نے بتائی کہ اس کے والد مکمل طور پر آکسیجن پر انحصار کرتے ہیں لیکن بجلی کی غیر یقینی فراہمی کی وجہ سے اکسیجن مشین چلنا مشکل ہے۔ انہوں نے کہا ہمیں دن میں صرف دو سے تین گھنٹے بجلی مل رہی ہے ،اس دوران بھی بجلی آنکھ مچولی کا کھیل کھیلتی ہے۔ آکسیجن کا ارتکاز چلانے کے لئے یہ کافی نہیں ہے۔ ہم بجلی کے نظام الاوقات کو دیکھنے اور دعا کرتے رہنے پر مجبور ہیں کہ بجلی وقت پر آئے۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ طویل عرصے سے بجلی گل ہونے نے مریضوں کے ساتھ خاندانوں میں گھبراہٹ پیدا کردی ہے ، جس سے لوگ کچھ مہنگے متبادل جیسے جنریٹرز کا بندوبست کرنے پر مجبور ہوئے ہیں یا مریضوں کو علاقے سے باہر ہسپتالوں میں منتقل کرنے پر غور کرتے ہیں۔یاد رہے کہ اسی طرح کی اطلاعات سرحدی قصبہ اُوڑی کے کئی دیہات سے موصول ہوئی ہیں، جہاں مریض اکسیجن پر انحصار کرتے ہیں مگر بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے پریشان ہیں۔ لور جہلم چہلاں بونیار کے دو 20 ایم وی اے ٹرانسفارمر ہیں۔ جبکہ ایک ٹرانسفارمر ، جو ہائیڈل پاور پروجیکٹ کے زیر انتظام ہے ، فی الحال فعال ہے۔ جموں و کشمیر پاور ٹرانسمیشن کارپوریشن لمیٹڈ (جے کے پی ٹی سی ایل) کے دائرہ اختیار میں دیگر 20 ایم وی اے ٹرانسفارمر ناکارہ ہوئے ہیں ، جس نے اوڑی اور بونیار کے بڑے حصوں میں بجلی کی فراہمی کو شدید متاثر کیا ہے۔جے کے پی ٹی سی ایل کے ایک عہدیدار نے بتایا کہ تباہ شدہ ٹرانسفارمر کے بجائے دوسرا فراہم کرنے میں وقت لگے گا۔عہدیدار نے کہا نیا ٹرانسفارمر بھیجنے اور نصب کرنے میں کچھ دن لگیں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ جلد سے جلد بجلی کی فراہمی کو بحال کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ دریں اثنا ، عہدیداروں نے بتایا کہ کشمیر پاور ڈسٹری بیوشن کارپوریشن لمیٹڈ(کے پی ڈی سی ایل) بھی بونیار اور نوشہرہ علاقوں کی بجلی کی فراہمی کو ایل جے ایچ پی سے منتقل کرنے اور جاری بجلی کے بحران کو کم کرنے کیلئے انہیں شیئر گرڈ سٹیشن سے مربوط کرنے کی تجویز پیش کررہا ہے۔تاہم مقامی آبادی نے حکام سے اس صورتحال کو طبی ہنگامی صورتحال کے طور پردیکھنے کی تاکید کی اور انتباہ کیا ہے کہ بجلی کی نایابی آکسیجن پر منحصر مریضوں کی زندگی شدید خطرہ میں ڈال سکتی ہے۔