عظمیٰ مانیٹرنگ ڈیسک
نیویارک //اقوام متحدہ کے ورلڈ فوڈ پروگرام نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں صورتحال تیزی سے بگڑتی جا رہی ہے جب کہ وہاں دکانوں میں صرف چار، پانچ دن کے کھانے کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کہ اسرائیل 23 لاکھ افراد پر مشتمل غزہ میں جارحانہ کارروائی تیز کرنے کی تیاری کر رہا ہے جس نے غزہ میں انسانی بحران کو جنم دیا ہے اور ایران کے ساتھ تنازع میں اضافے کا خدشہ پیدا کر دیا ہے۔غزہ کے حکام کا کہنا ہے کہ 7 اکتوبر سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2 ہزار 800 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے ایک چوتھائی تعداد بچوں کی ہے، 10 ہزار سے زائد زخمی افراد ہسپتالوں میں زیرِ علاج ہیں جہاں ضروری سامان کی شدید قلت ہے۔
ڈبلیو ایف پی کے مشرق وسطیٰ کے ترجمان نے قاہرہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے جنیوا میں موجود صحافیوں کو بتایا کہ دکانوں میں موجود اسٹاک چند روز کی ضروریات سے بھی کمی کے قریب پہنچ رہے ہیں، شاید چار یا پانچ دن کا کھانے کا ذخیرہ باقی رہ گیا ہے۔دوسری جانب عالمی ادارہ صحت نے زور دیا کہ اسے امداد اور طبی سامان کی فراہمی کے لیے غزہ تک فوری رسائی کی ضرورت ہے۔ایک بریفنگ میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے ڈبلیو ایچ او کے ایک نمائندے نے کہا کہ ایجنسی آج ’فیصلہ سازوں‘ سے مل رہی ہے تاکہ غزہ تک جلد سے جلد رسائی دی جائے۔انہوں نے رفح کراسنگ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہم نے رفح کے جنوب میں امداد فراہم کی ہے اور غزہ میں داخلے کے لیے اجازت کا انتظار کر رہے ہیں۔