سمبل میں بجلی کی عدم دستیابی
تاجروںکی احتجاجی ہڑتال سے تجارتی سرگرمیاں ٹھپ
سوناواری//ارشاد احمد/سمبل سوناواری میں بجلی کی عدم دستیابی پر تجارتی مراکز بند رہے اور مکمل ہڑتال کی گئی۔ بجلی کی عدم دستیابی پرلوگوں اور تجارت پیشہ افراد نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ محکمہ بجلی کی ناقص کارکردگی اور بے ترتیب بجلی سپلائی سے تنگ آکر سمبل میں دوکانیں بند کرکے تجارتی سرگرمیاں معطل کرنے پر مجبور ہوگئے اور محکمہ بجلی کے خلاف احتجاجاً ہڑتال کی۔مقامی دوکاندار بشیر احمد نے اس کہا کہ سمبل سوناواری سے ملحقہ علاقہ مرکنڈل میں موجود ریسویئنگ اسٹیشن میں کئی ماہ قبل دو مین ٹرانسفارمر منظور کردیئے گئے ہیں جن کو نصب کرنے میں محکمہ بجلی کے اعلیٰ حکام لیت و لعل سے کام لے رہا ہے جس کا خمیازہ تجارت پیشہ افراد اور درجنوں علاقوں میں رہائش پذیر ہزاروں نفوس کی آبادی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔مذکورہ دکاندار نے کہاکہ شیڈول کے مطابق جیسے ہی کسی علاقہ کو برقی رو بحال ہوتی ہے تو اس کے دس منٹ کے بعد ہی بجلی سپلائی منقطع ہوجاتی ہے اور پھر گھنٹوں غائب ہوجاتی ہے۔بے ترتیب بجلی سپلائی کی شکایت جب محکمہ کے اعلیٰ افسران سے کرتے ہیں تو وہ ریسویئنگ اسٹیشن میں نصب ٹرانسفارمر اوور لوڈ ہونے کا رونا روتے ہیں۔ سب ڈویژنل مجسٹریٹ سمبل، تحصیلدار سمبل اور ایس ڈی پی او سمبل سوناواری نے تاجروں کو یقین دہانی کرائی کہ ایک ماہ کے اندر اندر منظور شدہ ٹرانسفارمر ریسویئنگ اسٹیشن میں نصب کردیئے جائیں گے جس کے بعد ہڑتال موخر کردی گئی۔
آڈہ پتھری ماحچھہامہ برقی رو سے محروم
ہلشری کر کے کھڑا کئے گئے کھمبے ترسیلی لائنوں کے منتظر
سید اعجاز
ترال//ماحچھہامہ میں بجلی سپلائی کی عدم دستیابی کی وجہ سے مقامی آبادی کو سخت پریشانیوں کاسامنا کرنا پڑرہاہے۔ مقامی آبادی کاکہنا ہے کہ دو سال قبل علاقے میںپہنچائے گئے کھمبے لوگوں نے ہلشری کر کے نصب کئے تاہم ترسیلی لائنوںکی عدم فراہمی سے بجلی سپلائی ناممکن ہونے سے علاقہ گھپ اندھیرے میں ڈوباہوا ہے۔ 3محلوں پر مشتمل آڈہ پتھری گوجربستی ماحچھہامہ کے رہائش پذیر لوگوں کاکہنا ہے کہ محکمہ بجلی نے دو سال قبل علاقے میں کھمبے پہنچائے گئے تاہم نا معلوم وجوہات کی بناء پر انہیں نصب نہیں کیا گیا ہے جس کے باعث لوگ دو سال سے علاقے میں پریشانیوں کا سامنا کر رہے ہیں ۔مقامی لوگوں کاکہنا ہے کہ رواں موسم کے دوران انہیں بجلی سپلائی کے حوالے سے مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے ۔انہوں کئی بار حکام کے تحریری مطلع بھی کیا ہے تاہم تاحال کوئی بھی قدم نہیں اٹھا یا گیا ۔لوگوں کاکہنا ہے کہ مقامی طور پر فنڈ جمع کر کے ہلشری کے تحت بلڈوزر کی مدد سے پوری بستی میں پول لگائے گئے تاہم اس کے باجود بھی تاحال نا معلوم وجوہات کی بناء پر ترسیلی لائنیں فراہم نہیں کی گئی۔ اس حوالے سے ایگزیکٹو انجینئر اونتی پورہ الطاف احمد سے نے کہا ’’کہ انہیں اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں ہے اوراس معاملے کو وہ دیکھ لیں گے ۔‘‘
ڈوروکے صارفین محکمہ بجلی سے برہم
ایک سال سے بجلی بلیں فراہم نہ کرنے کا الزام
عارف بلوچ
اننت ناگ//ڈورو میں محکمہ بجلی صارفین کو ایک سال سے بلیں ارسال نہیں کر رہا ہے جس پر صارفین محکمہ کے تئیں ناراضگی پائی جارہی ہے۔محکمہ نے گذشتہ سال اپریل کے مہینے سے قصبہ میں ترسیلی نظام کو تبدیل کیا ۔نئے نظام کے ساتھ ہی صارفین کے میٹر بھی تبدیل کئے گئے لیکن نئے سسٹم کے ساتھ ہی بجلی محکمہ صارفین کو ماہانہ بجلی بلیں ارسال کرنے میں ناکام ثابت ہوگیا اور 11ماہ گزر نے کے بعد بھی صارفین بجلی بلوں سے محروم ہے جس کے باعث ہر صارف پر ہزاروں روپیہ کا بوجھ بڑھ گیا ہے ۔محمد اسحاق نامی صارف نے کشمیر عظمٰی کو بتایا کہ وہ باقاعدہ ہر ماہ بجلی بل جمع کرتا تھا تاہم اب11مہینے گذر گئے بجلی بلیں نہیں موصول ہورہی ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ پیشہ سے مزدور ہیں اور ہزاروں روپئے اکھٹے جمع کرنا اُن کے لئے ناممکن ہے ۔ایک اور صارف نے کہا کہ ایک سال کا بجلی بل ایک ساتھ ادا کرنا صارفین کے لئے باعث عذاب ہے ۔صارفین نے چیف انجینئر سے مداخلت کی اپیل کی ہے ۔اسسٹنٹ ایگزیکٹیو آفیسر پی ڈی ڈی فیاض احمد کا کہنا ہے قصبہ میں کیبل بچھانے کا ٹھیکہ نجی کمپنی کو ملا ہے اور کمپنی صارفین کا ڈاٹا محکمہ میں اب تک جمع کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے جس کے باعث بلیں نہیں بن پارہی ہیں ۔