ٹوکیو اولمپکس میں نیرج چوپڑا نے طلائی تمغہ جیت کر جو تاریخ رقم کی ہے، اس سے پورا ملک فخر محسوس کر رہا ہے۔اولمپکس کی تاریخ میں یہ پہلی بار ہے جب بھارت نے ایتھلیٹکس میں طلائی تمغہ جیتا ہے۔ دراصل اولمپکس میں ملک کی نمایندگی کرنا کسی بھی کھلاڑی کا سب سے بڑا خواب ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ تمام ریاستیں اس بات کی کوشش کرتی ہیں کہ زیادہ سے زیادہ کھلاڑی اس کی ریاست سے ہوں اور ملک کا نام روشن کریں۔اس کے لئے وہ کھلاڑیوں کی فٹنس اور ان کی ٹرینگ پر خاص توجہ مرکوز کرنے کے ساتھ ساتھ تمام سہولیات سے آراستہ اسٹیڈیم کی تعمیر پر بھی زور دیتی ہے تاکہ نوجوانوں کی نئی نسل بھی زیادہ سےزیادہ کھیلوں کی طرف راغب ہو اور نئے کھلاڑی تیار کیے جا سکیں۔لیکن افسوس کی بات ہے کہ جہاںکچھ ریاستیں اس جانب خاص توجہ دیتی ہیں وہیں کچھ ریاستوں کی بے حسی کی وجہ سے بہت سےاچھے اور باصلاحیت کھلاڑی ہونے کے باوجود وہ اپنی صلاحیت کا مظاہرہ نہیں کر پا رہے ہیں۔
جموں و کشمیرکے ایک ایسے ہی علاقہ کا ذکر کرتے ہیں جہاں اب تک کوئی آوٹ ڈور اسٹیڈیم دیکھنے تک کو نہیں ملاہے۔میری مراد ضلع پونچھ کی تحصیل منڈی سے ہے۔ منڈی سے وابستہ جتنے بھی علاقے ہیں ،یوں تو بہت ساری سہولیات سے محروم ہیں۔لیکن یہاں صرف کھیلوں سے جڑی ہوئی نوجوانوں کو درپیش مشکلات پر ہی اکتفا کروں گا۔یہاں کے نوجوانوں سے جب اس سلسلے میں بات کی گئی تو شبیر احمد نامی ایک 28سالہ نوجوان نے اسے زیادتی اور نا انصافی سے تعبیر کیا۔اس جوان نے مزید کہاکہ بہت سے جوان جو کھیلوں میں دلچسپی رکھتے ہیں اور جو زمینی سطح سے اٹھ کر قومی سطح تک جانے کا خواب دیکھتے ہیں۔ انکے ساتھ روا رکھا جانے والا سلوک نا قابل ذکر ہے،کیوں کہ ان نوجوان کھلاڑیوں کے جذبات اس وقت مجروع ہوجاتے ہیں جب ان کو نہ ہی کھیلنے کے لئے کوئی جگہ مل پاتی ہے اور نہ تربیت کے لئے قرب و جوار میں کوئی ایساکھیل کا میدان ملتاہے۔جہاں پر اپنی صلاحیتوں کو بروے کار لایا جا سکتا۔
منڈی میں اگر آپ کوئی چھوٹا سا کھیل کا میدان بھی ڈھونڈنے نکلیں اور لورن اور ساوجیاں کی آخری حدود تک بھی چلے جائیں تو آپ کو صرف نا کامی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ یہ یہاں کے گزشتہ حکمرانوں کے تئیں ان نوجوانوں کے ساتھ روا رکھنے والا ناروا سلوک کہیں یا پھر منڈی کے نوجوانوں کی بدقسمتی سے تعبیر کریںیاپھر یہاں کی سادہ لوح عوام کی کم فہمی ہی کہہ لیں۔ یہاں کے نو جوان کھیلوں میں اپنی ہنر آزمانے سے اب تک محروم ہیں۔اگر توجہ دی گئی ہوتی،سہولیات فراہم کی گئی ہوتی تو یقیناً یہاں کے جوان بھی قومی اور بین الااقوامی سطح پر اپنے ہنر کے جوہر اور کمالات دکھا رہے ہوتے۔لیکن حقیقت اسکے بر عکس ہے۔آج بھی اگر آپ دیکھیں تو بہت سی نا مناسب جگہوں پر بچے اور جوان اپنے کھیل کھیلتے دکھائی دیں گے۔کہیں دریا کے کناروں پر ان گنت پتھروں کے بیچ کھیل کھیلا جا رہا ہے تو کہیں کہیں اسکولوں کے صحن میں بچے اپنے ہنر کا مظاہرہ کرتے نظر آئیںگے۔آہ کتنی عجیب بات ہے کہ آج کے اس جدید دور میں یہاں کی حالت اتنی خستہ ہے۔جہاں کھیلنے کو ایک چھوٹا سے میدان بھی نہ دیا گیا ہو تو آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ استحصال کا پیمانہ کیا رہا ہوگا؟
ہمارے نوجوان ابھی تک آؤٹ ڈور کھیلوں میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے 20 کلو میٹر کا سفر طے کر کے شہر پونچھ جاتے ہیں۔ اگر بات منڈی سے بھی دور دراز علاقوں یعنی لورن ساوجیاں کی جائے تو یہ سفر 40 کلو میٹر سے بھی تجاوز کر جاتا ہے۔ستم ظریفی یہ کہ ابھی بھی نہ آؤٹ ڈور کھیلوں کے لیے کوئی مثبت لائحہ عمل تیار کیا گیا ہے اور نہ ہی ان کھیلوں کے لیے کوئی اسٹیڈیم یا گراؤنڈ فراہم کرنے کی کوئی مثبت کوشس ہی کی گئی۔ اس بات کو منڈی کے بلاک ڈویلپمنٹ چیئرمین شمیم احمد گنائی نے بھی شدت کے ساتھ محسوس کیاہے۔وہ کھیلوں کو فروغ دینے کے لئے بڑی کد وکاوش کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔یہاں کے جوانوں کو انڈور اور آوٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی کے تئیںبڑے پیمانے پر انکی کاوشیں رنگ لا رہی ہیں۔یہ انہی کی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ اب منڈی سے کوئی دو کلو میٹر دور گاؤں کرڑؔاں میں انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر کا کام جاری ہے۔
اس سلسلے میں جب ہم نے بلاک ڈویلپمنٹ چیئرمین شمیم احمد گنائی سے بات کی تو انہوں نے بتایا کہ انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر اور منظوری کے لیے انہوں نے بڑی جانفشانی کے ساتھ کام کیا اور اس سلسلے میں کئی بار راجدھانی دلی کے چکر بھی کاٹے۔انہوں نے بتایا کہ انتھک کاوش کے بعد ہمارے انڈور اسٹیڈیم کے مطالبات کو منظوری دی گئی ہے۔انہوں نے مزید گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ اس انڈور اسٹیڈیم کو تین کروڑ 85 لاکھ روپیے کی لاگت کے ساتھ تیار کیا جا رہا ہے۔انہوں نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر کا کام اب آخری مرحلے میں ہے اور بہت جلدی یہاں کے نوجوان اور ہنر مند بچے اپنے فن کا مظاہرہ کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔انڈور اسٹیڈیم کی تعمیر سے یہاں کے نوجوان خوشی اور مسرت کا اظہار کررہے ہیں۔ یہ اسٹیڈیم اس دور دراز علاقے میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لیےکافی فایدہ مند ثابت ہوگا،لیکن جہاں انڈور کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوان اس اسٹیڈیم کی تعمیر سے خوش ہیںوہیں آؤٹ ڈور کھیلوں میں دلچسپی رکھنے والے نوجوانوں میں مایوسی چھائی ہوئی ہے۔کیونکہ انہیں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے لئے کوئی مناسب اور چھوٹا سا گراؤنڈ بھی دستیاب نہیں۔تاہم تعمیر ہو رہے انڈور اسٹیڈیم کو دیکھ کر ان کی سوئی ہوئی اُمیدیں بھی جاگ اٹھی ہیں۔وہ یہ چاہتے ہیں کہ جس سطح پر انڈور کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے اسٹیڈیم کی منظور ی کا کام کیاگیا ہے،اسی طرح بڑے پیمانے پر آوٹ ڈور کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے بھی گراؤنڈ یا اسٹیڈیم کا بندوبست کیا جائے،تاکہ یہاں کے نوجوان بھی قومی اور بین الااقوامی سطح پر منعقدہ کھیلوں میں اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکیں اور ملک کے لئے فخریہ کام کرسکیں۔(چرخہ فیچرس)
پتہ۔ منڈی،پونچھ