جنیوا / نئی دہلی // عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس 'کووڈ19'کے مریضوں پر ہائیڈروکسیکلوروکوئن (ایچ سی کیو) ادویہ کے تجربہ پرعارضی طور پر پابندی لگادی ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریسس نے پیر کو بتایا کہ تنظیم کے زیرانتظام 17 ممالک کے چار سو اسپتالوں میں کووڈ 19 کے مریضوں پر شروع کئے گئے ‘سالیڈریٹی ٹرائل’کے ایگزیکٹیو گروپ کی سفارش پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ ممتاز ہیلتھ میگزین ‘لینسیٹ’ میں گزشتہ جمعہ کو شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سالیڈریٹی ٹرائل کے تحت جن مریضوں کو یہ دوا انفرادی طور پر یا مائیکرولائیڈ اینٹی بایوٹک کے ساتھ دی گئی تھی ان میں موت کی شرح زیادہ پائی گئی ہے ۔ رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ایگزیکٹیو گروپ نے اس دوا کے اثرات کا مزید وسیع مطالعہ کرنے اور اس وقت تک اس کا استعمال روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹیڈروس نے بتایا کہ سالیڈرٹی ٹرائل کے تحت 3،500 مریضوں پر چار ادویہ یا ادویہ کے کمبینیشن پر استعمال ہو رہا ہے ۔ صرف ایچ سی کیو ٹسٹ عارضی طور پر روکا گیا ہے ۔ دیگر تین ادویہ یا ادویہ کے کمبینیشن پر استعمال جاری ر ہے گا۔قابل ذکر ہے کہ ملیریا کے علاج میں کام آنے والی دوا ایچ سی کیو کو امریکہ سمیت کئی ممالک نے کووڈ -19 کے علاج میں موثربتایا ہے۔امریکہ نے ہندوستان سے اس کی ایک بڑی کھیپ درآمد بھی کی تھی۔ مرکزی حکومت نے اس ادویہ کی برآمدگی پرعائد پابندی آنا فانا ہٹا کر امریکہ کو ایچ سی کیو دوا دی تھی جس کے لئے اس کو اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید بھی جھیلنی پڑی تھی۔ ٹیڈروس نے بتایا کہ ایگزیکٹو گروپ سالیڈریٹی ٹرائل کے اب تک کے دستیاب ڈیٹا کا اسٹڈی کر کے ایچ سی کیو سے ہونے والے فوائدونقصانات کا تجزیہ کرے گا۔ وہیں، ڈبلیو ایچ او کا ڈیٹا سیکورٹی کی نگرانی بورڈ اس دوا کے تحفظ سے متعلق اعداد و شمار کا مطالعہ کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف کووڈ -19 کے مریضوں پر اس دوا کے استعمال کے حوالہ سے تشویش ہے ،بہرحال،ملیریا کے مریضوں میں یہ دوا عام طور پر محفوظ مانی جاتی ہے ۔
جنیوا / نئی دہلی // عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے کورونا وائرس 'کووڈ19'کے مریضوں پر ہائیڈروکسیکلوروکوئن (ایچ سی کیو) ادویہ کے تجربہ پرعارضی طور پر پابندی لگادی ہے ۔ڈبلیو ایچ او کے ڈائرکٹر جنرل ڈاکٹر ٹیڈروس گیبریسس نے پیر کو بتایا کہ تنظیم کے زیرانتظام 17 ممالک کے چار سو اسپتالوں میں کووڈ 19 کے مریضوں پر شروع کئے گئے ‘سالیڈریٹی ٹرائل’کے ایگزیکٹیو گروپ کی سفارش پر یہ فیصلہ کیا گیا۔ ممتاز ہیلتھ میگزین ‘لینسیٹ’ میں گزشتہ جمعہ کو شائع ایک رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ سالیڈریٹی ٹرائل کے تحت جن مریضوں کو یہ دوا انفرادی طور پر یا مائیکرولائیڈ اینٹی بایوٹک کے ساتھ دی گئی تھی ان میں موت کی شرح زیادہ پائی گئی ہے ۔ رپورٹ کا نوٹس لیتے ہوئے ایگزیکٹیو گروپ نے اس دوا کے اثرات کا مزید وسیع مطالعہ کرنے اور اس وقت تک اس کا استعمال روکنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ ٹیڈروس نے بتایا کہ سالیڈرٹی ٹرائل کے تحت 3،500 مریضوں پر چار ادویہ یا ادویہ کے کمبینیشن پر استعمال ہو رہا ہے ۔ صرف ایچ سی کیو ٹسٹ عارضی طور پر روکا گیا ہے ۔ دیگر تین ادویہ یا ادویہ کے کمبینیشن پر استعمال جاری ر ہے گا۔قابل ذکر ہے کہ ملیریا کے علاج میں کام آنے والی دوا ایچ سی کیو کو امریکہ سمیت کئی ممالک نے کووڈ -19 کے علاج میں موثربتایا ہے۔امریکہ نے ہندوستان سے اس کی ایک بڑی کھیپ درآمد بھی کی تھی۔ مرکزی حکومت نے اس ادویہ کی برآمدگی پرعائد پابندی آنا فانا ہٹا کر امریکہ کو ایچ سی کیو دوا دی تھی جس کے لئے اس کو اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید بھی جھیلنی پڑی تھی۔ ٹیڈروس نے بتایا کہ ایگزیکٹو گروپ سالیڈریٹی ٹرائل کے اب تک کے دستیاب ڈیٹا کا اسٹڈی کر کے ایچ سی کیو سے ہونے والے فوائدونقصانات کا تجزیہ کرے گا۔ وہیں، ڈبلیو ایچ او کا ڈیٹا سیکورٹی کی نگرانی بورڈ اس دوا کے تحفظ سے متعلق اعداد و شمار کا مطالعہ کرے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ صرف کووڈ -19 کے مریضوں پر اس دوا کے استعمال کے حوالہ سے تشویش ہے ،بہرحال،ملیریا کے مریضوں میں یہ دوا عام طور پر محفوظ مانی جاتی ہے ۔