جموں+راجوری+ڈوڈہ//جموں صوبہ میں دوسرے روز بھی سیلابی صورتحال رہی اور ندی نالوں میں طغیانی میں اضافہ ہوا۔پورے صوبہ میں مزید دو افراد کی ہلاکت ہوئی ہے جبکہ بڑی تعداد میں لوگوں کو بازیاب کرایاگیا۔ بارشوں سے بڑے پیمانے پر املاک کو بھی نقصان پہنچاہے۔خطہ پیر پنچال کے اضلاع راجوری اور پونچھ میں ندی نالوں میں زبردست طغیانی رہی اور سیلاب کی صورتحال دیکھی گئی۔اس دوران ایک شخص کی ہلاکت ہوئی جبکہ درجنوں ڈھانچے گر گئے اور درجنوں مویشی بھی ہلاک ہوئے۔دونوں اضلاع میں عوامی املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچاہے۔مہلوک شخص کی شناخت فقیر محمد ولد محمد اسمٰعیل ساکن ترگائیں کوٹرنکہ ضلع راجوری کے طور پر ہوئی ہے۔تحصیل سرنکوٹ کے بالائی علاقے میں واقع ڈھوک میں ایک درخت گرنے کی زد میں آکر موقعہ پر ہی لقمہ اجل بن گیا۔انہوں نے بتایاکہ ضلع بھر میں بیس کے قریب رہائشی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا جبکہ کئی مویشی بھی مارے گئے ہیں۔ ضلع کشتواڑ کی پہاڑی تحصیل بونجواہ میں عوامی زندگی بری طرح مفلوج ہو گئی وہیں ایک نوجوان ہلاک ہوا۔کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے علاقہ کے سماجی کارکن الطاف حسین کین نے کہا کہ پچھلے دو روز سے جاری بارشوں کی وجہ سے بونجواہ میں پانی، بجلی نظام ٹھپ ہوا ہے جبکہ پی ایم جی ایس وائی کی زیر نگرانی سڑکیں خستہ حال ہوئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کالنء دریا پر بڈدھار کنو کے مقام پر ایک شخص محمد یعقوب ولد نیک محمد ساکن کنو کیتھر دریا عبور کرتے ہوئے بہہ گیا تاہم آخری اطلاع ملنے تک اس کی نعش بازیاب نہیں ہو سکی۔یہ شہری لکڑیاں لانے کیلئے جنگل کی طرف گیاتھا جو نالے میں بہہ گیا۔ضلع جموں میں چھنی راما و دیگر علاقوں میں متعدد رہائشی مکانات کوجزوی طور پر نقصان پہنچا جبکہ کئی دیواریں گرگئیں۔ محکمہ آبپاشی اور انسدادسیلاب کے چیف انجینئر ، ہمیش منچندا نے کشمیرعظمیٰ کو بتایا’’دریائے توی کی الرٹ کی سطح 14 فٹ ہے تاہم شام سات بجے تک یہ سطح 9 فٹ پر تھی جودوپہر کے وقت 11 فٹ پر تھی، توی میں پانی کی سطح مسلسل کم ہورہی ہے۔دریائے چناب کے حوالے سے چیف انجینئر نے کہا کہ چناب میں الرٹ کی سطح 32 فٹ اورخطرے کی سطح 35 فٹ ہے، اور ہر آدھے گھنٹے کے بعد پانی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔راجوری اور پونچھ اضلاع میں کئی افراد کو ندی نالوں سے نکالاگیا۔تھنہ منڈی کے بہروٹ علاقے میںنالہ میں تین نوجوان پھنس گئے تھے جن کو بحفاظت نکال لیاگیا۔اس سے قبل راجدھانی تھنہ منڈی سے بھی تین افراد کو بچایا گیا جبکہ پوٹھہ نوشہرہ میں ندی میں پھنسے ایک اور شخص کو فوج کے ہیلی کاپٹر نے بچالیا۔ضلع پونچھ میں چودہ افراد دریامیں پھنس گئے تھے جن میں سے آٹھ کو بازیاب کرا لیا گیا جبکہ دیگران کو بچانے کیلئے آپریشن جاری تھا۔پونچھ کے جھلاس سلوتری علاقے میں بھی چار افراد پھنسے ہوئے ہیں جن کو بچانے کیلئے اقدامات کئے جارہے ہیں۔سب ڈیویڑن مینڈھر میں ہرنی کے مقام پر ا?ٹھ افراد کو بازیاب کروایاگیا۔ ہندوستانی فضائیہ کی مدد سے ضلع کٹھوعہ میں امدادی کارروائی کا آغاز کیا گیاجس دوران خانہ بدوشوں کے متعدد افراد کو بچالیاگیا۔یہ کارروائی دریائے اوجھ میں پھنسے افراد کو بچانے کیلئے کی گئی ۔ 35خانہ بدوش سیلاب کے ندی میں پھنسے ہوئے تھے اوران میں سے 15 کو پہلے ہی بچایا گیا تھاجبکہ بارہ کو بعد میں نکالاگیااور اب سات افرا دکو ہیلی کاپٹر کی مدد سے بحفاظت نکال لیاگیا۔ ضلع میں طوفانی بارشوں کے نتیجے میں کم از کم چار رہائشی مکانات کوجزوی طور پر نقصان پہنچا اور فصل بھی تباہ ہوئی۔محکمہ بجلی کے چیف انجینئر گرمیت سنگھ نے بتایا’’بارش کے دوران آسمانی برق گرنے اور شارٹ سرکٹ کی وجہ سے 70 ٹرانسفارمروں کو نقصان پہنچا ہے، اکھنور میں 11کھمبے گر گئے ‘‘۔ ضلع رام بن میںدریائے چناب ، نالہ بشلڑی ، ڈولیگام ، چنجلو ، مہو ، نیل اور پوگل اور گول وغیرہ کے نالوں میں پانی کی سطح بڑھ گئی ہے۔بانہال کے نیل علاقے میں محمد یاسین پڈھار ولد حبیب اللہ پڈھار ساکنہ چدوس نیل کا رہائشی مکان شدید بارشوں کی وجہ سے گر گیا ۔ چملواس کے مقام پر ایک ٹھیکیدار کی طرف سے نالیاں بلاک کرنے اور ملبہ ڈالنے کی وجہ سے پانی جمع ہوا اور ایک مسجد کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔