اشرف چراغ+مشتاق الاسلام
سرینگر +کپوارہ+پلوامہ//وادی کے کئی علاقوں مین پیشگوئی کے عین مطابق جمعہ شام کے بعد تیز آندھی چلی، جس کے دوران شہر سرینگر، خانصاب بڈگام، گاندربل،بجبہاڑہ، پہلگام،بارہمولہ کے آس پاس اور ہندوارہ میں بارش ہوئی اور کچھ جگہوں پر ژالہ بھی ہوئی۔ڈائریکٹر موسمیات ڈاکٹر مختار احمد نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ مغربی ڈسٹربنس کی آمد کے سلسلے میں پہلے ہی پیشگوئی کی گئی تھی اور اسی کے مطابق ہندوارہ میں ژالہ باری اور بارشیں،زکورہ، گاندربل اولڈ ڈائون ٹائون کے علاوہ ڈلگیٹ اور شہر کے دیگر علاقوں میں 50کلو میٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے تیز آندھی چلی۔ انہوں نے کہا کہ آندھی کا زیادہ زور شہر کے سیول لائنز اور پائین شہر میں زیادہ رہا جبکہ زکورہ اور گاندربل میں بارش بھی ہوئی۔ انہوں نے کہا کہ خانصاحب بڈگام، بارہمولہ، ہندوارہ اور پہلگام کے علاوہ بجبہاڑہ میں بارشیں ہوئیں۔انکا مزید کہنا تھا کہ سنیچر کو بھی تیز ہوائیں چلنے کا احتمال ہے لیکن انکی شدت زیادہ نہیں ہوگی۔
ہندوارہ
کپوارہ ضلع میں گزشتہ کئی روز سے موسم دگر گوں ہے۔ ضلع کے راجواڑ علاقہ میں جمعہ کے روز قہر انگیز ژالہ باری نے بھاری پیمانے پر تباہی مچا دی ۔غیر متوقع بارشیں اور ژالہ باری کی وجہ سے فصلو ں کو شدید نقصان پہنچا جبکہ میوہ باغات میں تباہی مچ گئی ۔علاقہ کے بہنی پورہ ،راجپورہ ،آہگام ،زچلڈار ،ووڈر ،وڈی پورہ ،کرمبہورہ ،کھئی پورہ اور دیگر علاقوں میں جمعہ کے روز بعد دوپہر بارشوں کا سلسلہ شروع ہوا جس کے دوران ان علاقوں میں قہر انگیز ژالہ باری ہوئی۔کچھ دیر تک جاری رہنے والی ژالہ باری کے نتیجے میں کھڑی فصلو ں ،سبزیو ں اور میوہ باغات کو شدید نقصان پہنچا ۔اس سے قبل لولاب اور کرالہ پورہ ترہگام کے درجنو ں علاقوں میں قہر انگیز ژالہ باری نے تباہی مچا دی تھی ۔
پلوامہ
گزشتہ روز ضلع پلوامہ کے مختلف علاقوں میں ہونے والی شدید ژالہ باری اور خراب موسمی صورتحال کے نتیجے میں ضلع کے 41 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔ محکمہ باغبانی پلوامہ کی جانب سے جاری کردہ ابتدائی جائزہ رپورٹ کے مطابق متعدد علاقوں میں سیب کے باغات کو مختلف سطح پر نقصان پہنچا ہے، جبکہ پانپور زون کے بعض دیہات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔چیف ہارٹیکلچر آفیسر پلوامہ، ریاض احمد شاہ نے بتایا کہ محکمہ کی ٹیموں نے متاثرہ علاقوں کا ہنگامی دورہ کرکے باغات میں ہونے والے نقصان کا تفصیلی جائزہ لیا اور کاشتکاروں کے لیے ضروری ایڈوائزری بھی جاری کی گئی۔رپورٹ کے مطابق پانپور زون کے شارشالی، منڈکپال، لدھو، کھریو، منپورہ، ایم سی پانپور اور اندروسہ علاقے متاثر ہوئے ہیں۔ شرشالی میں 50 سے 55 فیصد، منڈکپال میں 30 سے 35 فیصد، لدھو میں 45 سے 50 فیصد اور کھریو میں 35 سے 40 فیصد نقصان ریکارڈ کیا گیا، جو ضلع کے سب سے زیادہ متاثرہ علاقے قرار دیے گئے ہیں۔کاکاپورہ زون کے بڑی باغ، گنڈی پورہ، اورباغ، ناروہ، باغ ترچھ، پنگلینہ، ترچھ، رکھ لاجورہ، لاجورہ، کریوا لاجورہ، رتنی پورہ اور پوچھل میں بھی مختلف پیمانے پر نقصان درج کیا گیا ہے۔اسی طرح ترال زون کے گلشن پورہ، سیر، سید آباد، واگڈ، ڈارم گنڈ، آری پل، ہنڑورہ، لرگام، لرو، کھان گنڈ اور صوفی گنڈ میں 10 سے 40 فیصد تک نقصان کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔پلوامہ زون کے چنار باغ، واگم، ارچرسو، مندونہ، سنزوترو، تلنگام اور قوئل میں 2 سے 10 فیصد تک جبکہ نیوہ زون کے ملواری، ہکری پورہ، سنگو ناربل، نیوہ، ایندر، شبدنی، اگرگنڈ اور حسن ونی میں 3 سے 20 فیصد تک سیب کے باغات متاثر ہوئے ہیں۔چیف ہارٹیکلچر آفیسر نے متاثرہ کاشتکاروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ باغات میں تجویز کردہ حفاظتی اسپرے اور دیگر ضروری انتظامی اقدامات بروقت انجام دیں تاکہ مزید نقصان سے بچا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آغاز سے ہی ناسازگار موسمی حالات نے ضلع پلوامہ میں باغبانی کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔دریں اثنا، شالہ ٹکن کے رہائشی طارق عزیز ڈار نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ باغبانی شعبے کو موسمی آفات سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے کراپ انشورنس اسکیم متعارف کرائی جائے تاکہ قدرتی آفات سے متاثر ہونے والے کاشتکاروں کو مالی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔