علامہ اقبال کا تصّورِ ذکر و فکر جو ان کے نظریہ علم کی خاص ابعاد (ڈائیمینشنز) کو واضح کرتا ہے، اصل میں قرآن حکیم اور سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ماخوذ ہے۔ لغوی اعتبار سے ذکر کے معنی ’’تعریف، شہرت، شرف، احترام، اشارہ، مذہبی کتاب قانون، یاداشت اور یاد دہانی‘‘ کے ہیں، جبکہ اصطلاحی طور پر خود قرآن کو ’’الذکر‘‘ کہا گیا ہے۔ اسی لئے ’’اہل علم‘‘ کو ’’اہل الذکر‘‘ کہتے ہیں اور رسول اللہ ؐ کو ’’مذکر، یاد دہانی کرانے والا‘‘ کہا گیا ہے۔ جہاں تک فکر کا تعلق ہے، تو لغوی طور پر اس کے معنی ’’سوچ اور (دماغی) تخیل‘‘ کے ہیں۔ تاہم اصطلاحی اعتبار سے کسی بھی چیز کے اسرار و غوامض جاننے اور حقائق تک پہنچنے کے دماغی یا عقلی عمل کو فکر سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ تکنیکی طور پر اسلام میں اللہ تبارک و تعالیٰ کی تقدیس، تحمید، تمجید، تسبیح وغیرہ بیان کرنے کو ذکر کہتے ہیں، جبکہ تعقل، تفہم، تدبر، تفقہ، توسم وغیرہ کو فکر کہا جاتا ہے۔
اس طرح ذکر کے ذریعے انسان خدا کی عظمت اور جبروت کے سامنے اپنے عجز و ضعف کا اعتراف کرکے ذات خداوندی کے ساتھ اپنے تعلق کو استوار کرتا ہے۔ فکر کے ذریعے انسان اپنے خارج کی دنیا یعنی تخلیق میں موجود آیات الٰہی پر غور کرکے دنیا میں اپنی حیثیت متعین کرتا ہے۔ اس طرح ذکر و فکر ایک ایسا مربوط عمل ہے جو نتیجے کے اعتبار سے فکر و نظر، روح و بدن اور عقل و دل کا ایک امتزاج پیش کرتا ہے۔ چونکہ علامہ قرآن کو ہی اس عمل کا منبع اور محرک قرار دیتے ہیں، اس لئے ان کے کلام میں ہم بار بار اس کا امتزاج دیکھ سکتے ہیں؛ مثلاً :
جز بقرآں ضیغمی روباہی است
فقر قرآں اصل شاہنشاہی است
فقر قرآں؟ اختلاط ذکر و فکر
فکر را کامل نہ دیدم جز بہ ذکر
یعنی قرآن سے لا تعلق رہکر انسان کی ہر قسم کی فکری اور جذباتی قوت بے کار اور رائیگاں ہونے کا ہر وقت خطرہ ہے، جبکہ قرآن سے عطا ہونے والا فقر (احتیاج) انسان کو خدا کے بغیر ہر سہارے سے بے نیاز کردیتا ہے۔ اس طرح انسان کو دل کی دنیا کی بادشاہی عطا ہوتی ہے۔ دل کا یہی غنی اس کو فطرت کے راز ہائے سربستہ جاننے میں معاون ہوتا ہے اور اسے علم کا ایک ایسا منبع ہاتھ آتا ہے جس سے اس کے لئے زندگی کی راہیں روشن ہوتی ہیں۔
دراصل ذکر کے ذریعے صفات باری تعالیٰ میں استغراق بندہ مومن کو اتنا حساس بنادیتا ہے کہ وہ ’’وھو معکم این ما کنتم‘‘ (الحدید: 4) کی تجلیات ہر لحظہ محسوس کرتا رہتا ہے۔ انہی تجلیات کے ذریعے ایسے شخص کا ’’سینہ اسلام کے لئے کھول دیا جاتا ہے اور وہ اللہ کی طرف سے ایک نور میں نہلا اٹھتا ہے‘‘۔ (الزمر: 22) دل کا یہی نور اس کا ساتھی بن جاتا ہے جو اسے زندگی کا سفر طے کرنے میں معاون ہوجاتا ہے۔ (الحدید: 28) ایسا انسان دین و دنیا یا بالفاظ علامہ ’’فقر و سلطانی‘‘ کو ایک ساتھ چلاتا ہے:
بگو فاروق را پیغام فاروق ؓ
کہ خود در فقر و سلطانی بیامیز
خلاف، فقر با تاج و سریر است
زہے دولت کہ پایاں ناپذیر است
یعنی شاہ فاروق (والئ مصر) کو فاروق اعظم ؓ کا پیغام پہنچنا چاہئے۔ کیونکہ نظام خلافت ہی ایک ایسا نظام ہے جو فقر کی بنیاد پر استوار ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایسی حکومت یا سلطانی کی جڑیں نہایت پائیدار ہوتی ہیں اور ایسی ہی حکمرانی کو ثبات حاصل ہوتا ہے۔ اسلامی حکمرانی کی یہی روایت فقر حکومت کو احترام انسانیت اور عدل اجتماعی کی ایک اعلی مثال بنادیتی ہے۔ بقول علامہ:
مرا فقر بہتر ہے اسکندری سے
یہ آدم گری ہے وہ آئینہ سازی
یعنی مسلم حکمران کا فقر (بشرطیکہ وہ واقعی ’’فقیر‘‘ ہو!) اسکندر یونانی جیسے فاتح اور شاہنشاہ سے بہتر اور افضل ہوتا ہے، کیونکہ وہ فقر کے ذریعے انسان دوست اور آدمیت کا خیر خواہ بن جاتا ہے۔ اس کو قومیت اور وطنیت سے کوئی سروکار نہیں ہوتا۔ وہ عدل کی بنیادوں پر استوار خلوص و محبت کا مجسمہ بن جاتا ہے۔ پھر وہ فاروق اعظم ؓ کی طرح عدل کے تقاضوں کو پورا کرنے کے لئے اپنے بیٹے کو بھی نہیں بخشتا اور سیدنا علی ؓ کی طرح اپنے بیٹے کی اپنے حق میں گواہی نامنظور ہونے کی وجہ سے اپنا مقدمہ ہار جاتا ہے! اس کے برعکس اسکندر یونانی کی فرمانروائی محض ایک ’’آئینہ سازی‘‘ ہے جس کی غرض و غایت تسخیر علائق ہوتی ہے۔ اسکندر کی ’’آئینہ سازی‘‘ کی روایت اس طرح سے بیان ہوئی ہے کہ اس نے ایک آئینہ بناکر اسکندریہ کے ایک مینار میں نصب کیا تھا تاکہ دشمن کی حرکات و سکنات پر نظر رکھی جاسکے اور ان کے حملوں کو ناکارہ بنایا جاسکے۔ اگرچہ کسی بھی حکمران کے لئے ایسی تدابیر کرنا ضروری ہوتا ہے تاہم یہ تدبیر حال ہی میں منظر عام پر آئے "پیگسس اسپائی وائر" جیسی معلوم ہوتی ہے!
ذکر و فکر کے تعامل کو علامہ نے مختلف پیرایوں میں بیان کیا ہے، جیسے:
ہے ذوق تجلی بھی اسی خاک میں پنہاں
غافل! تو نرا صاحب ادراک نہیں ہے
’’ذوق تجلی‘‘ یعنی اللہ تعالیٰ کی قدرت و جبروت کا ذاتی تجربہ یا اللہ تعالیٰ کی یافت کا ذوق سلیم انسان کی سرشت میں ودیعت کیا گیا ہے، جس کے لئے انسان کا قلب ہر وقت بے قرار رہتا ہے۔ ذکر اسی ذوق کو پختہ تر کرتا ہے۔ تاہم ’’ذوق تجلی‘‘ پر علامہ کے اس زور کے باوجود یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے ’’ادراک‘‘ کو اصل سے کم حیثیت دیکر اس کا درجہ گھٹا دیا ہے۔ کیونکہ ادراک بذات خود ایک ایسی صلاحیت ہے جس سے ’’لطیف ‘‘حقائق چشم زدن میں انسان کی گرفت میں آجاتی ہیں۔ (الانعام: 103 و القلم: 49) تاہم جس طرح تجلی دل کی دنیا کو آباد کرتی ہے، بالکل اسی انداز میں ادراک فکر کو جلا بخشتا ہے۔ لیکن دونوں کی جب تک وحی الٰہی کے آب حیات سے آبیاری نہ کی جائے تب تک ان سے کوئی مثبت نتیجہ اخذ نہیں کیا جاسکتا۔ اس کو علامہ نے اپنے ایک مشہور و معروف شعر میں بیان کیا ہے:
وہ کلیم بے تجلی! وہ مسیح بے صلیب
نیست پیغمبر ولیکن در بغل دارد کتاب
یعنی وحی الٰہی کی ضیا پاشی کے بغیر کارل مارکس کا سینہ تجلی سے محظوظ ہوسکا نہ ہی وہ صحیح مسیحائی کرسکا۔ اور تو اور ایک باضابطہ کتاب (داس کیپیٹل) تحریر کرنے کے باوجود بھی وہ کوئی ایسا انقلاب برپا نہ کرسکا جس سے انسانیت کا حقیقی معنوں میں کوئی بھلا ہوسکتا۔
واضح رہے کہ وحی ایک خارجی عمل ہے جس میں انسانی نفسیات، حتی کہ تعقل، حواس اور وجدان کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ یہ خدا اور بندے (پیغمبر) کے درمیان وقوع پذیر ہونے والا ایک راست عمل ہوتا ہے۔ اس لئے فلسفیانہ تعقل (کنٹمپلیشن) یا صوفیانہ وجد (الہام، کشف) وحی کے قبیل کی چیزیں نہیں ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ غیر پیغمبر پر ہر زمانے میں اور ختم نبوت کے بعد ہر کسی پر ’’نزول کتاب‘‘ ناممکن اور ناقابل تصور ہے۔ لیکن قاری اور سامع دونوں کے لئے ہر وقت حضوری کی وہ کیفیت درکار ہوتی ہے جو بہرحال ذوق سلیم کا ہی نتیجہ ہوسکتا ہے۔ اس ضرورت کو علامہ نے اس طرح بیان کیا ہے:
ترے ضمیر پہ جب تک نہ ہو نزول کتاب
گرہ کشا ہے نہ رازی نہ صاحب کشاف
یعنی قرآن سے تعلیم اور تذکیر کی تحصیل کے لئے ایک ایسی کیفیت درکار ہے جس سے ہر ایک کے لئے تلاوت قرآن ایک ذاتی تجربہ بن سکے۔ اگر ایسا نہ ہو تو امام رازی کی منطقی اور فلسفیانہ استدلال سے پر ’’تفسیر کبیر‘‘ اور زمخشری کی ادبی بلاغت سے مزین شاہکار ’’الکشاف‘‘ بھی انسان کی الجھنوں کو دور نہیں کرسکتیں۔
ذکر و فکر کے اس ارتباط کو مد نظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ ’’علم کی تشکیل اسلامی، اسلامائزیشن آف نولیج ‘‘کا نظریہ اسماعیل الراجی الفاروقی سے قبل علامہ اقبال نے پیش کردیا تھا۔ واضح رہے کہ علم کی تشکیل اسلامی کی تاریخ کے بارے میں یہ رائے پروفیسر حمید نسیم رفیع آبادی کی ہے۔ تاہم ڈاکٹر محمود احمد غازی کے مطابق اس تاریخ کو ہم ابو نصر الفارابی یعنی اسلام کے سنہری دور کے ساتھ ملا سکتے ہیں۔ الفارابی نے تحریک ترجمہ (ٹرانسلیشن مومنٹ) سے مہمیز پاکر ’’آراء اھل المدینہ الفاضلہ‘‘ لکھی اور افلاطون کی حکمرانی سے متعلق آراء کو اسلامی سیاسی اور مدنی فکر کا حصہ بنانے کی کامیاب کوشش کی۔ بہرحال قرآن سے حاصل شدہ یہ نظریہ علم ہی تھا جس نے اسماعیل الراجی الفاروقی کی نظر میں ’’حکمران کو مفکر اور مفکر کو حکمران بنادیا تھا‘‘۔ اتنا ہی نہیں بلکہ اسی نے ایک ’’فقیہ کو بیک وقت ایک مجتہد، قاری قرآن، محدث، معلم، متکلم، سیاسی و فوجی سربراہ، کاشتکار، تاجر یا ایک پیشہ ور‘‘بنا دیا تھا۔ اسلامی علم اور علمیات (اپسٹمالوجی) کا یہی نظریہ آج ’’علم کی انضمامی تشکیل، انٹگریشن آف نولیج‘‘ کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ بقول ضیاء الدین سردار: ’’اس قرآنی تصور (علم) اور علمیات کی بنیاد نظریہ توحید (خدا کی یکتائی) اور خدا کے سامنے مسئولیت کے ساتھ ساتھ انسان کی اپنی روح، پوری انسانیت، تمام مخلوقات اور کل طبعی دنیا کے درمیان احساس ذمہ داری پر مبنی ہے۔ (علم کا) یہ نمونہ وحی پر مبنی علم کے ساتھ ساتھ انسانی علم کو بھی اہمیت دیتا ہے اور علوم کی کثرت اور تنوع کو بھی قبول کرتا ہے۔‘‘ بقول خلیفہ عبدالحکیم علامہ اقبال اپنے انضمامی فلسفے کے لئے قرآن سے ٹھوس شواہد پاکر حواس، عقل اور وجدان، جن کا سرچشمہ قرآن کی رو سے فواد یا دل ہے، کو حقیقت اعلی تک رسائی بہم پہنچانے میں اہم اور بنیادی ذرائع کے طور پر تسلیم کرتے ہیں۔ تینوں ذرائع علم، حقیقت اعلی، جو مخلوق کی کثرت کے باوجود اپنی وحدت کو بنائے رکھتی ہے، کا مجموعی علم بہم پہنچانے میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔
اس طرح علامہ اقبال کا ذکر و فکر کا یہ نظریہ نو افلاطونی نظریہ کے بالکل متوازی بلکہ مخالف سمت میں چلتا ہے جہاں انسانی انفرادی روح (انڈیجول سول) کو آفاقی روح (ورلڈ سول) سے جدا ہوکر جسم میں مقید ہوکر مغموم اور مضطرب دکھایا گیا ہے۔ ایسی روح کی بے اطمینانی صرف اور صرف فلسفیانہ تعقل (کنٹمپلیشن) اور اخلاقیات سے بے غرض (موریلٹی نیوٹرل) ضبط نفس (سیلف ڈسپلن) سے دور ہوسکتی ہے، جس سے اس کا پھر سے آفاقی روح کے ساتھ انضمام ہوسکتا ہے۔ علامہ کے مطابق انسانی روح کسی وقت جسم میں بے چین نہیں رہتی بلکہ ہمیشہ ذکر سے اطمینان حاصل کرتی رہتی ہے اور فکر سے الٰہی اخلاق (قانون، احکام) پر سرگرم عمل رہتی ہے۔ اس روح کو موت کے وقت خدا کے کارندے (ملائکہ) جسم سے جدا کرکے خدا کی جناب میں پیش کرتے ہیں، لیکن وہ ذات خداوندی میں ضم نہیں ہوتی۔
اس طرح علامہ اقبال پیر رومی کے ذکر و فکر کے تصور کو ایک علمی نظریے کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب ہوتے نظر آتے ہیں۔ واضح رہے کہ مولانا رومی نے فکر کے ساتھ ذکر کے التزام کو کچھ اس طرح بیان کیا تھا:
ایں قدر گفتیم باقی فکر کن
فکر اگر جامد بود، رو ذکر کن
ذکر آرد فکر را در اہتزاز
ذکر را خورشید ایں افسردہ ساز
یعنی ہم نے تھوڑا بہت کہہ دیا ہے باقی خود سوچ لے۔ اگر سوچ تھک جائے تو ذکر شروع کردے۔ (کیونکہ) ذکر سے فکر میں تحریک پیدا ہوجاتی ہے۔ سرد فکری کے لئے ذکر الٰہی سورج کی حرارت کا کام دیتا ہے۔
(راقم کو اقبال انسٹیٹیوٹ آف کلچر اینڈ فلاسفی، یونیورسٹی آف کشمیر کی جانب سے منعقدہ دو روزہ (9، 10 نومبر 2021 ) بین الاقوامی سیمینار، بعنوان ’’علم، ادب اور ثقافت کی تفہیم میں اقبال کی خدمات ‘‘میں مندرجہ صدر عنوان پر ایک مقالہ پیش کرنے کا موقع ملا۔ اس مقالے کا خلاصہ قارئین کی نذر کیا جارہا ہے)
رابطہ: 9858471965
ای۔میل۔ [email protected]
������