محتشم احتشام
پونچھ// 23 ذیعقدہ، شہادتِ امام علی رضا علیہ السلام کے موقع پر دنیا بھر کی طرح سرحدی ضلع پونچھ میں بھی عقیدت و احترام کے ساتھ مجالسِ عزا کا انعقاد کیا گیا جہاں عزاداروں نے امامِ مظلوم کو پرسہ پیش کرتے ہوئے خراجِ عقیدت پیش کیا۔ ضلع کے مختلف امام بارگاہوں میں منعقدہ مجالس میں علمائے کرام، ذاکرین اور مومنین کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔اس سلسلہ میں مجلسِ عزا امام بارگاہ عالیہ پونچھ میں اتوار کو نمازِ مغربین کے فوراً بعد منعقد ہوئی۔ مجلس کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے کیا گیا، جس کے بعد حدیثِ کساء پڑھی گئی۔ بعد ازاں نعت، منقبت، سلام اور نوحہ خوانی کے ذریعے امام علی رضاؑ کی بارگاہ میں عقیدت کے پھول نچھاور کیے گئے۔ نوحہ خوانی کے دوران فضا سوگوار ہوگئی اور عزاداروں کی آنکھیں اشکبار نظر آئیں۔
مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا ظہیر عباس جعفری نے امام علی رضا علیہ السلام کی حیاتِ مبارکہ، علمی خدمات اور صبر و استقامت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ امام رضاؑ نے ظلم و جبر کے دور میں حق و صداقت کا علم بلند رکھا اور اپنی سیرتِ طیبہ کے ذریعے انسانیت کو صبر، برداشت اور اتحاد کا درس دیا۔ مولانا نے کہا کہ ائمہ اہلِ بیتؑ کی تعلیمات آج بھی انسانیت کے لیے مشعلِ راہ ہیں اور ہمیں ان کی سیرت پر عمل پیرا ہوکر معاشرے میں اخوت و بھائی چارے کو فروغ دینا چاہیے۔اسی سلسلے کی ایک اور مجلسِ عزا امام بارگاہ عالیہ منڈی میں بھی منعقد ہوئی جہاں مجلس کا آغاز تلاوتِ قرآنِ کریم سے ہوا۔ بعد ازاں نعت، منقبت، سلام اور نوحہ خوانی پیش کی گئی۔ مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید عابد حسین جعفری نے امام علی رضا علیہ السلام کی علمی و روحانی عظمت پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ امام رضاؑ نے اپنے کردار اور علم کے ذریعے دینِ اسلام کی حقیقی تصویر دنیا کے سامنے پیش کی۔مجالس کے اختتام پر کشمیری مرثیہ پیش کیا گیا جبکہ عالمِ اسلام، ملک و قوم کے امن، بھائی چارے اور اتحاد کے لیے خصوصی دعا کی گئی۔ دعا و سلام کے ساتھ مجالسِ عزا اختتام پذیر ہوئیں۔