بلال فرقانی
سرینگر//نالہ سکھ ناگ میں غیر قانونی کان کنی کے نتیجے میں دریا کے ماحولیاتی نظام کو شدید نقصان پہنچنے کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد قومی گرین ٹریبونل(این جی ٹی)نے ماہرین کی ایک نگران کمیٹی کو صورتحال کا تفصیلی جائزہ لینے کی ہدایت دی ہے۔ڈپٹی کمشنر بڈگام کی جانب سے گزشتہ سال اگست میں تشکیل دی گئی سات رکنی کمیٹی نے اپنی رپور ٹ جموں کشمیر پولیوشن کنٹرول کمیٹی کے ذریعے این جی ٹی کو پیش کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نالے سے بڑے پیمانے پر ریت اور بجری نکالنے سے سکھ ناگ کے قدرتی بہائو اور جغرافیائی ساخت کو نمایاں نقصان پہنچا ہے۔یہ معاملہ این جی ٹی کی پرنسپل بینچ نئی دہلی میں زیر سماعت مقدمہ ڈاکٹر راجہ مظفر بٹ بنام جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری کے دوران 26 فروری 2026 کو پیش کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق کان کنی کی وجہ سے دریا کے تہہ میں گہرے گڑھے بن گئے ہیں جس سے پانی کے بہائو کا قدرتی توازن متاثر ہوا ہے۔ دریا کے اندر بھاری مشینری کے استعمال سے کناروں پر شدید کٹائو پیدا ہوا ہے جبکہ پہلے سے تعمیر شدہ حفاظتی بندھ بھی متاثر ہوئے ہیں۔کمیٹی نے یہ بھی نشاندہی کی کہ خاص طور پر رات کے اوقات میں ہونے والی غیر قانونی اور غیر منظم کان کنی نے دریا کے قدرتی ڈھانچے، ڈھلان اور جغرافیائی توازن کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ اس کے نتیجے میں بعض مقامات پر مٹی اور ریت کے بہائو میں بے ترتیبی پیدا ہوئی ہے اور نالے کے کناروں پر کٹائو تیز ہو گیا ہے۔ جنوری 2024 سے اگست 2025 تک محکمہ مائننگ نے 215 گاڑیاں ضبط کیں اور تقریباً 29.36 لاکھ روپے جرمانہ وصول کیا۔
اس دوران عادی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف 26 ایف آئی آر بھی درج کی گئیں۔انتظامیہ کے مطابق اس وقت سکھ ناگ میں غیر قانونی کان کنی کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے اور آئندہ خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے نگرانی کا نظام مضبوط بنایا گیا ہے۔کمیٹی نے دریا کی بحالی کے لیے کئی ماحولیاتی اور انجینئرنگ اقدامات کی سفارش کی ہے جن میں دریا کے تہہ میں بنے گہرے گڑھوں کو بھرنا، تلچھٹ کو برابر کر کے پانی کے قدرتی بہائو کو بحال کرنا، گابیون یا کریٹ چیک ڈیم تعمیر کرنا اور کمزور کناروں کو مضبوط بنانے کے لیے حفاظتی دیواریں بنانا شامل ہیں۔ماہرین نے یہ بھی تجویز دی ہے کہ دریا میں مصنوعی مچھلی تالاب بنائے جائیں تاکہ ٹراوٹ مچھلیوں کی افزائش، پرورش اور خوراک کے لیے موزوں ماحول دوبارہ فراہم کیا جا سکے۔اس معاملے کی اگلی سماعت 27 مارچ 2026 کو این جی ٹی کی پرنسپل بینچ میں ہوگی، جہاں ماہرین کی کمیٹی کی جانب سے پیش کی جانے والی تازہ رپورٹ پر غور کیا جائے گا