سید امجد شاہ
جموں//جموں یونیورسٹی کے شعبہ نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر ڈاکٹر چندر شیکھر کی پراسرار خودکشی کے بعد جموں یونیورسٹی حکام کے خلاف احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ شروع ہوا۔بھیم آرمی کے ارکان نے کیمپس کے باہر جمع ہوکر خودکشی کے خلاف احتجاج کیا اور جموں و کشمیر پولیس کی خصوصی تحقیقاتی ٹیم (SIT) کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقات پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے منصفانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا۔مظاہرین نے پراسرار خودکشی کیس کے لیے انصاف کا مطالبہ کیا اور الزام لگایا کہ شکایات کی تعداد 22 سے کم ہو کر پانچ ہو گئی ہے حالانکہ سرکاری طور پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی۔انہوں نے الزام لگایا کہ شکایات کے بعد ذہنی طور پر ہراساں کرنے والے اہلکاروں کو بچانے کے لیے ثبوت ہٹانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے یونیورسٹی میں ان عہدیداروں کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔اس دوران خواتین کا ایک گروپ بھی کیمپس کے گیٹ کے باہر نمودار ہوا اور وہ مقتول پروفیسر کے حق میں احتجاج میں شامل ہو گئیں۔قبل ازیں آل جموں و کشمیر دلت چیتنا منچ کے صدر شام لال باسن نے کیمپس کے داخلی دروازے کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا اور یونیورسٹی حکام کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔ باسن نے واقعات کی سی بی آئی جانچ کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جنسی ہراسانی کے واقعات میں کئی دہائیاں گزر چکی ہیں لیکن اس معاملے میں دو دن کے اندر انہیں معطل کر دیا گیا اور شکایات کے بعد کارروائی کی گئی۔انہوںنے کہا”یہ ایک کوشش تھی کہ ان کی جگہ کسی اور کو سائیکالوجی ڈیپارٹمنٹ میں تعینات کیا جائے۔ انصاف ہونا چاہئے”۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ یہ انہیں بدنام کرنے کی سازش تھی جس کی وجہ سے خودکشی کی گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
شعبہ نفسیات کے ایسوسی ایٹ پروفیسرکی پراسرار خودکشی