سرینگر+کنگن // ڈویژنل کمشنر کشمیر ، پی کے پولے نے سرینگرکرگل شاہراہ کی صورتحال کا جائزہ لینے کیلئے افسران کا ایک اجلاس طلب کیا ، جسے 28 فروری 2021 کو ٹریفک کیلئے کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔شاہراہ پر گاڑیوں کو لداخ کے لیفٹیننٹ گورنر کے ذریعہ ہری جھنڈی دکھا کر روانہ کریں گے۔میٹنگ میں چیف انجینئر ایم ای ڈی اور ایس ایس پی ٹریفک رورل کے علاوہ دیگر افسران بھی موجود تھے۔ڈویڑنل کمشنر لداخ ، ڈپٹی کمشنر گاندربل ، ڈپٹی کمشنر کرگل ، چیف انجینئر بی آر او ،اور این آئی ڈی سی ایل کے عہدیدار اور ضلع گاندربل اور کرگل کے ایس ایس پیز ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے اجلاس میں شامل ہوئے۔اس موقع پر چیف انجینئر بی آر او نے صوبائی کمشنر کو نیشنل ہائی وے 1 پر کلیئرنس کے بارے میں آگاہ کیا۔انہوں نے بتایا کہ سڑک یک طرفہ ٹریفک کیلئے صاف ہے اور موسمی صورتحال کو دیکھتے ہوئے 28 فروری سے شاہراہ کو ٹریفک کے لئے کھول دیا جائے گا۔انہوں نے کہا کہ شاہراہ پر پھسلن کے نتیجے میں زوجیلا پاس سے گاڑیوں کو بغیر زنجیروں کے چلنے کی اجازت نہیں ہو گی ۔اس کے علاوہ سونہ مرگ اور منی مرگ سے گاڑیوں کی آمدورفت کی اجازت کا مناسب وقت بھی ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ سونہ مرگ سے گاڑیوں کوصبح دس بجے اور منی مرگ سے صبح 11 بجے کا وقت تجویز کیا گیا ہے۔ صوبائی کمشنرنے متعلقہ محکمہ کو ہدایت دی کہ وہ شاہراہ پر ہنگامی صورتحال کے دوران مسافروں کی رہائش ، کھانا ، پٹرول وغیرہ سمیت مختلف قسم کی سہولیات دستیاب رکھیں۔ اس سلسلے میں جب کشمیر عظمیٰ نے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس ٹریفک ٹی نمگیال سے رابطہ قائم کیا، تو انہوں نے بتایا کہ اگر موسم سازگار رہا تو 28فروری سے سرینگر لداخ شاہراہ کو آمدورفت کے لئے کھول دیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے تین روز تک گاڑیوں کی آزمائشی روانگی ہوگی۔واضح رہے کہ گذشتہ برس سرینگر لداخ شاہراہ کو 31دسمبر کو آمدورفت کے لئے بند کیا گیا تھا۔ اگرچہ ہر سال شاہراہ کو مئی میں کھول دیا جاتا تھا لیکن امسال کم تعداد میں برفباری کی وجہ سے شاہراہ کو دو ماہ کے بعد ہی کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔