جموں// جموں کے بٹھنڈی علاقہ میں واقع نیشنل کانفرنس صدر اور رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ کی رہائش گاہ پر گذشتہ روز 4اگست کو سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ایک نوجوان کی ہلاکت کامعاملہ طو ل پکڑتاجارہاہے۔اگر چہ ضلع انتظامیہ نے کل ہی اس واقع کی تحقیقات کے لئے مجسٹریل انکوائری کا حکم صادر کیا تھالیکن متعدد سیاسی، سماجی تنظیموں اور نوجوان کے اہل خانہ کی طرف سے سی آر پی ایف اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور واقعہ کی عدالتی انکوائری کرانے کی مانگ کی جارہی ہے۔ اتوار کے روز پونچھ اور راجوری اضلاع میں متعدد مقامات پر مرفاد شاہ کی ہلاکت کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے گئے۔ اطلاعات کے مطابق درہال، کوٹرنکہ، کالاکوٹ، مینڈھر، سرنکوٹ اور پونچھ میں لوگوں نے احتجاج کیا اور مانگ کی کہ سی آ ر پی ایف اہلکاروں کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔ ان کا الزام ہے کہ نوجوان کو ایک منصوبہ بند طریقہ سے قتل کیاگیا جس کے لئے سابق وزیر اعلیٰ کی رہائش گاہ کا استعمال کیاگیا، اس کے پیچھے بہت بڑی سازش ہے۔سوشل میڈیا، فیس بک، وہاٹس ایپ اور ٹوئٹر پر بھی مرفاد شاہ کی ہلاکت پر چوطرفہ تنقید ہورہی ہے اور یہ قتل ہرکسی کے لئے موضوع بحث ہے جس میں وکلائ، صحافی، دانشور، سیاسی مبصرین، تجزیہ نگار، ماہرین تعلیم، سیاسی کارکنان الگ الگ رائے ، انکشافات، تحفظات، خدشات کا اظہار کر رہے ہیں ۔ پولیس کا دعویٰ ہے کہ صبح لگ بھگ ساڑھے دس بجے ایک نوجوان اپنی ’ایس یو وی کار‘زیرنمبرXUV JK02BW-0568کے ساتھ ڈاکٹرفاروق عبداللہ کی رہائش گاہ کے وی آئی پی گیٹ کی رکاوٹوںکوتوڑکر گھس آیا۔اس دوران زبردستی اندرآنے والے شخص کی ڈیوٹی پرتعینات سیکورٹی افسران کے ساتھ ہاتھ پائی بھی ہوئی۔پولیس نے یہ بھی دعویٰ کہ جب وہ مین گیٹ کراس کرکے اندرچلاگیاتو اس کے بعدسی آرپی ایف کے اہلکاروں نے گولی چلاکراس کوہلاک کردیا۔لیکن اہل خانہ نے پولیس، سی آر پی ایف اور نیشنل میڈیا کی اس کہانی کو بے بنیاد اور من گھڑت قرار دیتے ہوئے اس کو بہیمانہ قتل قرار دیاہے۔ نوجوان مرفاد شاہ جن کا بندوقوں کے دکان کا کاروبار ہے، کا آبائی علاقہ مینڈھر کا گلوتہ گاو¿ں ہے جبکہ وہ جموں کے چنور علاقہ میں رہتا تھا، وہاں پر شام دیر گئے اہل خانہ اور رشتہ داروں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے غیرجانبدارانہ تحقیقات اور نوجوان پرگولیاں چلانے والے سیکورٹی اہلکاروں کے خلاف فوری طورکارروائی کرنے کی مانگ کی۔متوفی ہتھیاروں کی فروخت اورلائسنس بنانے کے سلسلے میںریاست میں تعینات سیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ متواتررابطے میں تھا۔جاں بحق ہونے والے نوجوان مرفاد ایک جسمانی طورفٹ جوان تھااوروہ روزانہ کم ازکم 6 گھنٹے پریڈجموں میں واقع ایک جم میں جاتاتھا۔ اس کے علاوہ مرفاد قومی سطح کے مختلف مقابلوں میں بھی حصہ لے کرمتعددایوارڈاورانعامات بھی باڈی بلڈنگ میں حاصل کرچکاتھااوراس کے علاوہ والدکے کاروبارمیں بھی ہاتھ بٹاتاتھا۔مرفاد عام طورپرسیکورٹی اہلکاروں کے ساتھ ہتھیاروں کی تجارت کے سلسلے میں ملتارہتاتھا۔ واقعے سے پتہ چلتاہے کہ کارکوآسانی سے اندرجانے دیاگیاکیونکہ کارپر کوئی بھی نشان نہیں پایاگیاہے،اورثابت ہوتاہے کہ سیکورٹی اہلکاروں نے مرفادکاقتل کیاہے۔