وزیراعلیٰ سے مالی پیکیج اور پالیسی اصلاحات کا مطالبہ
سرینگر//کشمیر ویلی فروٹ گرورز کم ڈیلرز یونین اور دی نیو کشمیر فروٹ ایسوسی ایشن نے جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ سے مطالبہ کیا ہے کہ آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں باغبانی شعبے کیلئے خاطر خواہ فنڈز مختص کئے جائیں تاکہ وادی کی معیشت کی ریڑھ کی ہڈی سمجھے جانے والے اس شعبے کو درپیش شدید بحران سے نکالا جا سکے۔یونین کے چیئرمین بشیر احمد بشیر نے کہا کہ جموں و کشمیر میں باغبانی صنعت سے سات لاکھ سے زائد خاندانوں کا روزگار وابستہ ہے تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران قدرتی آفات، منڈی مسائل اور پالیسی خلا کی وجہ سے فروٹ گرورز کو شدید مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔انہوں نے کہا کہ 2025 میں آنے والے تباہ کن سیلاب اور اس کے بعد سرینگرجموں قومی شاہراہ کی طویل بندش کے باعث ہزاروں فروٹ سے لدے ٹرک راستے میں پھنس گئے جبکہ بڑی مقدار میں تیار فصل باغات اور منڈیوں میں سڑتی رہی، جس سے باغبانی شعبے کو تقریباً 2000 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔ یونین نے مطالبہ کیا کہ ان نقصانات کے ازالے کیلئے خصوصی معاوضہ پیکیج بجٹ میں شامل کیا جائے۔یونین نے باغبانی شعبے کیلئے فصل بیمہ سکیم کے فوری نفاذ کا بھی مطالبہ کیا جو اگرچہ اعلان شدہ ہے مگر تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ اسی طرح مارکیٹ انٹروینشن اسکیم (MIS) کو دوبارہ شروع کرنے پر زور دیا گیا تاکہ ہر سال بڑی مقدار میں پیدا ہونے والے گریڈ سی اور گریرن سیب سے کسانوں کو تحفظ مل سکے۔مطالبات میں الگ ہارٹی کلچر اسٹیٹ کے قیام 150 سے 200 جدید سی اے/کولڈ اسٹوریج مراکز خصوصاً شمالی کشمیر میں سوسائٹی بنیادوں پر قائم کرنے، اور سنگل ونڈو سہولت فراہم کرنے کی بھی تجویز دی گئی ہے تاکہ چھوٹے اور متوسط باغبان فائدہ اٹھا سکیں۔یونین نے سیب کی پیکنگ کیلئے ہماچل پردیش طرز کی ٹرے والی کارڈ بورڈ پیٹیوں پر سبسڈی دینے اور صحت کیلئے مضر سلیکیٹ بیسڈ کارڈ بورڈ باکسز پر پابندی عائد کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔دیگر مطالبات میں اسپرے آئل کو زرعی پروڈکٹ کا درجہ دینے ، کھادوں اور زرعی ادویات پر سبسڈی، نامیاتی کھادوں کے فروغ ، تمام اضلاع میں جدید ٹیسٹنگ لیبارٹریز کے قیام ، باغبانی آلات کی خریداری کیلئے فنڈز میں اضافہ اور کسان کریڈٹ کارڈ (KCC) قرضوں میں رعایت یا معافی شامل ہے۔اس کے علاوہ نقد قرضہ سہولت پر سود میں چھوٹ، آبپاشی سہولیات خصوصاً کیریوا علاقوں میں پائلٹ پروجیکٹ کے تحت متعارف کرانے ، وادی کی تمام فروٹ منڈیوں بشمول پارم پورہ، سوپور، شوپیان اور اننت ناگ کی اپ گریڈیشن اور کولڈ اسٹوریج کے کرایوں کو سرکاری سطح پر ریگولیٹ کرنے کا مطالبہ بھی کیا گیا ہے۔یونین نے امید ظاہر کی کہ حکومت باغبانی شعبے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے بجٹ 2026-27 میں ان مطالبات کو شامل کرے گی تاکہ لاکھوں خاندانوں کو معاشی استحکام فراہم ہو سکے۔