سرینگر//مرکز نے گزشتہ پانچ سالوں میں جموں و کشمیر کی قومی شاہراہوں کی ترقی اور دیکھ بھال پر 37,851 کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی ہے ۔وزیرٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے لوک سبھا میں بتایا کہ جموں و کشمیر میں قومی شاہراہوں کی توسیع کا مقصدصلاحیت میں اضافہ، دور دراز علاقوں تک رسائی اور پی ایم گتی شکتی نیشنل ماسٹر پلان کے تحت انٹیگریشن ہے۔ اس دوران کئی منصوبے شروع کیے گئے جن میں موجودہ شاہراہوں کو چار اور چھ لین تک وسیع کرنا، پہاڑی راستوں کو مضبوط بنانا، سرنگوں کے اطراف کی تعمیر، اور خطرناک علاقوں کی دوبارہ ترتیب شامل ہے۔ ان کاموں سے گزشتہ پانچ سالوں میں 976 کلومیٹر شاہراہوں کا اضافہ ہوا جبکہ موجودہ سڑکیں بھی اعلی معیار کی بنائی گئیں تاکہ خاص طور پربرفباری اور زمین پھسلنے والے علاقوں میں سال بھر رسائی ممکن ہو۔سڑکوں کی حفاظت بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ گزشتہ پانچ سالوں میں جموں و کشمیر کی قومی شاہراہوں پر 8,920 حادثات اور 1,508 ہلاکتیں رپورٹ ہوئی ہیں۔ اس کی بنیادی وجوہات میں انسانی غلطی، پہاڑی دشوار گزار راستے، خراب موسم، اور گاڑیوں کے مسائل شامل ہیں۔ وزارت نے کہا کہ ان رجحانات پر قریبی نظر رکھی جا رہی ہے اور انجینئرنگ اصلاحات، سائن بورڈز، خطرناک مقامات کی درستگی اور سخت نگرانی کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔علاوہ ازیں، لداخ میں قومی شاہراہوں کی سرمایہ کاری 2020–21 میں 24 کروڑ سے بڑھ کر 2024–25 میں 794 کروڑ روپے ہو گئی ہے، جس سے بلند ترین علاقوں میں اسٹریٹجک رابطہ کاری اور رسائی بہتر ہوئی ہے۔