مقبوضہ بیت المقدس// فلسطین میں یوم الارض کے سلسلے میں مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہرے کیے گئے جب کہ زمین سے محبت اور وفاداری کا اظہار کرنے کے لیے مقامی تنظیموں کی جانب سے ریلیوں اور دیگر پروگراموں کا انعقاد کیا گیا۔ دوسری جانب صہیونی ریاست اسرائیلی کی فوج نے مظاہرین کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرکے انہیں روکنے کی کوشش کی۔ اس دوران مختلف مقامات پر مظاہرین پر تشدد اور انہیں گرفتار کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ مقامی ذرائع کے مطابق صہیونی کارروائیوں کے دوران کچھ علاقوں سے فلسطینی نوجوانوں اور قابض فوج کے درمیان جھڑپیں بھی ہوئیں۔ واضح رہے کہ یوم الارض منانے کا مقصد فلسطینی سرزمین کو اسرائیلی افواج کے قبضے سے چھڑانا اور دوبارہ سے اپنی زمین کو بازیاب کرانا ہے۔ دریں اثنا فلسطینی میں اہم شخصیات نے خبردار کیا ہے کہ یہودی انتہا پسند گروپ سلفیت اور دوسرے شہروں میں فلسطینیوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیاں کرسکتے ہیں۔اس دوران اسرائیلی فوج کی حراست میں قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والے فلسطینی کی20 سال بعد رہائی پر والہانہ استقبال کیا گیا۔ اہلیہ نے دلہن کی طرح سج سنور کر شوہر کا استقبال کیا، مجد بربر کے خاندان سے ملاپ کے منظر نے دیکھنے والوں کی آنکھیں خوشی سے پْرنم کردیں۔مقبوضہ بیت المقدس کے مجد بربر کو اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے الزام میں 2001 میں بیس سال قید کی سزا ہوئی تھی۔سزا کے وقت مجد بربر کی بیٹی پندرہ دن کی اور بیٹا چار سال کا تھا۔فلسطین میں ہزاروں خاندان اسرائیل کی قید میں موجود اپنے پیاروں سے ایسے ہی ملاپ کے منتظر ہیں۔