سرینگر //کشمیر میں اہلخانہ کی جانب سے ٹھکرائے گئے ذہنی مریضوںکیلئے گاندربل ضلع میں خصوصی گھر (Halfway Home) پچھلے 3سال سے زیر تعمیر ہے اور اسکی تعمیر مکمل ہونے میں مزید 2سال کا عرصہ درکار ہے۔ ذہنی بیماریوں سے ٹھیک ہونے والے افراد کیلئے تعمیر ہونے والے اس خصوصی گھر پر 4کروڑ 84لاکھ روپے صرف ہونے والے ہیں اور اس میں ان مریضوں کیلئے تمام تر سہولیات دستیاب ہونگی۔ سرینگر کے کاٹھی دروازہ میں قائم ذہنی مریضوں کے خصوصی اسپتال میں ایسے 43افراد موجود ہیں، جو اہلخانہ کی جانب سے ٹھکرائے گئے ہیں۔ اسپتال میں تعینات ماہر نفسیات کا کہنا ہے کہ ان 43مریضوں میں 20ایسے ہیں جو مکمل طور پر ٹھیک ہوگئے ہیں لیکن ان کے اہلخانہ انہیں گھر لینے کیلئے تیار نہیں ہیں ۔وادی کے معروف ماہر نفسیات ڈاکٹر ارشد حسین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ اسپتال میں روزانہ300مریض علاج و معالجہ کیلئے آتے ہیں لیکن ان میں صرف 50مریضوں کو ہی بسا اوقات کچھ مدت کیلئے اسپتال میں ٹھہرنا پڑتا ہے اور وہ بعد میں ٹھیک ہوکر اپنے گھر چلے جاتے ہیں‘‘۔
ڈاکٹر ارشد کہتے ہیں کہ زیادہ تر مریضوں کو فیملی وارڈوں میں رکھا جاتا ہے جہاں ان کے اہلخانہ میں سے ایک شخص ان کے ساتھ رہتا ہے اور یہ تیماردار ڈاکٹروں کے طریقہ علاج کو دیکھ کر دوسری مرتبہ مریض کی خود گھر میں دیکھ بال کرتا ہے لیکن کچھ مریضوں میں کافی گہری بیماری ہوتی ہے۔ انہوں نے کہا ’’ عالمی ادارہ صحت کے مطابق دنیا میں 1فیصد لوگ Schizophenia نامی بیماری سے متاثر ہوتے ہیں اور اسلئے ان بیماروں کیلئے Halfway Homesبنائے جاتے ہیں‘‘۔ڈاکٹر ارشد نے کہا کہ عالمی ادارہ صحت کے اعدادوشمار پر چلیں تو کشمیر میں اس بیماری کے 70ہزار مریض ہونے چاہئیں لیکن یہاں یہ بیماری کافی کم ہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ اس بیماری میں 70فیصد افراد علاج کے بعد مکمل طور پرٹھیک ہو کرگھر چلے جاتے ہیں جہاں وہ معمول کی زندگی گزارتے ہیں لیکن 20فیصدمریضوں کو بعد میں بھی علاج کی ضرورت پڑتی ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ 7سے 10فیصد لوگ ایسے ہوتے ہیں جوٹھیک ہوتے ہیں لیکن گھر والے انہیں ٹھکراتے ہیں‘‘۔ انہوں نے کہا کہ کنبوں میں تقسیم کی وجہ سے کچھ لوگ ذہنی دبائو کا شکار ہوکرSchizophenia نامی بیماری کے شکار ہوجاتے ہیں جس سے انکے بازو یا ٹانگیں کام کرنا چھوڑ دیتی ہیں‘‘۔ڈاکٹر ارشد نے کہا کہ ایسا ہی ایک شخص گزشتہ سال جنوری میں غوثیہ اسپتال خانیار میں ملا اور اسکی دونوں ٹانگوں نے کام کرنا چھوڑ دیا تھا‘‘۔ انہوں نے کہا ’’ اسپتال میں اسکی حالت کافی بہتر ہے اور اسے اب اہلخانہ کے پیار اور ہمدردی کی ضرورت ہے لیکن گھر والوں نے اسکو واپس لینے سے انکار کیا ہے‘‘۔ڈاکٹر ارشد کہتے ہیں کہ ہم نے اس معاملہ میں پولیس اسٹیشن خانیار کو مطلع کیا جنہوں نے مذکورہ شخص کے اہلخانہ کو بڑی محنت کے بعد ڈھونڈ نکلا لیکن اس کے گھر والوں نے مریض کو قبول کرنے کے بجائے عدالت میں ڈاکٹروں کے خلاف ہی کیس دائر کردیا ‘‘۔ڈاکٹر ارشدنے مزید بتایا کہ اسپتال میں ایسے 43مریض ہیں جن میں 20ٹھیک ہوگئے ہیں لیکن ان کے اہلخانہ ان کو گھر واپس نہیں لے رہے ہیں اور ایسے مریضوں کیلئے ہی Half way Homesکا قیام عمل میں لایا جا رہاہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’ کشمیر میں ہاف وے ہوم پہلے عارضی طور پر قائم کیا گیا لیکن عالمی وباء کے دوراان مریضوں کو واپس اسپتال منتقل کیا گیا ‘‘۔انہوں نے کہا کہ ایسے مریضوں کیلئے خصوصی گھر قائم کرنا محکمہ سماجی بہبود کی ذمہ داری ہوتی ہے لیکن گاندربل میں مریضوں کیلئے مخصوص گھر دوسال سے زیر تعمیر ہیں‘‘۔اسسٹنٹ ڈائریکٹر سوشل ویلفیئرکے نجیب لطیفی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ گاندر بل میں ذہنی بیماریوں سے ٹھیک ہونے والے افراد کیلئے خصوصی گھر پر کام سال 2018میں شروع کیا گیا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا’’ 4کروڑ 84لاکھ روپے کی لاگت سے بننے والے اس گھر کی تعمیر مکمل ہونے میں ابھی 2سال کا عرصہ لگ سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ گھر کو ضلع اسپتال گاندربل کے نزدیک تعمیر کیا گیا ہے تاکہ ضرورت پڑتے پر ڈاکٹر دستیاب ہو‘‘۔