مینڈھر//سب ڈویژن مینڈھر کی سرحدی تحصیل بالاکوٹ کی پنچائت دھراٹی کی وارڈ نمبر 3تمام بنیادی سہولیات سے محروم ہے ۔علاقہ کے لوگوں نے انتظامیہ کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وارڈ نمبر 3تکھ دھراٹی کے اندر چالیس سے زائد گھر ہیں جو بنیادی سہولیات سے کوسوں دور ہیں ۔انکا کہنا ہے کہ یہ وارڈ تار بندی سے باہر اور راجواری کی سرحد پر واقع ہے جسکی وجہ سے انتظامیہ کی نظروںسے اوجھل ہے۔ انکا کہنا تھا کہ علاقہ میںپانی کا نام و نشان ہی نہیں ہے اور کئی کلومیٹر دور سے خواتین کو پانی لانا پڑتاہے جبکہ سڑک بھی گاڑیوں کی آمد ورفت کے قابل نہیں ہے۔ انہوں نے محکمہ جل شکتی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پانی کی ایک لفٹ سکیم سو سے دھراٹی کا کام کئی برسوں سے چل رہاہے اور ایک ٹینک بھی بناہے جسکے بعد کام سست رفتاری سے چل رہاہے اور لوگ پانی کی بوند بوندکوترس رہے ہیں ۔انکا کہنا تھا کہ لفٹ سکیم کا کام تیزی سے کیا جائے تاکہ لوگوں کو پینے کا پانی مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سڑک تھاپنی امیر پور سے پرائمری اسکول تکھ تک 2012-13میں جس کا کام شروع ہواتھا زمینی سطح کا کام کرنے کے بعد اس کو چھوڑ دیا گیا اور اب وہ سڑک زمینی سطح پر نظر ہی نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کچھ ماہ قبل سڑک کا ٹینڈر ڈالاگیا تھا لیکن متعلقہ ٹھیکیدار کوئی کام اس وقت تک شروع نہیں کیا گیا جس کی وجہ سے لوگوں کو مزید پریشانی کا سامناکرنا پڑ رہاہے ۔انکا کہنا تھا کہ سب سے زیادہ پریشانی لوگوں کو اسلئے آرہی ہے کہ یہ وارڈ راجوری کی سرحد پر اکیلی واقع ہے باقی تمام وارڈیں تار بندی کے اندر ہیں۔ انہوں نے مزیدکہا کہ بجلی تو ہمیں راجوری کی طرف سے دی گئی ہے لیکن ضلع پونچھ کے اعلی آفیسران نے ہمیں نظروں سے اوجھل رکھا ہواہے جس کی وجہ سے لوگ بنیادی سہولیات سے بہت دور ہیں۔ بچوں کیلئے محکمہ تعلیم نے صرف ایک پرائمری سکول کھولا ہواہے جس کے بعد بچوں کو کئی کلومیٹر دور جاکر اپنی تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے اپیل کی کہ ہمیں بنیادی سہولیات دی جائیں تاکہ لوگوں کو کسی بھی قسم کی پریشانی کا سامناکرنا نہ پڑے ۔