اردو اخبارات میں کالم نویسی کی جو روایت قائم ہے ان میں سنجیدہ اور مزاحیہ دونوں شامل ہیں ۔عبدل رحمن مخلص ایک ایسا نام ہے جن کے کالم ریاستی اورقومی اخبارات میں شائع ہو چکے ہیں۔ ان میں ماہنامہ’’ نوید سحر ‘‘جاپان ،ماہنامہ’’ سحر جرمنی‘‘ ،’’مستانہ جوگی‘‘ نئی دہلی قابل ذکر ہیں۔مخلص کالم نگاری کی دنیا میں اسم بامسمٰی مخلص نظر آتے ہیں۔ ضرب اللسان ،آزمایش شرط ہے،زندگانی تماشے کی،کرامت،تہہ برتہہ ،زندگی انمول، الٹی منطق ،بے خبر،لہو لہو زندگی، اپنی جنگ وغیرہ ایسے کالم ہیں جو انکی تخلیقی صلاحیتوں کا نمایاں ثبوت ہیں۔ ان کے اکثر کالم سنجیدہ نوعیت کے ہوتے ہیں جن میں ایک تجربہ کار آدمی ،جہاندیدہ شخص ،سماجی نباض کی تخلیقی کاوش نظر آتی ہے۔ساتھ ہی ایک کمنٹیٹر کی کمنٹری نظر آتی ہے جو خود تمام تر صورتحال کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ ساتھ قاری کو بھی مطالعے کی دعوت دیتاہے۔ ان کے اکثر کالموں کے موضوعات اخلاقی ،سماجی،نفسیاتی ،مذہبی اور سیاسی مسایل پر مبنی دیکھے جاسکتے ہیں۔کالم’’ آزمایش شرط ہے‘‘ میں کالم نگارنے اخلاقی زوال پذیری کو موضوع بحث بناتے ہوے لکھا ہے کہ تمام لاعلاج بیماریوں سے زیادہ خطرناک بیماری اخلاقی بیماری ہے۔ ملاحظ کیجئے کالم سے یہ اقتباس ؛
’’جس سے سیدھے سادے الفاظ میں اخلاقی بیماری کہا جاسکتا ہے۔کینسر اور ایڈز اپنی تمام تر ہولناکیوں کے باوجود اپنے اندر محدودیت کا پہلو رکھتی ہیں لیکن اخلاقی بیماری کی پہنچ اور اثر لا محدود ہے۔یہ ایک وقت میں فقط ایک فرد کو متاثر نہیں کرتی بلکہ پورے گلوب کے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لیتی ہے ۔اس لیے انسان اب مایوس ہو چلا ہے اور تسلیم کر بیٹھا ہے کہ یہ بیماری لاعلاج ہے‘‘…
حوالہ : کالم ’’آزمائش شرط ہے ‘‘
کالم ’’کرامت ‘‘میں کالم نگار نے ان حالات کا خاکہ کھینچا جن کاسامنا ہر ایک شخص کو گھریلو زندگی میں کرنا پڑتا ہے ۔بیوی اور شوہر کے روزانہ جھگڑے ہر گھر کی رام کہانی ہے، معمولی باتوں پر آسمان سر پر اٹھایا جاتا ہے۔ ان حالات میں دلچسپ موڈ وہ ہوتا ہے جہاں بیگم صاحبہ چاہتی ہے کہ جناب شوہر انکی جی حضوری کرکے ان کے ہر کلام پر ،انکی ہر فرمایش پر شہادت کا درجہ حاصل کرے اور شوہر بیگم کا ہر حکم بجا لائے :
’’تو چند ہی دنوں میں خاوند تمہارا زرخرید غلام بن جائے گا۔دیکھو !جوں ہی تمہیں لگے کہ جھگڑا ہونے والا ہے ،اس تعویز شریف کو خاوند کی نظریں بچا کر اپنے دانتوں تلے دبانا ، جتنا زور سے دبائے رکھوگی ، اتنا ہی تمہارے لیے بہتر ہے۔۔۔۔عورت نے ایسا ہی کیا تو پھر کبھی جھگڑا نہیں ہوا۔وہ پیر بابا کی معتقد ہوگئی۔اب اسے یہ بتانے کی ضرورت تھی کہ یہ سب تعویز شریف کی نہیں بلکہ منہ بند رکھنے کی کرامت تھی‘‘…
بحوالہ ، کالم ’’کرامت ‘‘
اس کالم میں سنجیدہ پہلوئوں کے آئینے میں خاموشی کی تعریفیں ملتی ہیںلیکن بعضے اقتباسات مزاحیہ پیرائے میں تحریر کیے گئے ہیں۔
کشمیر کا ہر موسم اپنے ساتھ اپنا حسن رکھتا ہے ۔اپنی ساخت کے مطابق آسایش اور راحت کے علاوہ سختیاں بھی رکھتا ہے جنھیں صرف کشمیری ہی جھیلتاہے یا ان سے لطف اندوز ہوتاہے ۔یہاں کنکریٹ تعمیرات کھڑا کرنے کے پیچھے آسائشیں بھی شامل ہیں اور سختیاں بھی لیکن اگر کہا جائے کہ سختیاں زیادہ اور مضر رساں ہوتی ہیں تومناسب رہے گا۔ اسی نوعیت کے مسایل کو لیکر کالم نگار نے کالم ’’تہہ بر تہہ‘‘ تحریر کیا ہے۔اس کالم میں کشمیر میں منفی درجہ حرارت کو لیکر بات کی گئی ہے کہ کس طرح منفی درجہ حرات آدمی کو یخ بستہ کرکے کنکریٹ اور عالی شان مکان میں جان کے لالے پڑواتا ہے اور آدمی روایتی بچھونا کو غیر فطری طور پر سیمنٹیڈ فرش پر بچھاتا ہے لیکن سردی ہے کہ کم ہونے کا نام ہی نہیں لیتی بلکہ آدمی حیران و پریشان ہوکر غریب بھائی کے پرانے اور روایتی مکان میں پناہ لینے پر مجبور ہوکر پوری بستی میں موضوع بحث بن جاتا ہے۔قارئین کی نظرکالم کا یہ اقتباس نقل کرتا ہوں تاکہ آپ بھی حقیقت حال کا نظارہ کرسکیں؛
’’چند سال پہلے ایک کڑاکے کے جاڑے میں جب ایک سیمنٹڈ مالک مکان کی قلفی جمنے لگی تو اس نے اپنے بیڈ روم کی تزئین کچھ اس طرح سے کی ،فرش پر خالص کشمیری گھاس کی چٹا ئی’’ پتج‘‘ اسکے اوپر دریجیٹ اس کے اوپر دری ، اس کے اوپر مسند ،اس کے اوپر گبہ ،اس کے اوپر نمدہ ،اس کے اوپر میٹرس،میٹرس کے اوپر میٹرس،اس کے اوپر کمبل ،اس کے اوپر بیڈ شیٹ اس کے اوپر آدمی ،آدمی کے اوپر لحاف ،لحاف کے اوپر لحاف،لحاف کے اوپر کمبل ،کمبل کے اوپر کمبل ،کمبل کے اوپر پھرن۔۔۔۔پھر بھی دانت تھے کہ کٹ کٹ بج رہے تھے‘‘…
بحوالہ کالم ’’تہہ بر تہہ‘‘
اس کالم میں خامہ فرسا نے کشمیر کے جغرافیائی محل وقوع کے حوالے سے اس بات کو ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے یہاں س کنکریٹ تعمیرات صحت کے لئے بہتر نہیں ہیں لیکن پھر بھی اگر تعمیر کرنا مجبوری ہے تو یہ مجبوری کی حد تک ہی رہنی چاہئے ۔جنون کی حد تک جب یہ تعمیرات جاتی ہیں تو ڈاکٹروں کے گھر آباد اور آدمیوں کے جوڑ بندو برباد ہو جاتے ہیں۔
’’ہدایت کی طلب‘‘ نامی کالم میں مخلص نے امت مسلمہ کی اس بربادی اور تباہی کا ذکر کیا ہے جس کو قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا ہے؛جب انکی آنکھوں پر پردہ پڑجائے گا ،ان کے کانوں پر پردہ پڑجائے گا ،ان کے دلوں پر پردہ پڑجائے گا، تو اس صورت میں انسان کوئی بھی ہدایت کی بات تسلیم نہیں کرپائے گا۔آجکل کے مسلمان بالخصوص وادیٔ کشمیر کے لوگوں جو جمعہ کے روز مسجدوں کا رخ بڑی تیزی سے کرتے ہیں اور واعظین حضرات گلہ پھاڑ پھاڑ کے عوام تک حق کا پیام پہنچانا چاہتے ہیں لیکن اتنا وعظ بیان کرنے کے با وجود بھی نہ جانے عوام کو ہدایت کیوں نہیں ہوجاتی ہے ۔ان حالات کا خاکہ کھینچ کر قلم کار نے عوام و خواص کے تاثرات کو اپنے کالم میں بیان کیا ہے۔
کالم’’ ذوق مطالعہ‘‘ میں کالم نویس نے ایسے قارئین پر شدید چوٹ اور غم و غصے کا برملا اظہار کیا ہے جو دو روپیہ اخبار بھی خرید کر نہیں پڑھتے بلکہ دوسروں کے پیسے سے خریدے ہوئے اخبار کو پڑھ کر مزہ لے لے کر نیند کے خراٹے لیتے ہیں۔درج ذیل اقتباس سے ساری صورتحال واضح ہوجاتی ہے؛
’’آپ کو بھی یہ تجربہ ضرور ہوا ہوگا کہ ذوق مطالعہ یا بوریت کا مارا کوئی مسافر اخبار یا رسالہ خریدتا ہے۔خریداری کے اس عمل کے ساتھ ہی گاڑی میں سوار بہت سارے تعلیم یافتہ یا نیم تعلیم یافتہ لوگوں کی نظریں اس پر جم جاتی ہیں۔وہ بے قراری سے پہلو بدلنے لگتے ہیں کہ کب وہ صاحب رسالے کو تہہ کرنے کی کوشش کرے اور وہ ہاتھ بڑھا کر اسے اچک لیں‘‘…
بحوالہ۔ذوق مطالعہ ،ص 36
پروائی عبدالرحمٰن مخلص کے کالموں پر مبنی مجموعہ ہے جس میں مختلف شایع شدہ کالم اور مضامین موجود ہیں۔ چند ایسے بھی ہیں جن کا موضوعاتی تنوع فلسفیانہ ہے اور کچھ تحریریں ایسی موجود ہیں جن کے موضوعات سماجی یا تہذیبی ہیں۔’’ ایک مٹھی ریت میں‘‘ نامی کالم میں ہمارے علمائے کرام کی اکثریت کی سوچ پر چوٹ کرتے ہوئے ان علما کو کھری کھری سناتے ہیں جو مذہب کی آڑ میں عام لوگوں کو گمراہ کرکے بنیادی مسایل سے توجہ ہٹاکر معمولی چیزوں پر بحث شروع کرتے ہیں جو کہ قابل بحث بھی نہیں ہوتی ہیں۔
القصہ عبدالرحمن مخلص اردو کالم نگاری کی دنیا میں نام قایم کرچکے ہیں جن کے کالم سنجیدہ ہوتے ہیں لیکن مزاح کی زریں لہریں پوشیدہ سطح پر نظر آتی ہیں۔
(مقالہ نگارگورنمنٹ ڈگری کالج حاجن میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں)
ای میل۔[email protected]
فون نمبر۔8825001337
�������