لندن //دنیا کو مستقبل میں کورونا وائرس جیسی وباؤں سے نمٹنے کے قابل بنانے کے لیے عالمی ادارہ صحت اور 23 ممالک کے سربراہان نے منگل کو ایک بین الاقوامی معاہدہ تشکیل دینے کی تجویز کی حمایت کی ہے۔ ویکسین تک دنیا بھر کے افراد کی رسائی، ادویات کی فراہمی، اور وبا کی بروقت تشخیص کو یقینی بنانے سے متعلق اس معاہدے کی تجویز یورپی یونین کے سربراہان کے چیئرمین چارلس میشل نے گذشتہ سال نومبر میں جی 20 کے ایک اجلاس میں پیش کی تھی۔منگل کو اس معاہدے کی تجویز کو فجی، پرتگال، رومانیہ، برطانیہ، روانڈا، کینیا، فرانس، جرمنی، یونان، کوریا، چلی، کوسٹا ریکا، البانیہ، جنوبی افریقہ، ٹرینیڈاد اور ٹوباگو، نیدرلینڈز، تیونس، سپین، سینیگال، ناروے، سربیا، انڈونیشیا اور یوکرین کے رہنماؤں کی باقاعدہ حمایت حاصل ہو گئی ہے۔ان رہنماؤں نے بڑے اخبارات میں اپنے مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ ’آئندہ بھی دیگر وبائیں اور صحت کے حوالے سے ہنگامی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ کوئی بھی حکومت اس خطرے سے تنہا نہیں نمٹ سکتی۔ایسے معاہدے کا اصل مقصد بہتر الرٹ سسٹم، ڈیٹا شیئرنگ، تحقیق اور ویکسین کی تیاری و فروخت، ادویات کی فراہمی، اور حفاظتی سامان کے ذریعے دنیا کو مستقبل میں کسی بھی وبا سے نمٹنے کے قابل بنانا ہے۔معاہدے میں یہ بھی کہا گیا کہ انسانوں، جانوروں اور اس سیارے کی صحت ایک دوسرے سے جڑی ہے۔ہمیں یقین ہے کہ قوموں اور بین الااقوامی اداروں کے سربراہان کے طور پر یہ ہماری ذمہ داری ہے کہ دنیا کووڈ-19 کی وبا سے سبق حاصل کرے۔ جرمنی کی چانسلر انجیلا میرکل، برطانوی وزیراعظم بورس جانسن اور فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون نے وبائی امراض سے متعلق ایک عالمی معاہدے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔
امریکہ کی 15 فی صد آبادی کی ویکسی نیشن مکمل
نیویارک //تیس کروڑ سے زائد آبادی والے ملک امریکہ کی کل آبادی میں سے 14 کروڑ سے زائد افراد کو کرونا ویکسین لگائی جا چکی ہے جن میں 15 فی صد افراد ویکسین کی دو خوراکیں حاصل کر چکے ہیں۔امریکہ میں صحتِ عامہ کے نگراں ادارے سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول (سی ڈی سی) کے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق امریکہ میں پندرہ اعشاریہ آٹھ فی صد آبادی (5 کروڑ 26 لاکھ 14 ہزار 231 افراد) کا کرونا ویکسی نیشن کورس مکمل ہو گیا ہے یعنی وہ دونوں خوراکیں لے چکے ہیں۔سی ڈی سی کے مطابق جن افراد نے کرونا ویکسین کی ایک خوراک لی ہے ان کی کل تعداد نو کروڑ 50 لاکھ 15 ہزار 762 ہے جو کْل آبادی کا 28 اعشاریہ چھ فی صد بنتا ہے۔ادھر امریکہ کے صدر جو بائیڈن نے پیر کے روز کہا کہ ملک کے تقریباََ 90 فیصد بالغ افراد کو کورونا ویکسین لگانے لے لئے 19 اپریل تک سبھی تیاریاں مکمل کر لی جائیں گی ۔ مسٹر بائیڈن نے ایک پریس کانفرنس میں کہا ‘‘ ملک میں کم سے کم 90 فیصد بالغوں کو کورونا ویکسین لگانے لئے 19 اپریل تک تمام تیاریاں مکمل کر لی جائیں گی ۔ یہ کام تین ہفتوں کے اندر مکمل کر لیا جا ئے گا کیونکہ ہمارے پاس کافی تعداد میں ویکسین دستیاب ہے ۔ بقیہ 10 فیصد بالغ افراد کو بھی ویکسین فراہم کرنے کا عمل یکم مئی سے پہلے مکمل کرلیا جائے گا’’ ۔ امریکہ کے صدر نے کہا کہ لوگوں کو ان کے گھر سے پانچ میل کے فاصلے پر ویکسین سنٹر کی سہولت فراہم کی جائے گی ۔ مسٹر بائیڈن نے امریکہ کے تمام صوبوں اور علاقوں میں عہدیداروں سے عام لوگوں کے لئے ماسک لگانا لازمی قرار دینے کی اپیل کی ہے ۔ انہوں نے کورونا ویکسین پروگرام کے تعلق سے معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ گذشتہ تین دنوں میں امریکہ میں لوگوں کو کورونا ویکسین کی ایک کروڑ خوراکیں دی گئیں ہیں اور اس ہفتے 3.3 کروڑ سے زیادہ خوراکوں کا منصوبہ بنایا گیا ہے ۔
دنیا میں اموات کی تعداد | 27.92 لاکھ سے متجاوز
واشنگٹن //یواین آئی// دنیا میں کورونا وائرس (کووڈ-19) کے انفیکشن کی وجہ سے اموات کی تعداد 27.92 لاکھ کو عبور کر گئی ہے ، جبکہ متاثرہ افراد کی تعداد 12.76 کروڑ سے زیادہ ہوگئی ہے ۔امریکہ کی جان ہاپکنز یونیورسٹی کے سینٹر فار سائنس اینڈ انجینئرنگ (سی ایس ایس ای) کے جاری کردہ اعدادوشمار کے مطابق ، دنیا کے 192 ممالک اور خطوں میں متاثرہ کورونا کی تعداد 12 لاکھ 76 ہزار 549 ہوگئی ہے ، جبکہ اب تک وائرس سے ہونے والی اموات کی تعداد 27 لاکھ 92 ہزار 044 ہو گئی ہے ۔عالمی طاقت سمجھے جانے والے امریکہ میں کورونا وائرس کا قہر بڑھتا جارہا ہے اور یہاں متاثرہ افراد کی تعداد تین کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے ۔ ملک میں متاثرہ کورونا کی تعداد تین کروڑ تین لاکھ 62 ہزار 380 ہوچکی ہے جبکہ 5 لاکھ 49 ہزار 335 مریضوں کی موت ہوچکی ہے ۔دنیا میں ایک کروڑ سے زیادہ کورونا متاثرین کی تعداد والے تین ملکوں میں شامل برازیل دوسرے نمبر پر ہے ۔ یہاں اب تک ایک کروڑ 25 لاکھ 73 ہزار 615 افراد اس وائرس سے متاثر ہوچکے ہیں۔ یہاں تین لاکھ 13 ہزار 866 مریضوں کی موت ہوچکی ہے ۔ہندوستان میں بھی ، کورونا انفیکشن کے معاملات تیزی سے بڑھ رہے ہیں اور یہ دنیا میں تیسرے نمبر پر ہے ۔ کووڈ – 19 سے شدید دوچار امریکہ میں اس وبا سے اب تک 5.49 لاکھ سے زائد افراد ہلا ک ہو چکے ہیں ۔ امریکہ کے نیو یارک ، نیو جرسی اور کیلیفورنیا صوبے کوروناسے سب سے زائد متاثر ہیں ۔ صرف نیو یارک میں کورونا سے 50067 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ نیو جرسی میں اب تک 24404 افراد اس وبا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔ کیلیفورنیا میں اب تک 58988 افراد ہلاک ہوچکے ہیں۔ ٹیکساس میں اس کی وجہ سے 48134 افراد جاں بحق ہوئے ہیں ، جبکہ فلوریڈا میں کووڈ 19 سے 33247 ہلاک ہوئے ہیں ۔ ا یلی نوائے میں 23527 ، مشی گن میں 17056 ، میساچوسیٹس میں 17130 ، اور پنسلوانیا میں کورونا میں 24991افراد ہلاک ہوئے ہیں ۔ واضح رہے کہ ملک میں کورونا ٹیکہ کاری کی مہم بڑے پیمانے پر جاری ہے ۔
جرمنی اور کینیڈامیں | ایسٹرازینیکاویکسین کا استعمال روک دیا گیا
برلن //جرمنی میں ایسٹرازینیکا ویکیسن استعمال کرنے بعد خون جمنے کے کیسز سامنے آنے پر دارالحکومت برلن میں ساٹھ سال سے کم عمر افراد میں ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال روک دیا گیا۔برلن میں جرمن وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ساٹھ سال سے کم عمر افراد میں عارضی طور پر ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال احتیاطاً روک رہے ہیں۔جرمنی میں اب تک ایسٹرازینیکا ویکسین کی 26 لاکھ سے زائد خوراکیں استعمال کی گئی ہیں۔ادھرکینیڈامیں 55 سال سے کم عمر افراد کیلئے ایسٹرازینیکا ویکسین کا استعمال روک دیا گیا ہے۔محکمہ صحت کے حکام کا کہنا ہے کہ ایسٹرازینیکا ویکسین کے عمر اور جنس کو خطرات، افادیت کاجائزہ لیں گے۔حکام کا کہنا ہے کہ 55 سال سے کم عمر افراد میں ایسٹرازینیکا کے فوائد پر صورتحال غیریقینی ہے۔اس سے قبل ناروے میں آسٹرازینیکا ویکسین لگوانے کے بعد خون میں کلاٹس بننے (خون جمنے) کے نئے کیسز سامنے آنے کے بعد نیدرلینڈز نے برطانوی کورونا ویکسین ایسٹرازینیکا کا استعمال عارضی طور پر روک دیا ہے۔ ایسٹرا زینیکا کیاستعمال پرخون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات کے بعد آئرلینڈ نے ویکیسن کا استعمال روک دیا تھا، ڈنمارک، آئس لینڈ اور اٹلی بھی ویکسین کا استعمال عارضی طور پر روک چکے ہیں۔خون کی پھٹکیاں بننے کے واقعات تیس لاکھ میں سے بائیس افراد میں سامنے آئے تھے۔