ڈوڈہ//ضلع ڈوڈہ کے دواہم قصبہ جات ڈوڈہ سٹی اور بھدرواہ کے بیشتر صارفین کو محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے فراہم کیا جانے والا پانی استعمال کے قابل نہیں ہے ۔ اس بات کا خلاصہ کرتے ہوئے ضلع ترقیاتی کمشنر نے قریب تین برس قبل جموں میڈیکل کالج کے شعبہ مائیکرو بیالوجی کی طرف سے دی گئی اس رپورٹ کا حوالہ دیا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ ڈوڈہ سٹی میں بیولی فلٹریشن پلانٹ، نگری ٹیپ واٹر اور بھدرواہ کے نوآباد چکہ حوض نیز فلٹریشن پلانٹ بھدرواہ سے سپلائی کئے جانے والا پانی ناقابل استعمال ہے ۔ تاہم فلٹریشن پلانٹ مونچان ڈوڈہ سے فراہم کیا جانے والا پانی ٹسٹ میں کامیاب رہا ہے اور اسے تسلی بخش قرار دیا گیا ہے ۔ ضلع ترقیاتی کمشنر کی طرف سے جاری خط DCD/PA-5/1249-50مورخہ 17.07.2018میں محکمہ پی ایچ ای سے استفسار کیا گیا ہے کہ 2015میں ناقابل استعمال پانی کا خلاصہ ہونے کے بعد محکمہ نے اسے پینے کے قابل بنانے کے لئے کیا اقدامات کئے ہیں؟ .ضلع ترقیاتی کمشنر سمرن دیپ سنگھ نے محکمہ کے حکام سے اس بات کی بھی تفصیل طلب کی گئی ہے کہ اس دوران پی ایچ ای ڈویژن ڈوڈہ اور بھدرواہ میں کون سے افسران تعینات رہے ہیں اور انہوں نے جموں میڈیکل کالج کے ماہرین کی طرف سے کئے گئے اس تشویشناک انکشاف کے بعد کیا قدم اٹھائے تھے؟۔قریب ایک ہفتہ قبل ڈوڈہ کے ڈی سی کا عہدہ سنبھالنے والے اس افسر نے خصوصی ٹیمیں تشکیل دے کر ضلع میں محکمہ پی ایچ ای کی طرف سے سپلائی کئے جارہے پانی کے نمونے اکٹھے کرنے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔