واشنگٹن// اتوار کو کیے جانے والے اپنے کئی ٹوئٹس میں صدر ٹرمپ نے امریکہ میں جاری غیر قانونی تارکینِ وطن سے متعلق تنازع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ غیر قانونی طور پر امریکہ آنے والے تارکینِ وطن کو کسی قانونی کارروائی کے بغیر فوراً ملک بدر کردیا جانا چاہیے۔اتوار کو کیے جانے والے اپنے کئی ٹوئٹس میں صدر ٹرمپ نے امریکہ میں جاری غیر قانونی تارکینِ وطن سے متعلق تنازع پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔امریکی صدر کا کہنا تھا کہ "ہم ان تمام لوگوں کو اپنے ملک پر ہلہ بول دینے کی اجازت نہیں دے سکتے۔" انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ کا نظام "اچھی امیگریشن پالیسی اور قانون و انصاف کے ساتھ ایک مذاق ہے۔"صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ امریکہ کے امیگریشن قوانین کا دنیا بھر میں مذاق اڑایا جاتاہے۔انہوں نے کہا کہ اس نظام میں ان لوگوں کے ساتھ نا انصافی ہورہی ہے جو کئی برسوں تک قطاروں میں کھڑے رہ کر قانونی راستے سے امریکہ آنے کا انتظار کرتے ہیں۔امریکہ میں گزشتہ کئی برسوں سے میکسیکو، دیگر وسطی امریکی ملکوں اور دنیا بھر سے غیر قانونی طریقے سے امریکہ پہنچنے والوں کو عدالتوں میں پیش کیا جاتا رہا ہے جو انہیں پناہ دینے یا نہ دینے کا فیصلہ کرتی رہی ہیں۔لیکن گزشتہ ماہ ٹرمپ حکومت نے یہ پالیسی ختم کرنے اور غیر قانونی طور پر امریکہ میں داخل ہونے والے تارکینِ وطن کو گرفتار کرکے ان کے خلاف فوجداری مقدمات چلانے کا اعلان کیا تھا۔ٹرمپ حکومت کی اس پالیسی کے نتیجے میں تارکِ وطن کے ساتھ آنے والے بچوں کو ان کے والدین یا سرپرستوں سے الگ کرکے سرکاری کیمپوں میں رکھا جارہا تھا اور ان کے بڑوں کو جیل بھیجا جارہا تھا۔لیکن اس پالیسی پر ملک بھر میں اور بیرونِ ملک کڑی تنقید ہونے کے بعد صدر ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بچوں کو ان کے اہلِ خانہ سے الگ کرنے کی پالیسی ختم کردی تھی۔لیکن امریکہ کے موجودہ قوانین کے تحت بچوں کو 20 دن سے زیادہ جیل میں نہیں رکھا جاسکتا جس کی وجہ سے مبصرین کا کہنا ہے کہ ٹرمپ حکومت کے لیے تارکینِ وطن کو جیلوں میں رکھنے کی پالیسی پر عمل درآمد مشکل ہوجائے گا۔تاہم اتوار کو اپنے ٹوئٹ میں صدر ٹرمپ نے بظاہر اس مسئلے کا حل تجویز کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر قانونی تارکینِ وطن کو کسی جج یا عدالت کے سامنے پیش کیے بغیر ہی فوراً وہیں واپس بھیج دینا چاہیے جہاں سے وہ آئیں۔لیکن امکان ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے تارکینِ وطن کے خلاف قانونی کارروائی کے بغیر ہی اقدام کرنے کی اس تجویز پر کانگریس میں سخت ردِ عمل سامنے آئے گا جہاں دونوں جماعتوں –ری پبلکن اور ڈیموکریٹس – کے اختلافات کے باعث گزشتہ کئی برسوں سے امیگریشن نظام میں اصلاحات سے متعلق قانون سازی تعطل کا شکار ہے۔