گوجری تاریخ میں ۱۵؍ نومبر ایک یادگاری دن ہے ۔ پنجاب، گجرات ،راجستھان اور جموں وکشمیر میں بھی بہت بڑی تعداد میں گوجر موجود ہیں۔ دنیا کی بہت ساری تہذیبیں مٹ چکی ہیں لیکن گوجر طبقہ اپنی سماجی پہچان برقرار رکھا ہوا ہے۔گو کہ انہیںاِس کے لئےکافی قیمت چکانی پڑی ہیں تاہم گجر و بکروال سماج نے اپنے بنیادی اصولوں سے منحرف ہونے پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیااوراب وقت کا تقاضا ہے کہ انکے رہائشی علاقوں میں بھی سائنس وٹیکنالوجی اور کمپوٹر جیسی سہولیات ہوں۔
گوجرایک ایسی قدیم نسل محنت کش قوم ہے جو مختلف ادوار میں ہرطرح کے مشکل ترین حالات کا سامنا کرکے اپنا وجود قائم رکھ کر چلی آرہی ہےاور آج بھی اپنے امتیازات وخصوصیات اور روایتی تہذیب و تمدن کے ساتھ کرہ ارض پر موجود ہے۔ برصغیر کے شمال میں آباد ان قبائل کا نقطہ آغاز آج بھی مورخین اور ماہرین بشریات کے درمیان بحث وتحقیق کا موضوع بنا ہوا ہےاور نظریات کے تحت راجستھان کے ماؤنٹ ابو سے لے کر یونان ومصر تک پھیلے ہوئے ان قبائل کو دنیا کے سب سے زیادہ قابل احترام سلسلۂ نسب سے جوڑتے ہیں ۔ اتر پردیش میں دہرادون کے پہاڑی علاقوں سے لے کر پاکستان کے سوات ، راجستھانی صحراؤں، ہریانہ و گجرات کے ہموار علاقوں ، پیر پنچال اوروادیٔ قراقرم کے دامنوں کو زینت بخشے ہوئے ہیں ۔ان قبائل کا شاندار ماضی ایک عظیم ورثے کی زرخیزی اور شان وشوکت کا احساس دلاتا ہے ۔ گوجر قبائل جس طرح اپنے ماضی سے جڑے رہے، اس کی مثال کسی اور انسانی نسل میں نظر نہیں آتی ۔
گوجروں نے اپنے زوربازوں اور دماغی صلاحیتوں کے بل پر وسط ایشاء کے قلب سے طوفان کی طرح اُٹھ کر اپنی ہستی کا اعلان کیا تھااور پھر اپنا وجودمنوانے کی مستی میں بڑی قاہر و قادر سلطنتیں تو ڑ یں، اور سلطنتوں کے کھنڈروں پر نئی فرمانروائیاں قائم کی تھیں ۔ان کے زوال پذیری کا ایک سبب یہ تھا کہ انہوں نے دریائے خضر(Caspian Sea) کے قرب و جوار سے ایک بگولے کی طرح افغانستان اور برصغیر کے شمال مغربی علاقوں میں جو زبردست سلطنتیں قائم کیں ،اُس کے ردِعمل میں اُن کے خلاف متصادم قوتوں کا محاذ بھی اُبھر آئے۔اگرچہ اس دوران گوجروں نے شاندارمحل، فولادی قلعے اور دوسری بڑی عمارتیں بنائیں لیکن تواریخ کی ہر جائی ’’نیلم پری‘‘ کوکوئی ایک شبستان اور کوئی ایک مہک زیادہ دیر تک نہیں لبھاتی۔
گوجر ایک زمانے میں بڑی بلندا قبال اور باکمال قوم رہے ہیں۔ اس بات کی شہادت صرف چینی ، عربی ، فاری اور ہندوستانی تاریخی کتابوں سے ہی نہیں ملتی بلکہ گرجستان سے لے کے وسطی ہند کی سرزمین پر یہ الفاظ و آثار کے حافظے میں اب بھی محفوظ ہیں ۔ لیکن اگر کسی کا ان معاملات پر سب سے کم اعتبار ہے تو و ہ بذات ِخود گوجر ہی ہیں ۔ انہیں صدیوں کے جور و جبر نے اس قدر پامال کر کے رکھ دیا ہے کہ ان کا تواریخی حافظہ اگر چہ کلی طور پرختم نہ ہوا ہو،لیکن اس قدر ضرور دُھند لاہو گیا ہے کہ تاریخ کے واقعات کو یکسر فراموش کرچکے ہیں۔ ہندوستان کے مغل بادشاہ عقیدہ رکھتے تھے کہ ان کا نسب چاند کی ایک کرن کے ایک تا تاری دوشیزہ سے ہم آغوش ہونے کے بعد شروع ہو گیا تھا لیکن گوجرسُنتے ہیں کہ وسطی ایشیا کا مشہور سمند ر بحیرۂ نزار Caspain) Sea دراصل ان کے قومی نام سے وابستہ ہے،پھر بھی اس کو بے یقینی سے اَن سُنا کر دیتے ہیں۔
جموں وکشمیر کے گوجروں کی غربت و پسماندگی ، جہالت و ناخواندگی ملک کے دیگر حصوں میں آباد گوجروں سے یکسر مختلف ہے۔ انہیںدرپیش مسائل درحقیقت ان کے ساتھ کئے جانے والے استحصال کی وجہ ہیں ۔ چنانچہ یہ سماج اپنے سماجی مسائل ومشکلات کا حل پیش کرنے میں اس لیے نہیں نا کام ہوتے ہیں کہ ایک تو وہ ان کاحل تلاش کرنانہیں چاہتے،دوسرا شعور کی کمی اور کمزور منصوبہ بندی سے وہ اپنے قدم بہتر انداز میں آگے نہیں بڑھاتے ہیں ۔لازم ہے کہ ہم ان اہم مسائل کی ایسی منصوبہ بندی کے تحت اس طرح نمایاں کریں کہ ہمارے پالیسی سازوں کو تمام پیچیدہ مسائل کو سمجھنے اور سدھارنے کی بصیرت حاصل ہوسکے۔
1960ءمیں پنڈت جواہر لعل کشمیر تشریف لائے تو اُن کا کسی قبائلی بستی سے گزر ہوا، اُن کے بودوباش، رہن سہن اور حالت ِ زار کا مشاہدہ کرکے انہوں نے جن تاثرات کا اظہار کیا تھا ،وہ جون ۱۹۷۰ کے اخبار ’’ہیرالڈ‘‘ میں محفوظ ہے۔ آپ نے ان لوگوں کے بارے میں کہا:’’یہ لوگ بہت سادہ ہیں،اَن پڑھ ہیں۔ ان کا مسلسل استحصال کیا جاتا ہے ، انہیں دھوکہ دیا جاتا ہے ،یہ لوگ انتہائی غربت کی زندگی بسر کرتے ہیں۔‘‘
پنڈت جی نے جن بستیوں کا ذکر کیا تھا اگرآج بھی وہاں سے آپ کا گزر ہو تو 75ء سال بعد بھی پنڈت جی کے تاثرات کے ساتھ ان بستیوں کا بہ آسانی تعین کیا جاسکتا ہے۔ یہ قبائلی لوگ آج بھی اُسی طرح دور دراز علاقوں، پہاڑیوں، غاروں اور چراگا ہوں میں کشمکشِ روزو شب میں مبتلا ہیں۔وہی پسماندگی ،وہی نا خواندگی ان کی چادرفقر و مسکنت ہے اور مجموعی طور سے آج بھی یہ لوگ تعلیمی، سماجی اور اقتصادی اعتبار سے پسماندہ ہیں۔
درجہ فہرست قبائل کا بہت بڑا طبقہ کے Tribals سے تعلق رکھتا ہے ۔ یہ لوگ اپنی ۂیت ،اپنے لباس، اپنے کلچر اور شکل و صورت سے منفرد شناخت رکھتے ہیں۔ ان کے رسم ورواج مختلف ہیں، ان کا قبائلی نظام الگ ہے ۔ ان کا ایک شاندار ماضی اور ایک تمدنی ورثہ ہے۔ ہندو پاک میں کئی صوبوں، شہروں، پہاڑوں اور دریاؤں کے نام انہی سے منسوب ہیں ۔ ہندوستانی موسیقی کی پہاڑی راگ ٹرائیل Tribal Medicine‚ Folklore گوجری زبان و ادب گوجروں کی تاریخ و آثار اور تہذیب و تمدن جیسے ان کے کئی قیمتی اثاثے ہیں۔
ہم موجودہ مرکزی سرکار اور JKUTکے لفٹنٹ گورنر انتظاميہ کے مشکور ہیں، جنہوں نے 15نومبر کو Tribal Day کے بطور مناکر کروڑوں لوگوں کی حوصلہ افزائی کی اور ان پسماندہ قبائل Tribals کے مسائل کا حل ڈھونڈنے اور ان کی سماجی 'اقتصادی 'و تعلیمی پسماندگی کو دور کرنے کی یقین دہانی کی۔
جموں کشمیر، ہماچل پردیش '،اتراکھنڈاورفخر قوم ’’برسا منڈا‘‘کے آبائی وطن جھارکھنڈ میں گوجری زبان بولنے والے لوگ موجود ہیں ۔کئی ریڈیو اسٹیشنوں دور درشن کیندروں سے گوجر پروگرام نشر ہوتے ہیں لیکن اس زبان کی نشر و اشاعت، ترویج وترقی کیلے اس زبان میں ریسرچ اورتحقیق کی شروعات کےلیے اور Indian constitution کے 8th آٹھویں شیڈیول میں گوجری زبان کو شامل کیا جانا ضروری ہے۔
آج کادن کو گوجروں و قبائل کےلیے مخصوص کرنے کا مقصد یہ بھی ہے کہ یہ لوگ اپنی مادری زبان ’گوجری ‘کو نہ بھولیںاور اسے عام کریں، اپنا لباس ،اپنا کلچر اوراپنی شناخت محفوظ و برقراررکھیںاور اپنا وراثتی کلچر بچاکے رکھیں۔
جموں وکشمیر کے درج فہرست قبائل ( جن میں گوجروں کی واضح اکثریت ہے) کے تعلیمی فروغ کیلئے ریاست میں اسی طرز وانداز میں یہاں ایک ایسی یونیورٹی کا قیام عمل میں لایا جائے،جس طرح حکومت ہند کی وزارت برائے فروغ برائے انسانی وسائل نے (HRD) ایکبلٹرا نیورسٹی Tribal University امر کانتک، مدھیہ پردیش میں قائم کی ہے۔ اگر چہ ریاست میں ٹرائی بل یو نیورسٹی کے قیام کا منصوبہ پہلے سے حکومت ہند کے زیر غور ہے لیکن اس پر عمل درآمد کی ضرورت ہے۔ ملک کے خانہ بدوش قبائل اور نیم خانہ بدوش قبائل کے ساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے خانہ بدوش قبائل کی ترقی اور باز آبادکاری کا جامع منصوبہ، پلان اور لائحہ عمل مرتب کیا جائے ۔ یہ خانہ بدوش قبائل جموں و کشمیر، ہماچل پردیش اور اترانچل کے پہاڑی اور دیگر بالائی علاقوں میں زندگی کے نہایت سنگین ، دشوار گزار اور آزمائشی مراحل سے گزر رہے ہیں ۔ ان کے پاس نہ تو سر چھپانے کے لیے چھت ہوتی ہے نہ سماجی تال میل اور انسانی رابطہ و ضبط کیلئے وسائل ۔نہ آمد ورفت کیلئے سڑکیں نہ صحت کے لئے طبی سہولیات ۔ان کی زندگی مسلسل سفر ہے ۔ایسے وقت میں جب کہ دنیا ترقی وخوش حالی کی طرف رواں دواں ہے یہ خانہ بدوش طبقے گمنامی اور مختلف طرح کی پریشانیوں سے دوچار ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ کبھی زلار لے جیسے قدرتی آفتیں ان کا نام ونشان مٹا دیتی ہیں تو کبھی یہ برف کے تودوں کی نذر ہو جاتے ہیں اور کبھی وہ تیز وتُند سیلاب کا خوراک بن جاتے ہیں ۔
گوجری زبان ایک ایسی زبان ہے جو پورے برصغیر میں بڑی پیمانے پر بولی اور سمجھی جاتی ہے ۔لہٰذا اس زبان کو دستور ہند کے آٹھویں شیڈول میں شامل کیا جانا چاہیے۔ اہم بات یہ ہے کہ گوجروں کے شاندار ثقافتی ورثے کو ایک قومی شناخت حاصل ہونی چاہیے ۔مختلف ریاستوں میں پھیلے ہونے اور ہماری تکثیری روایات واقدار کی مکمل نمائندگی کے پیش نظر ہمیں سب کو ایک ساتھ لے کر چلنے کا طریقہ کار اپنانا چاہیے ۔ان مقاصد کے حصول کے لیے ملک کی راجدھانی نئی دہلی میں ایک معیاری اور اعلی قسم کا ثقافتی مرکز قائم کرنے کی ضرورت ہے تا کہ یہاں پر ثقافتی مرکز کا قیام جموں وکشمیر اور ملک کی دیگر ریاستوں سے وابستہ گوجری ثقافت اور ملک کی مخلوط تہذیب وتمدن کا روشن چہرہ عوام کے سامنے لایا جا سکے ۔ گوجروں کے پس ماند و قبائل کوغربت و ناخواندگی اور پس ماندگی کے دلدل سے نکالنے کے لیے انہیں مناسب اقتصادی سہولیات و تعاون دیا جانا چاہیے۔ ہم جانتے ہیں کہ ریاستی گورنر انتظاميہ اور مرکزی حکومت ہند ان قبائل کو ان کی مختلف مشکلات سے نکالنے کے لیے مختلف کوششیں کر رہی ہیں لیکن ان کے نیک ارادوں کو ملی قدم سے ہم آہنگ ہونا چاہیے۔لہٰذا ہم ان سے دردمندانہ اپیل کرتے ہیںکہ جموں وکشمیر کےقبائل کو دیے گئے حالیہ قوانین یہاں پر فوری طور لاگو کئے جائیں ۔
(ریسرچ اسکالر ،گجربکروال سماجی کارکن)
فون:۔09906560217
Email:- [email protected]