ہم نے دیکھا کہ فقط 65 روپے کے فرق کی خاطرتقریباً چار ماہ تک بازاروں سے گوشت غائب رہا۔ محکمے نے گوشت کے بیوپاریوں کے ساتھ بات چیت کا طویل سلسلہ جاری رکھا، دونوں طرف سے ہٹ دھرمی کا مظاہرہ ہوا اور بالاخر فی کلو گوشت کی قیمت 535 روپے طے ہوئی۔ محکمہ امور صارفین کی طرف سے گوشت کی فروخت میں ناجائز منافع خوری کا قلع قمع کرنے کے لئے اْٹھایا جانے والا یہ قدم قابل تعریف تو ہے، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا کشمیر میں صرف گوشت کی ناجائز منافع خوری ہورہی ہے۔
محکمہ امورِ صارفین کے نام پر فوڈ اینڈ سپلائز ڈیپارٹمنٹ سالہاسال سے سرگرم ہے۔ اُس میں بھی ملاوٹ کا منڈیٹ آدھا ڈرگ اینڈفوڈ اور آدھا میونسپل کارپوریشن کے پاس ہے۔ لے دے کر امورِ صارفین کی دیکھ ریکھ روٹیوں کے وزن ، گوشت کی فی کلو قیمت، سبزیوں اور مرغ کے نرخ تک محدود ہوکر رہ گئی ہے۔ لیفٹنٹ گورنر منوج سنہا اور اُن کی مشاورتی کونسل کو فوراً قانون میں ترمیم کرکے امورِ صارفین کا ایک آزاد اور سرگرم ڈائریکٹوریٹ قائم کرکے غریب عوام کی دیرینہ خواہش کو پورا کرنا چاہئے۔
گوشت کے معاملے پر محکمہ امورِ صارفین بھلے ہی گزشتہ کئی ہفتوں سے سرخیوں میں رہا ہولیکن ضروری اشیاء کے نرخ قابو کرنے کے نام پر محکمہ خوراک و رسدات کیا کچھ کررہا ہے، اس کے لئے تفصیلی تجزیہ کی ضرورت ہے۔
نانوائیوں کا مسئلہ لے لیجئے۔ تنور میں جلانے والی لکڑی فی کوئنٹل 850روپے ہے، جبکہ آٹا فی کوئنٹل 1800روپے ہے۔ میرا ذاتی مشاہدہ ہے کہ ایک سو روٹیاں بنانے کے لئے ساڑھے پانچ کلو آٹا درکار ہے جسکی قیمت 99 روپے ہے اور اسی تعداد کے لئے لکڑی پر دو سو روپے کا خرچہ ہے۔ کم ازکم چار افراد کی محنت بھی شامل ہوتی ہے۔ مطلب ایک نانوائی ایک سو روٹیاں فروخت کرکے صرف دو سو روپے منافع کماتا ہے۔ اگر کوئی نانوائی تین سو روٹیاں بھی فروخت کرتے تو کم از کم چار افراد کی یومیہ کمائی صرف 600 روپے ہے۔ محکمہ نے 55گرام روٹی کا وزن اور پانچ روپے قیمت مقرر کرکے اپنی طرف سے بہت بڑا تیر مارا ہے، لیکن یہ ایک پسماندہ طبقے کے ساتھ ظلم ِ عظیم ہے۔ ایک یومیہ مزدور صبح نوبجے سے صرف پانچ بجے تک کے کام کا600روپے لیتا ہے جبکہ کنبے کے چار افراد چوبیس گھنٹے محنت کا فی کس صرف 200 روپے کماتے ہیں۔
اس طرح روٹیوں کے نرخ کی روایت تو برقرار رہی، لیکن روٹیوں کی کوالٹی اور معیار کو کون دیکھے گا؟ نانوائی فاقہ کشی تو نہیں کرے گا، اُسے پیٹ بھی پالنا ہے۔ جب آپ نے پچپن گرام کی روٹی کی قیمت پانچ روپے لگا دی ہے تو اُسے بیکنگ سوڈا کے استعمال سے روٹیوں کے وزن میں اضافہ کرنا ہوگا۔ اصل میں محکمے کا فوکس نرخ ہے معیار نہیں۔ چِپس کے بیس روپے والے لفافے کا وزن 60گرام ہوتا ہے، اور جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے ایک آلو کے چوتھے حصے کے چھلکے مشین میں فرائی کرکے اُس میں ہوتے ہیں، لیکن محکمے نے کبھی خیال نہ کیا کہ پچپن گرام کی روٹی جو صحت بخش بھی ہے، صرف پانچ روپے میں بیچنی ہے اور چِپس کا لفافہ ، جو مضر صحت بھی ہے، بیس روپے میں کیسے بکتا ہے؟ اسی ادراک سے دوسرے امور میں بھی محکمے نے خود کو ایک مذاق بنا کے رکھ دیا ہے۔
گوشت کے معاملے میں تو محکمہ دہائیوں سے لکا چھپی کا کھیل کھیلتا رہا ہے،اور خود محکمہ کے موجودہ ڈائریکٹر بشیر احمد خان نے حالیہ دنوں دوردرشن کے حالات حاضرہ پروگرام میں میرے ساتھ ایک انٹرویو میںاعتراف کیا تھا کہ گوشت کی قیمت طے کرنے میں محکمہ ابھی تک ناکام ہے۔ گوشت کا بھی ذرا تفصیلی تجزیہ کریں۔
کوٹھدار جب باہر سے مال لاتا ہے، تو وہ تین اقسام کے بھیڑ خرید تا ہے، درجہ اول، درجہ دوم اور درجہ سوم۔ موجودہ صورتحال یہ ہے کہ راجستھان ، دہلی اور پنجاب کی سبھی منڈیا ں لاک ڈائون کی وجہ سے بند ہیں۔ مطلب آج کل اضافی قیمت پر مال خریدنا پڑتا ہے۔ اسی طرح پچھلے چند سال سے جانوروں کے حقوق کے لئے سرگرم لابی نے بھیڑوں کی خریدوفروخت کو ازحد مشکل بنادیا ہے۔ کوٹھداروں کو ہر جگہ پیسہ خرچ کرنا پڑتا ہے۔ مثلاً فی الوقت کوٹھدار کو کم ازکم 350 روپے فی کلو کے حساب سے بھیڑ خریدنا پڑتے ہیں۔ اُس کے بعد ناکہ بندیوں سے نمٹنے کے لئے رشوت کا پیسہ، ٹرانسپورٹ ، مزدوری وغیرہ۔ مطلب کوٹھدار کو سرینگر پہنچا کر کم ازکم 450 روپے فی کلو خرچ کرنا پڑتا ہے۔ پھر قصائی کو کس حساب سے فروخت کرے گا۔ اب اس کا علاج یہ نکالاگیا کہ کوٹھدار درجہ بندی کرتا ہے۔ بہت نچلے درجے کا مال کم نرخ جبکہ درمیانہ درجہ کا مال زیادہ نرخ پر بکتا ہے۔ مطلب اگر کوئی قصائی کم از کم دس بھیڑ خریدے گا تو اُسے 450روپے فی کلوملتا ہے لیکن جو ایک یا دو بھیڑ خریدتا ہے اُسے پانچ سو روپے فی کلو ملتا ہے۔ خود فیصلہ کریں کہ قصائی کس نرخ پر گوشت فروخت کرے گا؟مطلب اگر درجہ اول مال خریدنے والا قصائی دن میں تین بھیڑ فروخت کرتا ہے تو اُسے 1500روپے کا منافع حاصل ہوسکتا ہے، جس میں سے دکان کا کرایہ، بجلی فیس، مزدوری، ٹرانسپورٹ وغیرہ بھی نکالنا۔ ظاہر ہے ہزار بارہ سو روپے کی یومیہ آمدنی کے لئے قصائی کو محکمہ امورِ صارفین کے چیکنگ سکارڈ کا کھٹکا بھی ہے، اور کوئی کوئی انسپکٹر مفت گوشت یا نقدی بھی اُڑا لیتا ہے۔ کیا یہی ریٹ کنٹرول ہے؟ محض نرخ طے کرنا محکمے کے ذمے نہیں ہے، اشیائے خوردنی کا معیار بھی قائم رکھنا اس کی ذمہ داری ہے۔
جہاں تک مرغ کا تعلق ہے۔ دوطرح کے برائلر مرغ ہیں۔ ایک کشمیری فارم کا دوسرا بیرون کشمیر فارم کا۔ تیسری قسم لئیر کی ہے۔ مرغ کی قیمت کا دارومدار پیداوار اور ڈیمانڈ پر ہے۔ لیکن محکمہ کاغذ کے ٹکڑے پر 135روپے فی کلو چھپوا کر اپنی ذمہ داری سے فارغ ہوجاتا ہے۔ لیکن کیا یہ نرخ چلتا ہے۔ کیا محکمہ نے کبھی پروڈکشن اور مارکیٹ ریسرچ کیا ہے اور کبھی غور کیا ہے کہ روٹی، گوشت مرغ وغیرہ میں وہ نرخ اور معیار کس طرح مستحکم کرسکے۔ اب گاہک خود طے کرتا ہے کہ اُسے کون سی چیز کس معیار کی اور کس قیمت میں لینی ہے۔
موٹی موٹی تنخواہوں پر کام کرنے والے افسر جونیئر افسروں کی فوج لئے بیٹھے ہیں اور فائلوں میں کاغذات کے انبار لگا رہے ہیں لیکن زمینی صورتحال یہ ہے کہ غریب لوگ پریشان ہیں۔ نانوائی، قصائی ، مرغ فروش الگ پریشان ہے، اور عوام کو لگتا ہے کہ اُنہیں لوٹا جارہا ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ اشیائے خوردنی کا معیار قائم نہیں رہا۔ نانوائی بھی بیکنگ سوڈا ملاتا ہے، قصائی نچلے درجے کا گوشت 600 روپے فی کلو فروخت کرتا ہے اور مرغ فروش بھی من مانی کرنے پر مجبور ہے۔
سبزی کو ہی لیجئے۔ ہر بار نرخ نامے چھپتے ہیں۔ کہیں کچھ نہیں ہوتا۔ نہ عمل نہ نفاذ۔ پیاز فی کلو تیس روپے سرکاری طور مقرر ہے، لیکن گاہک کو بیس روپے بھی ملتا ہے۔ کشمیری کدو کا سیزن شروع ہو تو ایک کدو80روپے بکتا ہے۔ اُس وقت وہ نرخ نامہ کدھر جاتا ہے؟
اب مسئلہ یہ ہے کہ کیا محکمہ امور صارفین صرف گوشت ، مرغ ، روٹی اور سبزی کے لئے ہے۔ بازار میں بے شمار اشیاء بکتی ہیں۔ اگر محکمہ خوراک صرف خوراک کا نرخ طے کرنے کا مجاز ہے تو باقی اشیائے ضروریہ کا نرخ اور معیار کون دیکھے گا؟ وہ محکمہ کہاں ہے۔ بازار میں جوتا 2000 روپے میں بکتا ہے، ایک قمیض 700میں بکتی ہے اور اسی طرح کاٹن سوٹ ہزار روپے میں بکتا ہے۔ کون طے کرے گا کہ کیا نرخ ہونا چاہیے۔ اسی طرح گفٹ آئٹم، مبارکبادی کے کارڈ، نکاح نامے، بجلی کا سامان، کاسمیٹکس وغیرہ۔ گاہکوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹا جارہا ہے۔
میں اس کالم کے ذریعہ لیفٹنٹ گورنرمنوج سنہا اور اُن کی مشاورتی کونسل کو تجویز دیتا ہوں کہ قوانین میں مناسب ترمیم کرکے جموں اور کشمیر میں الگ الگ دو کنزیومر ڈائریکٹوریٹ قائم کریں، اور اُن کے منڈیٹ میں نہ صرف غذائی اجناس، روزانہ خوراک، ادویات بلکہ سبھی ضروری اشیا ء کا ریٹ کنڑول اور کوالٹی کنٹرول بھی شامل کیا جائے کیونکہ نرخ قائم کرکے افسر اپنے سر سے بلا تو ٹال دیتا ہے، لیکن بیوپاری من مانی بھی کرتا ہے اور ملاوٹ بھی کرتا ہے، اور گاہک بھی یقین کرتا ہے کہ محکمے نے بغیرسوچے سمجھے نرخ طے کیا ہے۔ ایک تو ہم مہنگے داموں چیز خرید رہے ہیں اور ہمیں معلوم ہی نہیں کہ چیز کا معیار بہتر ہے کہ گھٹیا۔ موجودہ محکمہ خوراک و رسدات کو صرف چاول کی تقسیم تک محدود کیا جائے، اسی طرح ڈرگ کنڑول کو ادویات تک محدود کیا جائے، جبکہ میونسپلٹی کو صفائی تک۔ ایک نیا اور بااختیار محکمہ وجودمیں آئے جو نہ صرف نرخ کو کنٹرول کرے بلکہ کوالٹی بھی کنٹرول کرے۔
مسئلہ صرف گوشت کا نہیں ہے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ نیا نرخ نامہ چلتا ہے یا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ صارفین کے حقوق صرف گوشت کھانے تک محدود کیوں ہیں۔
(کالم نگار معروف سماجی کارکن ہیں)
رابطہ۔ 9469679449
ای میل۔[email protected]