نافرمانی بیک وقت انسان کی ایک پراسرار طاقت بھی ہے اور کمزوری بھی۔ یہ انسان کی بدقسمتی ہے کہ نافرمانی جیسا شاندارعمل شیطانی حرکات کے زمرے میں داخل ہوگیا،جب کہ شیطان کی مملکت میںیہی عمل عین عبادت ہے۔ عبادت ہمیشہ ایک ذریعہ اور وسیلہ رہی ہے۔ نافرمانی کاعمل شیطان سے منسلک سہی اسے محبوب ومرغوب ہرگزنہیں، اس لیے کہ وہ بھی ہزارجان سے یہی چاہتا ہے کہ اس عمل کے ذریعے انسان اس کاتابع فرمان ہوجائے۔ شیطان کے چیلے صبح شام نافرمانی کے چھوٹے بڑے کروڑوں جال وقت کے پانی میں تیرتی ہوئی انسانی آبادی پرپھینکتے رہتے ہیں۔ فرمان برداری ایک عہد وفا ہے۔ ایک رسی ہے جس سے فرمان بردار بندھاہواہے۔ نافرمانی … فرمان برداری کی رسی تڑاکر بھاگ جانے کے سوااور کیا ہے؟
نافرمان ایک کھندڑالڑکاہے، جوشیش محل پرپتھر اچھال کر بھاگ کھڑا ہوا ہے۔ اب اس شیش محل کی خیروعافیت سے اسے کوئی سروکار نہیں۔ انسان فرمانبرداری کی جس ڈور کو کاٹتا ہے اس کااگلا سرا گھر، سماج، ماں، باپ، حکومت جیسی کھونٹیوں سے بندھا ہواہوتا ہے۔ اس ڈور کوتوڑ کروہ نفسانی خواہشات کی راہوں پربے تحاشا دوڑتے وقت بھول جاتا ہے کہ وہ ازل سے ایک کٹھ پتلی ہے جس کے ہاتھوں پائوں آنکھ کان غرض پورے وجود پر ڈوریاں بندھی ہیں۔ نافرمانی کواپناکرہم ایک ہاتھ سے ان ڈوریوں کوچھین کر کسی دوسرے ہاتھ میں تھمادیتے ہیں۔ یہ عمل ایسا ہی ہے جیسے حکومت کی باگ ڈور کسی دوسرے کے ہاتھوں میں چلی جائے۔ بغاوت نافرمانی کااعلامیہ ہے۔اس بغاوت یاغدر کے بعدانسان کو آزادی و خودمختاری حاصل ہوجائے تب بھی جسم کے پنجرے میں مقید اس مجبورِازل کی قسمت میں آزادی کہاں؟ دوسراہاتھ جوانسانی وجودمیں عنان حکومت سنبھالتاہے عموماً اس کانفس ہوتا ہے جونفیس اور اُجلااُجلا ہواتوخیریت اور اگراس کے سرپرشیطان کے چیلوں کاسایہ ہوا تو وہ اسے سیاہ راستوں پرچلا ئیں گے اور اندھیروں کے منطقے میں دھکیل کرخود گدھے کے سینگوں کی طرح غائب ہوجائیں گے۔
نافرمانی دراصل ایک ذریعہ ٔ اظہار ہے جسے بروئے کار لاکرنافرماں اپنے وجود کو روشنی کی صورت میں سارے عالم پرآشکار کرتاہے۔ نافرمان مدمقابل کی نفی سے خود کا اثبات مہیاکرتاہے ،البتہ اکثراس کے وجود کی آبدوز میں کوئی تیسرا شخص براجمان ہوتا ہے جو نافرمان کے پردے میں اپنا اثبات کرواکرعلیحدہ ہوجاتاہے جیسے اندھیرے میں آدمی کا سایہ اس کا بدن چھوڑکرچل دے۔ میں نے اکثر اس سائے کو بھاگتے ہوئے دیکھاتو اس کے پیچھے لاحول کی بجھتی ہوئی گونج بھی سنائی دی اور کبھی اسی آبدوز سے ایک روشنی نکلتی دیکھی جو بالآخر نافرمان کے پورے وجود پر چھاگئی۔
مجھے نافرمانی کا عمل پسند ہے مگر اس سے مراد خدا کی نافرمانی ہرگز نہیں۔ خدا معاف کرے میں توایسی قبیح نافرمانی کاتصورتک نہیں کرسکتاکہ اس صورت میں میری پسند خدا کی پسند سے ٹکراجائے گی۔ اتنی بڑی ہستی سے ٹکراکر کس کاکاسۂ سر سلامت رہا ہے۔ مجھے اس درس گاہِ عبرت میں فرعون کی لاش بن کریاتاریخ کے صفحات پرتازیانۂ عبرت بن کر رہنا پسند نہیں، اس کے لیے توفرعون اور نمرود جیسے نافرمان ہی کافی ہیں۔
دراصل مجھے چھوٹی چھوٹی نافرمانیاں پسند ہیں، اس لیے پسند ہیں کہ نافرمانی میرے نزدیک ایک دفاعی ہتھیار ہے۔اکیلاآدمی جب علی الاعلان کسی برتر ادارے یا طاقت ور شخص کی نافرمانی کواپناطرئہ امتیازبناتاہے توگویا اپنی ذات کے جزوکو سماج کے کل سے جدا کرلیتاہے۔ اسی طرح سول نافرمانی کی تحریکات دراصل کو لہو کے اندرپِس کر ’’من تو شدم تو من شدی‘‘ ہوجانے سے انکارہی کے مختلف پیرائے ہیں۔ افسوس کہ فرعون ونمرود نے اپنے ازلی دشمن اور مدمقابل شیطان کوہلاک نہ کیااور اس ہتھیار سے خوداپنا سرپھوڑکر سر زمین خباثت میں دفن ہوگئے۔ اگر وہ شیطان کی نافرمانی کرتے توآج قابل احترام اور معتبر کہلاتے۔
یوںتو بظاہر میں فرمان برداری کے مدارہی کا ایک سیارہ ہوں، اسی لیے جن لوگوں کا میں فرماں بردار ہوں (اس میں سماج بھی شامل ہے ) اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ میں نے اپنے آپ کو ان کے اندرایسے جذب کرلیا ہے جیسے چینی چائے کی پیالی میں حل ہوجاتی ہے۔ ان کے تئیں میری انفرادی پسند یا ناپسند منوں مٹی تلے دفن ہوچکی ہے ، حالانکہ جب بھی میری پسند، ناپسند اوراپنے طورپرآزادانہ جینے کی خواہش میرے اندر انگڑائیاں لینے لگتی ہے ،میں گویا اس قدیم خواہش کوچھولیتا ہوں جس کی تکمیل اس کائنات کی صورت میں ہوئی تھی۔ میںبھی چاہتا ہوں کہ میں پہچانا جائوں۔ میں اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دینا چاہتا ہوں۔ اسی سوچ کی زد میں کبھی مجھ سے کوئی نافرمانی بھی سرزد ہوجاتی ہے۔ دوستوں کے ٹوکنے کے باوجود میں کوئی حرکت کر گذرتا ہوں۔ بزرگوں کے پند و نصائح کا خرقہ اتار پھینکتا ہوں۔ سینہ تان کر سڑک کی دائیں جانب چلنے لگتاہوں۔
خداکی نافرمانی میرے وجودمیں کسی چھچھوندر کی طرح روزِازل ہی سے گھس بیٹھی ہے۔ میں اسے ڈھونڈ کرگھرسے باہرنکال دینے سے بھی قاصر ہوں۔ بس راتوں کی گہری تاریکی اور تنہائی میںاس کی اَلارم نماچک، چک، چک کی آواز سے ڈرتا ہوں۔ دن کے اُجالے میں چھچھوندر بے خبری کے اندھیرے میں روپوش ہوجاتی ہے۔ میں سوچتا ہوں خدا مجھے ضرورمعاف کردے گاکہ چھوٹوں پررحم فرمانے والا ہے۔ میری نافرمانی بھی کوئی نافرمانی ہے!نافرمانی تواس وقت قابل اعتراض قرارپاتی ہے جب اس کے چہرے پر ایک عدد بڑی سی مونچھ نکل آئے اور وہ انسان کے اندرسے باہر آکرسارے عالم پر ایک حقارت کی نظرڈالنے لگے۔ سرپرغرور کو مزید سربلندی سے سرفراز کرے۔ گردن کو تھوڑی اور اکڑ فراہم کردے۔ بچہ اس وقت عالم وجود میں آتا ہے جب گوشت کے لوتھڑے میں جان پڑتی ہے۔ نافرمانی اعمال وافعال کی مملکت میں اسی وقت لائق گردن زدنی قرار پاتی ہے جب اس پر انانیت کاخول چڑھ جائے۔ مجھے اس قسم کی نافرمانی ایک آنکھ نہیں بھاتی۔ البتہ میں چھوٹی چھوٹی نافرمانیوں کے حق میںہوں۔ میرے خیال میں ننھی ننھی نافرمانیاں انسانیت کی تکمیل کرتی ہیں۔ ہمیں نفرت کے ٹکڑے اور بوٹیاں ڈال کر اپنے آنگن میں نافرمانی کے کچھ کتے ضرور پالنے چاہیے۔ یہ دنیاجہاں ہم رہتے ہیں ، روزبروز مجموعۂ خرافات بنتی جارہی ہے ۔شرافت واخلاق اور مروت کی مملکت، طوائف الملوکی سے دوچار ہے۔ خباثتوں کے بپھرے سمندر کی موجیں ہمیں اپنے آغوش میں لینے کے لیے بے قرار ہیں، ان حالات میں، مکان کے اندر موجود متاع بے بہا کی حفاظت کے لیے آنگن میں نافرمانی کے کتے چھوڑنا وقت کی ایک عین ضرورت ہے۔
نافرمانی ایک سکہ ہے جس کا دوسراپہلو یقینا فرمان برداری ہے۔ شیطان کے یہاں فرمان برداری والا پہلونفسیاتی خباثت میں ڈوبا ہوا تھا، شاید اسی لیے خدا نے انسان کوبھی نافرمانی کے آلات سے لیس کیا تاکہ اسے خیروشر میں تمیز کرنے کی صلاحیت حاصل ہوسکے۔ فرشتے عبادت کے ذریعہ اپنا دفاع تو کرسکتے تھے، البتہ یقین کی سطح پر خدا کی ذات کے اثبات کی ایک ارفع صورت یہ قرارپائی کہ خدا کے ماسوا کی نافرمانی (نفی) کی جائے تاکہ خداکی ذات کے اثبات کی صبح خود بخود نمودارہوجائے جیسے تاریکی کی چادر پھاڑکر صبح کا اجلا اجلا وجودہرطرف بکھرجائے۔شاید اسی لیے خدانے اپنے کلمے کوبھی’لا‘سے شروع کیا جواپنے ایک ہی وار میں تاریکی اور جہالت کاپردہ چاک کردیتاہے۔
۳۰۔گلستان کالونی ، نزد پانڈے امرائی لانس ،ناگپور ۴۴۰۰۱۳
رابطہ : 9579591149 [email protected]