نیوز ڈیسک
جموں//این سی کے سابق صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ کے اس بیان پر سخت ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہ ہندوستان کو پاکستان کے ساتھ بات چیت کرنی چاہئے، بی جے پی کے قومی جنرل سکریٹری ترون چْگ نے پیر کو کہا کہ “اگر ہندوستان کسی سے بات کرے گا تو وہ صرف عوام کے ساتھ ہی کرے گا‘‘۔ چگ نے کہا کہ فاروق عبداللہ پاکستان کے ہاتھوں میں ایک پیادہ بنے ہوئے ہیں۔انکاکہناتھا’’ڈاکٹر فاروق عبداللہ کو جموں و کشمیر میں ہونے والی نئی پیشرفتوں سے سیکھنا چاہیے عبداللہ کے دور حکومت میں کشمیر گولیوں اور بموں کے لیے مشہور تھا۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے جموں و کشمیر کو دہشت گردی سے سیاحت کا مرکز بنا دیا ہے۔ اگر ہندوستان مستقبل میں کسی سے بھی بات کرے گا تو وہ صرف جموں و کشمیر کے لوگوں کے ساتھ بات کرے گا‘‘ ۔انہوں نے کہا کہ سرینگر میں جی 20سربراہی اجلاس ایک تاریخی واقعہ تھا اور یہ زندگی کے تمام شعبوں کے لوگوں کی بھرپور حمایت کے ساتھ پرامن طور پر اختتام پذیر ہوا۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ جی 20سربراہی اجلاس کے انعقاد کے خلاف بات کر رہے تھے انہیں خود کا جائزہ لینا چاہیے اور اپنی بداعمالیوں پر توبہ کرنی چاہیے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ مفتی، عبداللہ اور گاندھی نے جموں و کشمیر کی خیر سگالی کو تباہ کر دیا ہے اور یہ وزیر اعظم نریندر مودی ہیں جنہوں نے جموں و کشمیر کو غیر یقینی کی دلدل سے نکالا اور دہشت گردی اور ان کے حامیوں کے ماحولیاتی نظام کو تباہ کیا۔ چگ نے مزید کہا “کشمیر نے امن، خوشحالی اور ترقی کی طرف سفر شروع کیا ہے اور یہ آگے بھی جاری رہے گا‘‘.