سرینگر// تحریک حریت نے بشیر احمد صوفی بارہ مولہ اور ہلال احمد پالہ کو دوسری بار پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت جیل بھیجنے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ بشیر احمد صوفی کو گزشتہ سال عوامی تحریک کے دوران گرفتار کیا گیا تھا۔ پھر پی ایس اے کے تحت ادھمپور جیل منتقل کیا گیا۔ عدالت عالیہ نے سرکاری الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس پر لگائے گئے پی ایس اے کو کالعدم قرار دے کر اس کی رہائی کے احکامات صادر کئے، مگر حکومت نے اس کو رہا کرنے کے بجائے سب جیل بارہ مولہ میں نظربند کردیا۔ بشیر احمد سوفی ادھمپور جیل میں بھی انتہائی علیل تھے اور اب سب جیل بارہ مولہ سے اس کو اسپتال علاج کے لیے منتقل گیا گیا۔ بشیر احمد صوفی بہت سے عارضوں میں مبتلا ہیں۔ تحریک حریت نے انسانی حقوق کی مقامی اور بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ جموں کشمیر کی موجودہ صورتحال اور نظربندوں پر سرکار کی طرف سے غیر قانونی ظالمانہ قوانین کے نفاذ کو روکنے کے لیے اپنا اثرورسوخ استعمال کرے، کیونکہ حکومتوں نے ظلم وجبر کی انتہا کرکے نئی نسل کے کیرئیر کو بری طرح سے تباہ وبرباد کیا ہوا ہے۔ ہلال احمد پالہ گزشتہ کئی سالوں سے ایک فرضی کیس میں مبتلا کیا گیا تھا۔ کورٹ سے ہلال احمد پالہ اور اس کے ساتھیوں کو بری کیا گیا، جبکہ ہلال احمد پالہ کو پھر سے بلاجواز پی ایس اے لگاکر جیل بھیج دیا گیا۔