لندن//برطانیہ کے دارالحکومت لندن کے وسط میں لندن برج پر حملے میں7 لوگوں کی موت ہو گئی اور تینوں مشتبہ حملہ آور مارے گئے ۔ پولس نے کہا کہ اس حملے میں چھ لوگوں کی موت ہو گئی اور پولس کی کارروائی میں تینوں حملہ آور ہلاک ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ حملہ آوروں نے لندن برج پر پیادہ مسافروں پر گاڑی چڑھا دی اور پاس میں ہی بارو مارکیٹ میں لوگوں پر چاقوؤں سے حملہ کئے ۔ برطانیہ کے انسداد دہشت گردی سربراہ افسر مارک رالے نے کہا سلامتی دستہ نے فوری کارروائی کر نے میں بہادری دکھائی اور تینوں مشتبہ حملہ آوروں کا مقابلہ کرکے انہیں ہلاک کردیا۔ سکیورٹی اہلکاروں نے ینوں حملہ آوروں کو بارو مارکیٹ میں مار گرایا۔ رالے نے کہا کہ حملے کی پہلی اطلاع ملنے کے آٹھ منٹ بعد ہی پولس نے جھڑپ میں تینوں حملہ آوروں کو مار گرایا۔لندن ایمبیولینس سروس کے مطابق حملے کے بعد 48 افراد کو لندن کے پانچ مختلف ہسپتالوں میں لے جایا گیا ہے۔برٹش ٹرانسپورٹ پولیس کے مطابق شدید زخمی افراد کو سر، چہرے اور ٹانگوں پر چوٹیں آئی ہیں۔واقعے کے بعد دریائے ٹیمز کو بھی بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم اب انتظامیہ نے اسے دوبارہ کھولتے ہوئے ان لوگوں کا شکریہ ادا کیا ہے جنھوں نے کشتیوں پر ہونے والی تقریبات منسوخ کرتے ہوئے فوری طور پر علاقہ خالی کر دیا تھا۔یہ برطانیہ میں گذشتہ تین ماہ میں دہشت گردی کی تیسری کارروائی ہے اور ان میں سے دو کا ہدف لندن ہی تھا۔مارچ میں لندن کے ویسٹ منسٹر برج پر اسی قسم کے حملے میں پانچ افراد ہلاک ہوئے تھے جبکہ دو ہفتے قبل مانچیسٹر میں ایک کنسرٹ کے بعد ہونے والے خودکش دھماکے میں 22 افراد مارے گئے تھے۔برطانوی وزیراعظم ٹریزا مے نے سنیچر کی شب پیش آنے والے واقعے کو 'خوفناک' قرار دیا ہے اور وہ اتوار کو کوبرا ایمرجنسی کمیٹی کے اجلاس کی صدارت بھی کر رہی ہیں۔لندن کے میئر صادق خان نے اسے 'لندن کے معصوم شہریوں پر ایک دانستہ اور بزدلانہ حملہ' قرار دیا ہے۔حملے کے وقت لندن برج پر موجود ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طور پر ویگن 50 میل فی گھنٹہ کی تیز رفتار سے سفر کر رہی تھی۔انھوں نے بتایا کہ 'وہ میرے قریب سے دائیں جانب گھوٹی اور پانچ سے چھ لوگوں سے ٹکرائی۔ اس نے میرے سامنے موجود دو افراد کو ٹکر ماری۔