ٹھیکداروں کی رقوم برسوں سے بقایا، محکمہ تعلیم سے فوری مداخلت کا مطالبہ
محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن کے مختلف علاقوں میں متعدد ٹھیکیداروں کی طرف سے محکمہ تعلیم کے سماگرا کے تحت درجنوں سکول عمارتوں کا کام مکمل کرنے کے باوجود ان کی ادائیگیاں مسلسل تعطل کا شکار ہیں اور اس مسلسل کی تاخیر کی وجہ سے ٹھیکداروں/ لیبر سپلائرس کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ضلع رام بن کے سب ڈویژن بانہال ، رامسو ، رام بن اور گول کے متاثرہ ٹھیکیداروں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ انہوں نے سال 2021-22میں مختلف سرکاری سکولوں کی عمارتوں اور دیگر ترقیاتی کاموں کو مکمل کرکے محکمہ تعلیم کے حوالے کیا تھا، تاہم کئی برس گزر جانے کے باوجود ان کی بقایاجات ادا نہیں کی گئی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کام سما شکھشاکے تحت انجام دیے گئے تھے اور متعدد سکولوں کی عمارتیں مکمل کرکے متعلقہ حکام کے سپرد بھی کر دی گئی ہیں، لیکن ادائیگیاں نہ ہونے کے باعث وہ شدید مالی بحران سے دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ متعلقہ ٹھیکیداروں نے تعمیراتی سامان قرض پر حاصل کیا تھا اور اب دکاندار مسلسل رقم کی واپسی کے لیے دباؤ ڈال رہے ہیں۔متاثرہ افراد نے الزام لگایا کہ کئی مرتبہ محکمہ تعلیم کے افسران سے رجوع کرنے کے باوجود مسئلہ حل نہیں ہوا اور حکام کی بار بار کی یقین دہانیوں کے باوجود بقایا رقم واگذار نہیں کی جا رہی، جس کی وجہ سے کنٹریکٹروں کو مالی اور ذہنی پریشانیوں کا سامنا ہے۔ٹھیکیداروں نے بتایا کہ بعض سکولوں کے تعمیراتی منصوبوں کی ادائیگیاں گزشتہ چار برسوں سے زیر التوا ہیں، جن میں گورنمنٹ مڈل سکول نیل رامسو ، اپر پرائمری سکول زنہال بانہال، اپر پرائمری سکول سلبلہ گول ، گورنمنٹ ہائی سکول جواگ ، گورنمنٹ مڈل سکول ساونی رامبن اور دیگر تعلیمی ادارے شامل ہیں۔انہوں نے ضلع انتظامیہ رامںن اور محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ زیر التوا ادائیگیوں کو فوری طور جاری کیا جائے تاکہ اپنا کام انجام دے چکے ٹھیکداروں کو مزید مشکلات سے بچایا جا سکے۔ متاثرین نے خبردار کیا کہ اگر جلد ادائیگیاں نہ کی گئیں تو وہ احتجاج پر مجبور ہوں گے۔