عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ الطاف بخاری نے شہر خاص میں رہنے والے لوگوں کیلئے جامع اقتصادی اور رہائشی پیکیج کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ تاریخی شہر کئی دہائیوں سے سرکاری عدم توجہی کا شکار رہا ہے، جس کے باعث یہاں کے باشندے شدید معاشی مشکلات اور رہائش کے سنگین بحران سے دوچار ہیں۔اپنے بیان میں الطاف بخاری نے کہاکہ شہر خاص میں شدید غربت نمایاں طور پر دیکھی جا سکتی ہے۔ بہت سے لوگ ناکافی اور غیر معیاری رہائش گاہوں میں زندگی گزار رہے ہیں، جبکہ گنجان آبادی ایک عام حقیقت بن چکی ہے۔ متعدد مقامات پر دو بلکہ تین تین کںبے ایک ہی مکان میں رہنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مزید کہاکہ بدقسمتی سے موجودہ ریزرویشن نظام بھی شہر کے باشندوں کے حق میں نہیں ہے کیونکہ شہر کے باشندگان ریزویشن کے کسی زمرے میں شامل نہیں، ماسوائے معاشی طور پر کمزور طبقہ (EWS) کے۔ اس زمرے کے لیے مختص کوٹہ بھی 10 فیصد سے کم کر کے صرف 3 فیصد کر دیا گیا ہے۔
اس کے نتیجے میں بہت سے نوجوانوں کو اپنا مستقبل تاریک دکھائی دیتا ہے۔اپنی پارٹی کے صدر نے کہا کہ بے روزگاری، محدود معاشی مواقع اور مناسب رہائش کی کمی نے کئی سماجی مسائل کو بھی جنم دیا ہے۔ انہوں نے کہا’’شادیوں میں تاخیر یا بعض صورتوں میں شادی نہ کرنے کے فیصلے کی بڑی وجوہات بے روزگاری، معاشی مواقع کی کمی اور مناسب رہائش کا فقدان ہیں۔ ان مسائل نے بالخصوص نوجوانوں میں گہرے سماجی اور معاشی خدشات پیدا کر دیے ہیں‘‘۔انہوں نے مزید کہاکہ شہر خاص سرینگر کی روح ہے اور اسے اس کی موجودہ خستہ حالت میں نہیں چھوڑا جاسکتا۔ یہاں کے باشندے بہتر معیارِ زندگی، معیاری تعلیم، مناسب رہائش اور پائیدار روزگار کے مواقع کے حق دار ہیں۔انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ شہر کو موجودہ بے توجہی اور زوال کی کیفیت سے نکالنے کیلئے فوری اور ٹھوس اقدامات کرے۔ انہوں نے کہاکہ حکومت کو چاہئے کہ وہ اس معاملے کو مرکزی حکومت کے سامنے اٹھائے اور شہر کے باشندوں کے لیے خصوصی اقتصادی اور رہائشی پیکیج حاصل کرے۔ اس مسئلے کو اس سنجیدگی کے ساتھ لینا حکومت کی ذمہ داری ہے جس کا یہ متقاضی ہے۔انہوں نے مزید کہا، شہر کو نہ صرف خصوصی اقتصادی اور رہائشی پیکیج کی ضرورت ہے بلکہ جدید عوامی بنیادی ڈھانچے کی بھی اشد ضرورت ہے۔ حال ہی میں صرف ایک گھنٹے کی بارش نے سرینگر کے ڈان ٹان کے کئی علاقوں کو زیرِ آب کر دیا، جبکہ پانی جمع ہونے کے باعث کئی گھنٹوں تک معمولاتِ زندگی متاثر رہے۔ یہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ شہر کا نکاسی آب کا نظام ناکافی ہے اور اسے فوری طور پر بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ حکومت کو شہر کے بنیادی ڈھانچے، بالخصوص نکاسی آب، سڑکوں اور گلی کوچوں کی تعمیر و مرمت کی جانب سنجیدگی سے توجہ دینی چاہیے۔